دنیا کی وہ جگہ جہاں سینکڑوں مسلمان روزانہ عیسائیت قبول کررہے ہیں، انتہائی شرمناک وجہ بھی سامنے آگئی

دنیا کی وہ جگہ جہاں سینکڑوں مسلمان روزانہ عیسائیت قبول کررہے ہیں، انتہائی ...
دنیا کی وہ جگہ جہاں سینکڑوں مسلمان روزانہ عیسائیت قبول کررہے ہیں، انتہائی شرمناک وجہ بھی سامنے آگئی

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) جنگ اور فاقوں کے ستائے ہوئے مسلمانوں کا اپنے وطن چھوڑ کر یورپ کی طرف ہجرت کرنا ایک عرصے سے جاری ہے لیکن حال ہی میں یہ افسوسناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان میں سے سینکڑوں ایسے بھی ہیں کہ جو یورپی شہریت حاصل کرنے کیلئے اپنا مذہب تبدیل کر رہے ہیں۔

اخبار ڈیلی میل کے مطابق اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس طرح وہ ڈیپورٹ ہونے کے خطرے سے بچ جائیں گے کیونکہ اکثر اسلامی ممالک میں مذہبِ اسلام تر ک کرنے والوں کیلئے سخت ترین سزائیں متعین ہیں۔ یورپی امیگریشن قوانین کے مطابق اگر کسی پناہ گزین کو جان کا خطرہ ہو تو اسے اس کے ملک واپس نہیں بھیجا جاسکتا۔ چرچ آف انگلینڈ کے مذہبی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ پناہ گزین قانون میں موجود اسی سقم کو استعمال کرتے ہوئے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر رہے ہیں تاکہ انہیں ان کے ممالک واپس نہ بھیجا جائے۔

’ایرانی لڑکیوں کی اس شرمنا ک حرکت کی وجہ سے دنیا میں پانی ختم ہو رہاہے‘

سینئیر پادری ڈاکٹر پیٹر ولکاکس ڈین آف لیور پول کہنا تھا کہ ان کے چرچ میں دوسو مسلمان عیسائیت قبول کر چکے ہیں۔ انہوں نے سنڈے ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر پناہ گزین اپنے بچوں کوبپتسمہ دلواتے ہیں تاکہ انہیں بپتسمہ کا سرٹیفکیٹ مل جائے اور ان کیلئے ڈیپورٹیشن کا خطرہ باقی نہ رہے۔

رپورٹ کے مطابق لیور پول کے ایلم پینٹی کوسٹل چرچ میں اب تک تین سو مسلمان اپنا مذہب ترک کے عیسائیت قبول کر چکے ہیں ،جبکہ ان میں سے تقریباً 100 نے ترکِ مذہب کو شہریت کے حصول کیلئے استعمال کیا۔ گزشتہ ماہ جرمنی کے شہرہیمبرگ میں بھی 80 مسلمانوں کے عیسائیت قبول کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان کا تعلق ایران اور افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔ چرچ آف انگلینڈ نے اس حوالے سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا کہ عیسائیت کا دروازہ سب کیلئے کھلا ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی پسِ منظر ، طبقے، قومیت ، جنس یا عمر سے ہو۔

مزید : ڈیلی بائیٹس