کینیڈا کی مسجد میں ایک ایسا ’کمرہ‘ بنادیا گیا کہ جان کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے پیروں تلے زمین نکل جائے

کینیڈا کی مسجد میں ایک ایسا ’کمرہ‘ بنادیا گیا کہ جان کر دنیا بھر کے مسلمانوں ...
کینیڈا کی مسجد میں ایک ایسا ’کمرہ‘ بنادیا گیا کہ جان کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے پیروں تلے زمین نکل جائے

  



اوٹاوا (مانیٹرنگ ڈیسک) مغرب میں جہاں ایک طرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف علی الاعلان جنگ جاری ہے وہیں ایک ایسی مہم بھی جاری ہے کہ جس کا مقصد غیر محسوس طریقے سے اسلامی تشخص اور عقیدے کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دینا ہے۔ اسی مقصد کے تحت متعدد مغربی ممالک میں ایسی مساجد قائم کی جارہی ہیں کہ جو ہماری روایتی مساجد سے بہت مختلف نظر آتی ہیں۔

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں قائم کی جانے والی یونٹی مسجد بھی ایک ایسی ہی مثال ہے۔ اس مسجد کے منتظم الفاروق خاکی کا کہنا ہے کہ یہاں ایک ایسا گوشہ دستیاب ہے کہ جس کے اندر مرد بھی جاتے ہیں، خواتین بھی، خواجہ سرا بھی، ہم جنس پرست بھی اور حتیٰ کہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی ۔ اس جگہ جمع ہونے والے لوگ بظاہر تو عبادت کی غرض سے آتے ہیں لیکن عورت مرد کے اختلاط میں کوئی رکاوٹ ہے اور نہ پردے کی کوئی شرط۔ بظاہر عبادت کے لئے آنے والوں کا میل جول بھی اس نوعیت کا ہوتا ہے کہ جسے شائستگی کی حدود سے تجاوز قرار دیا جاسکتا ہے۔

تین خواتین کا برقع پہن کر ایسا کام کہ دیکھ کر ہر مسلمان کو غصہ آجائے گا

ا لفاروق خاکی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ ان کی عبادت گاہوں میں خواتین اور کچھ دیگر طبقات کو جانے کی اجازت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس تاثر کو تبدیل کرنے کے لئے ایک ایسی مسجد کی بنیاد رکھی ہے کہ جہاں ناصرف خواتین آسکتی ہیں بلکہ خواجہ سرا بھی آسکتے ہیں اور ہم جنس پرستوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کینیڈا میں اسی طرح کی مزید مساجد قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس