جے آئی ٹی کاپاکستان میں قطری شہزادوں کے کاروبارکی تحقیقات کا فیصلہ

جے آئی ٹی کاپاکستان میں قطری شہزادوں کے کاروبارکی تحقیقات کا فیصلہ

اسلام آباد ( آن لائن ) نوازشریف اوران کے خاندان کے خلاف مجرمانہ تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے پاکستان میں قطری شہزادوں کے کاروبار کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

اس مقصدکیلئے نیشنل ہائی ویزاتھارٹی سے بھی موٹروے ایم 2پر کلرکہار کے نزدیک ایشیاء کا بلند ترین پل تعمیر کرنے بارے مفصل ریکارڈطلب کیا جارہا ہے، ایم ٹو اسلام آباد لاہور موٹر وے پر متعدد بڑے پلوں کی تعمیر قطر کے شاہی خاندان کی ملکیتی کمپنیوں نے کی تھیں ان تعمیراتی کاموں کا ٹھیکہ نوازشریف دور حکومت میں قطری شاہی خاندان کو دیا گیا تھا، جب نوازشریف قطری خاندان کو پاکستان میں اربوں روپے مالیت کے منصوبوں کے ٹھیکے دیئے تو انہی ادوار میں لندن میں نوازشریف نے مے فیئر فلیٹس بھی خریدے تھے جنکے بارے میں قطری شہزادہ حامد الثانی نے ایک خط کے ذریعے سپریم کورٹ آف پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ ان خاندان کی ملکیت کے فلیٹس کی رقم قطر شاہی خاندان نے اداکی ہے۔

آن لائن ذرائع نے بتایاہے کہ جے آئی ٹی نے موٹر وے پرپلوں کی تعمیر کے بارے میں این ایچ اے سے تمام متعلقہ ریکارڈطلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مجوزہ ریکارڈ کی روشنی میں این ایچ اے کے سابق چیئرمین جنرل (ر) ہدایت اللہ خان نیازی کا بیان بھی قلمبند لائے جانے کا امکان ہے۔ جب قطری خاندان کو پلوں کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا تھا اس وقت این ایچ اے کے چیئرمین جنرل (ر) ہدایت اللہ تھے جن کا تعلق میانوالی سے ہے اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے قریبی رشتہ دار بھی بتائے جاتے ہیں۔

قطری شہزادہ نے پاکستان میں آنے سے انکار کردیا تھا جبکہ جے آئی ٹی نے پاکستان میں قطری شہزادوں کے کاروبار کی تمام متعلقہ تفصیلات بھی طلب کرکے تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جے آئی ٹی اس بات کاپتہ لگانا چاہتی ہے کہ آیا نوازشریف نے لندن میں فلیٹس قطرے خاندان سے کک بیک کے ذریعے تو نہیں لئے تھے۔

مزید : اسلام آباد