عائشہ ممتاز کے ساتھ پنجاب کی بیوروکریسی کا ایسا سلوک کہ جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

عائشہ ممتاز کے ساتھ پنجاب کی بیوروکریسی کا ایسا سلوک کہ جان کر آپ کو بھی شدید ...
عائشہ ممتاز کے ساتھ پنجاب کی بیوروکریسی کا ایسا سلوک کہ جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

  



لاہور(سٹاف رپورٹر) پنجاب بالخصوص صوبائی دارالحکومت کے رہائشیوں کو ناقص خوراک اور دیگر اشیاءخورد و نوش سے بچانے کے لئے سرگرم عمل پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سربراہ عائشہ ممتاز با اثر تنظیموں اور مفاد پرست اعلیٰ حکام کی پسند نا پسند اور بے جا مداخلت کی باعث عملاً غیر فعال ہو کر رہ گئی ہیں۔ کئی کیسوں اور متعدد انکوائریوں کے باعث ریسٹورنٹ بڑی بڑی فیکٹریوں سمیت عالمگیر شہرت کی حامل فوڈ پوائنٹس پر چھاپوں کا سلسلہ بھی با امر مجبوری روک دیا گیا ہے اورعالمی سطح پر شہرت پانے والی جرات مند خاتون سرکاری افسر اب محض مشروبات کی چیکنگ تک محدود کر دی گئی ہیں جس پر شہریوں کو ناقص ،مضر صحت اور جعلی اشیاءخورد و نوش فروخت کرنے والے ادارے تاجر تو یقیناً بغلیں بجا رہے ہیں لیکن اس جبری پابندی سے عام شہریوں کو خالص خوراک کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ دم توڑتی جا رہی ہے ۔

اس حوالے سے فوڈ اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جس ادارے یا شعبہ میں یونین قائم ہے ان کے ممبران حفظان صحت کی جس قدر بھی دھجیاں اڑائیں انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ یونین بازی کے اس نظام نے عائشہ ممتاز کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں اور کبھی مال روڈ پر دھرنوں کی شکل میں اور کبھی احتجاج کے نام پر عوام کو مضر صحت اشیاءاور ملاوٹ شدہ فروخت کرنے والوں نے اعلیٰ حکام کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ فوڈ اتھارٹی کی سربراہ کو ان کے جرات مندانہ اور رندانہ کردار سے باز رکھیں ۔جس پر پنجاب کے دو سیکرٹریوں نے خاتون افسر کو اپنا کردار محدود کرنے کا حکم دیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری خوراک اور صحت نے عائشہ ممتا زکو کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے سے روک دیا ہے ۔اس کردار کو محدود کرنے کی وجہ خاتون افسر کی عوامی پذیرائی ہے لیکن صوبے کی بیوروکریسی کو یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں لگی اور ان کے پرکاٹتے ہوئے انہیں محض مشروبات کی چیکنگ تک محدود کردیا گیا ہے۔

ان کے خلاف 6 سات انکوائریاں بھی شروع کر دی گئیں اور بعض تاجر تنظیموں کی جانب سے عدالتوں میں بھی کیس کئے گئے ۔مضر صحت اشیاءکے خلاف تشہیر کو تو مکمل طور پر روک دیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عائشہ ممتاز کو سختی سے انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ میڈیا پر کسی قسم کی گفتگو نہ کریں ۔

مزید : لاہور