واٹر بورڈ نے فرنیٹئر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ K-VIمنصوبے پر دستخط کر دئے

واٹر بورڈ نے فرنیٹئر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ K-VIمنصوبے پر دستخط کر دئے

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی واٹر بورڈ اینڈ سیوریج بورڈ نے فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن FWO) (کے ساتھ 15.254ارب روپوں کے K-IV واٹر سپلائی منصوبے کے پہلے پیکیج کے معاہدے پر دستخط کرلئے ہیں جس کے تحت کراچی شہر کو 260ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جائیگا۔دستخطی تقریب وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ مہمان خصوصی تھے انکے علاوہ تقریب میں صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات) محمد وسیم ، ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین ، KWSBکی طرف سے پروجیکٹ ڈائریکٹر سلیم صدیقی نے معاہدے پر دستخط کئے اور FWOکی طرف سے برگیڈیئر وسیم نے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ وہ معاہدے کی دستخطی تقریب منعقد ہونے پر وہ بہت خوش ہیں کیونکہ اس سے 2007میں تجویز کیئے گئے K-IV منصوبے کی تمام کاغذی کاروائیاں مکمل ہو چکی ہیں اور اب تعمیری کام شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر کی آبادی بے پنا ہ حد تک بڑھ چکی ہے اور افغانستان ، برما ، بنگال ، شمالی علاقوں اور دیگر علاقوں سے لوگ یہاں آکر رہنے لگے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی کچی آبادیوں اور نالوں کے آس پاس آبادیاں قائم ہو چکی ہیں اور اب شہر کی آبادی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آبادی کے اس قدر دباؤ کے نتیجے میں 400سے 450ایم جی ڈی یومیہ پانی کی ضرورت رکھنے والے اس شہر کی اب یومیہ پانی کی ضرورت 1100ایم جی ڈی تک پہنچ چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو، نے مستقبل کی پانی و بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت سارے منصوبے بنائے تھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے نام نہاد جمہوریت اور ترقی کے علمبرداروں نے محترمہ کے منصوبوں کو خارج کر دیا تھا اور آج ملک کے شہری ان نام نہاد علمبرداروں کے غلط اور غیر حقیقی فیصلوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر برائے بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ K-IVپروجیکٹ انکے دورِ وزارت میں شروع ہو رہا ہے اور وہ اس کو کراچی کے شہریوں کی عظیم خدمت سمجھتے ہیں ۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے بھی اس موقع پر تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ K-IVمنصوبے سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں انقلابی حد تک بڑھ جائینگی ۔ واضح رہے کہ K-IVمنصوبے کی کل لاگت 25ارب روپے ہے جبکہ 15.254ارب روپوں کے پہلے فیز میں اسٹکچر ، کینال ، کنورٹرز اور دیگر کام شامل ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر