جب وہ ’’رخصت ‘‘ ہوا ، تب یاد آیا

جب وہ ’’رخصت ‘‘ ہوا ، تب یاد آیا
 جب وہ ’’رخصت ‘‘ ہوا ، تب یاد آیا

  



اپنے ذہن پر بہت زور ڈالا، یاد داشت کے سمندر میں کئی بار غوطہ لگایا، لیکن ڈاکٹر ایم اے صوفی سے پہلی بار ملاقات کب اور کہاں ہوئی؟ یہ بات واضح نہ ہوسکی۔ بات واضح ہوتی بھی کیسے، اس بارے میں جب بھی سوچا، ڈاکٹر صوفی کا بھرپور اور مخصوص قہقہہ ذہن میں گونجنے لگتا۔ سچی بات یہ ہے کہ پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے لگایا جانے والا قہقہہ ان کی پہچان بن گیا تھا۔ وہ کسی بھی محفل میں آتے تو دعا سلام کے مرحلے میں ہی کسی نہ کسی بات پر ایک عدد بھرپور قہقہہ لگا کر بتادیا کرتے تھے کہ ڈینٹسٹ ڈاکٹر ایم اے صوفی محفل میں آن پہنچے ہیں، ان سے ملنے کا شوق دل میں پالنے والو! اپنا شوق پورا کرلو۔ محفل میں فلاں مقام پر ہوں‘‘۔ ڈاکٹر صوفی سوشل لائف میں بہت زیادہ ’’ اِن ‘‘ تھے۔ بیحد ملنسار، انتہائی خوش اخلاق اور محفل باز بھی تھے۔ پہلی یادوسری بار ملنے والوں کو بھی ہنسنے اور قہقہہ لگانے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ شرکائے محفل ان کی ہنسی یا قہقہے کا نوٹس لیں، وہ اپنی ہنسی کے پھول کھلانے اور قہقہوں سے محفل کو پررونق بنانے کے مشن کو پورا کرتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی وہ کہا کرتے تھے کہ میں ڈینٹسٹ ہوں۔ میرا اپنے ملنے والوں کے دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماری سے آگاہ رہنا ضروری ہے۔ میں اپنے دوستوں کو بار بار بتیسی نکال کر ہنسنے اورجی کھول کر قہقہے لگانے پر مجبور اس لئے کرتا ہوں کہ مجھے معلوم ہو جائے، کس کے دانتوں میں تکلیف ہے اور کس کے مسوڑھے خراب ہیں۔

انہیں یہ کمال حاصل تھا کہ وہ جن لوگوں کے درمیان ہنسی کی پھلجھڑیاں بکھیرتے یا جنہیں اپنے قہقہوں کی گونج سے متوجہ کرنے کی کوشش کرتے، ان میں سے اگر ایک دو خواتین یا حضرات پوری طرح نوٹس نہ بھی لیتے تو ڈاکٹر صوفی اپنا کام جاری رکھتے۔ ان کی جملے لطیفے میں زیادہ ہنسی والی بات نہیں بھی ہوتی تھی تو وہ خود ہی ’’لطف‘‘ لینے کے انداز میں ہنستے رہتے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ انہوں نے جو لطیفہ سنایا، وہ مزیدار نہیں تھا لیکن ڈاکٹر صاحب ہنستے ہوئے اپنے قریب کھڑے لوگوں سے گلے ملنے یا ان کے دونوں ہاتھوں کو بار بار دبا کر انہیں بھی اپنی ہنسی اور قہقہے میں شامل کرلیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ یا ان کے رفقاء سے متعلق باتیں کررہے ہوتے یا مسلم لیگ کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہوتی، وہ شرکا میں سے کسی کے ٹیڑھے میڑھے دانتوں کا ذکر کچھ اس طرح کرتے کہ ان کی منظر کشی پر سبھی ہنسنے پر مجبور ہو جاتے۔ دوستوں کی ایک سنجیدہ محفل تھی، فضا خاموش تھی۔ ڈاکٹر صوفی نے اچانک زور دار قہقہہ لگا کر سب کو اپنی جانب متوجہ کرلیا اور پھر اپنی پتلون کا پائنچہ اٹھا کر بتایا کہ آج میں نے جلدی اور افراتفری میں ایک جراب الٹی پہن رکھی ہے۔ ہے ناں ہنسنے والی بات کہ عین جوانی میں ڈاکٹر صوفی سٹھیا گیا ہے، ستریا بہتر سال کے بوڑھوں جیسی حرکتیں کرنے لگا ہے۔ یہ بات انہوں نے کئی بار اپنے ملنے والوں کوبتائی کہ انسان کوسے زیادہ وقت خوش رہتے ہوئے گزارنا چاہئے۔ لوگوں کوخوش کرنا ان کے چہرے پر ہنسی لانا یا انہیں قہقہہ لگانے پر مجبور کردینا میرا مشن ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک بے ساختہ اور بھرپور قہقہہ انسان کے لئے طبی لحاظ سے بھرپور ٹانک ہوتا ہے۔

تحریک پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے حوالے سے سینئر صحافی محترم مجید نظامی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔ وہ اپنے بیشتر مضامین روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں شائع کرواتے تھے۔ علمی اور فکری تقریبات میں وہ بطور خاص شرکت کیا کرتے تھے۔ جب موقع ملتا وہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کھل کر کیا کرتے تھے۔ مجید نظامی عام طور پر سنجیدہ رہا کرتے تھے لیکن ڈاکٹر صوفی کا قہقہہ ان کے ساتھ گفتگو کے دوران میں بھی سننے کو مل جاتا تھا۔ نظامی صاحب کی محفل میں اپنے قہقہے کے بارے میں ڈاکٹر صوفی کی دلیل یہ ہوا کرتی تھی کہ انسان کو کبھی کبھی ’’ فری‘‘ بھی ہونا چاہئے۔ نظامی صاحب بھی مسکراتے ہوئے کوئی اعتراض نہیں کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر ایم اے صوفی کو تحریک پاکستان ، نظریہ پاکستان، قائد اعظمؒ ،مادرِ ملتؒ اور دیگر قومی اور تاریخی شخصیات کے ساتھ جذباتی وابستگی یونہی نہیں تھی۔ ان کا بچپن اور لڑکپن اس ماحول میں گزرا تھا، جس کے اثرات ان پر تمام عمرموجود رہے۔ ان ہی اثرات نے ان کی فطرت ثانیہ بن کر انہیں ایک منفرد شخصیت کے طور پر متحرک رکھا۔ ان کا تعلق ہری پور ہزارہ سے تھا۔ ان کا خاندان قائد اعظمؒ مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے حوالے سے سرگرم رہتا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر صوفی ننھے مقرر کے طور پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) کی تقریبات میں شریک ہوا کرتے تھے۔ وہ ذرا بڑے ہوئے تو تحریک پاکستان کے پلیٹ فارم پر کام کرتے رہے۔ 1946ء کے تاریخی انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگی امیدواروں کو کامیاب بنانے کے پوری لگن سے کام کیا۔ وہ مسلم لیگ نیشنل گارڈز کے سالار اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے باڈی گارڈ بھی رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے مہاجرین کے قافلوں کی دیکھ بھال اور آباد کاری کے لئے خود کو وقف کر دیا تھا۔ وہ خود کو قائد اعظم اور مادر ملت کا ادنیٰ سپاہی کہا کرتے تھے۔ اسی حوالے سے وہ زندگی بھر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی خدمات پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی جانب سے انہیں گولڈ میڈل دیا گیا۔

ڈاکٹر ایم اے صوفی نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر بھی پوری توجہ دی۔ میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ پشاور یونیورسٹی سے فیکلٹی آف سائنس ایف سی میڈیکل کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ کالج آف کمیونٹی میڈیسن لاہور میں پڑھاتے رہے، کچھ عرصے کے لئے اس ادارے کے پرنسپل بھی رہے۔ لاہور شفٹ ہونے سے پہلے ان کی شادی ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اولاد کی نعمت سے بھی نوازا۔ وہ خوش قسمت تھے کہ بیگم صاحبہ ان کی ہم مزاج تھیں۔ وہ بھی ڈاکٹر تھیں۔ یوں ڈاکٹر صوفی پر سکون اور پر اعتماد زندگی بسر کر رہے تھے۔ مختلف تقریبات میں ہماری ان سے سلام دعا ہوتی رہتی تھی۔ ہم نے انہیں ہمیشہ خوش مزاج اور خوش اخلاق ہی پایا۔ لاہور میں قیام پذیر ہوئے تو کچھ عرصے تک شاہدرہ میں رہائش رکھی، بعد ازاں وہ نیلا گنبد میں کالج آف کمیونٹی میڈیسن کے ہاسٹل انچارج مقرر ہو گئے اور وہیں رہائش اختیار کر لی۔

اس زمانے میں ہم روز نامہ ’’امروز‘‘ میں رپورٹنگ کیا کرتے تھے۔ ہمارا دفتر ان کی رہائش گاہ کے قریب تھا۔ میوہسپتال چوک میں پی پی ایل بلڈنگ بہت معروف تھی کہ پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیر اہتمام روزنامہ ’’امروز‘‘ انگریزی روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ہفت روزہ ’’لیل و نہار‘‘ بڑی شان سے شائع ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صوفی اپنے مضامین ہمیں اشاعت کے لئے دے دیا کرتے تھے، جو تحریک پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے حوالے سے یا پھر دانتوں اور مسوڑھوں کو مختلف امراض سے بچاؤ سے متعلق ہوا کرتے تھے۔(جاری ہے)

مزید : کالم