وزیر اعظم کا جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا فیصلہ

وزیر اعظم کا جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا فیصلہ

پاناما پیپرز کی تفتیش پر سپریم کورٹ کے حکم سے مامور جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے وزیر اعظم نواز شریف کو 15جون کو تفتیش کے لئے طلب کیا ہے، جنہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کو حاصل تحفظات کا سہارا لئے بغیر پیش ہوں گے اور جو سوالات بھی ان سے پوچھے جائیں گے ان پر اپنا موقف پیش کریں گے جے آئی ٹی کے چیئرمین اور ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی جانب سے جے آئی ٹی کے آفس واقع فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں پیش ہونے کے لئے وزیر اعظم ہاؤس میں خط پہنچا یا گیا تھا خط میں انہیں اپنے ہمراہ متعلقہ ریکارڈ لانے کے لئے بھی کہا گیا کسی ماتحت ادارے کی جانب سے تحقیقات کے لئے اس طرح وزیر اعظم کو طلب کرنے کا یہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف اپنے دوسرے دورِ حکومت میں اور یوسف رضا گیلانی بھی بطور وزیر اعظم سپریم کورٹ میں پیش ہو چکے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں پیشی کسی انتظامی افسر کے روبرو پیش ہونے سے مختلف امر ہے، وزیر اعظم نواز شریف نے یہ فیصلہ قانون کی بالادستی اور عدلیہ کے حکم کے احترام میں کیا ہے ا ور اس کے برعکس رائے کو مسترد کردیا ہے سیاسی حلقوں نے اس فیصلے کو سراہا ہے اور اسے اداروں کی مضبوطی کے لئے احسن اقدام قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نواز جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہو چکے ہیں۔ ان سے طویل تفتیش کی گئی جو گھنٹوں پر محیط تھی وزیر اعظم کے دوست جاوید کیانی اور ان کے کزن طارق شفیع کے علاوہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد بھی جے آئی ٹی میں بیان ریکارڈ کراچکے ہیں، سعید احمد نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھ کر اپنے ساتھ دورانِ تحقیقات ہونے والے سلوک سے فاضل عدالت کو آگاہ کیا ہے حسین نواز نے تو عدالت سے باقاعدہ شکایت کررکھی ہے جس کی سماعت بھی آج ہونے والی تھی جے آئی ٹی نے سعید احمد سے جس طرح تفتیش کی بادی النظر میں اس سے تو ہین آمیز سلوک مترشح ہوتا ہے، ملک کے ایک وقیع ادارے کے سربراہ کو تفتیش سے پہلے پانچ گھنٹے تک انتظار کی اذیت سے گزارنے اور پھر بارہ گھنٹوں تک تفتیش کرنے میں کیا مصلحت پوشیدہ تھی یہ تو جے آئی ٹی کے فاضل ارکان ہی جانتے ہوں گے چونکہ ان سب کا تعلق تفتیشی اداروں سے ہے اس لئے عین ممکن ہے کہ اس طرح کارویہ ان کے نزدیک معمول کی حیثیت رکھتا ہو لیکن یہ اندازِ تفتیش ممکن ہے بعض جرائم کی تفتیش کے سلسلے میں مفید ہو لیکن کسی ایسے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جیسا کہ اس کیس میں مطلوب ہے دھمکی، دباؤ، ڈراوے اور ذہنی اذیت دینے کا یہ طریقہ کسی بھی طرح صائب نہیں کہا جاسکتا، شریف خاندان کے مخالف ماہرین قانون بھی اس طرزِ تفتیش کو پسندیدہ اور احسن خیال نہیں کرتے، اگر جاوید کیانی اور طارق شفیع کے بیانات کو سامنے رکھا جائے جو انہوں نے تفتیش کے مراحل سے گزرنے کے بعد دئے تو ان سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ تفتیش کو ایک خاص رخ پر لے جانے اور بعض مخصوص نتائج اخذ کرنے کے لئے ان لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بننے کی ترغیب و تحریص بھی دی گئی ہے اگر یہ درست ہے تو پھریہ نتیجہ نکالنا درست ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کے ضمن میں جن ارکان پر اعتراضات سامنے آئے تھے وہ اتنے غلط بھی نہیں تھے اور جو طریقِ کار اپنایا گیا تھا وہ محل نظر تھا۔ جے آئی ٹی کی شفاف تحقیقات کا تاثر اس اندازِ تفتیش سے مجروح ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

غالباً ایسی ہی اطلاعات کا نتیجہ ہے کہ پاکستان سٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے اور مارکیٹ میں حصص کی قیمتیں سترہ سو پوائنٹ تک گرگئیں جو گزشتہ کچھ عرصے سے تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں اور دنیا کی بڑی بڑی سٹاک مارکیٹوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اب وزیر اعظم اگر تفتیش کے لئے خود پیش ہونے کے لئے تیار ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں کسی قسم کے آئینی تحفظات کا سہارا نہیں لیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور اگر انہوں نے ایک اچھی روایت قائم کردی ہے تو اس کو مضبوط ہونا چاہئے اور آئندہ بھی ایسے بڑے لوگوں سے تفتیش میں کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے جوکسی نہ کسی قانون کا سہارا لے کر یا اپنے عہدے کا رعب دے کر نہ صرف تفتیش کا رخ موڑ دیتے ہیں بلکہ تفتیش کے کام میں رکاوٹیں بھی کھڑی کر دیتے ہیں ماضی میں ہم نے بارہا دیکھا کہ اگر کسی تفتیش کار نے کسی چھوٹے موٹے حکومتی عہدیدار سے بھی کسی سلسلے میں پوچھ گچھ کی تو اس نے اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر تفتیش کار کو دور دراز مقام پر ٹرانسفر کرا دیا یا پھر اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی، اول تو سرکاری افسروں نے کبھی ایسی جرات و جسارت کی ہی نہیں کہ وہ کسی مقتدر شخص کے خلاف کسی مقدمے کی تفتیش میں دور تک جائیں اور اگر کسی نے ایسا رسک لے لیا تو اسے نتائج بھی بھگتنا پڑے۔اس لحاظ سے موجودہ جے آئی ٹی بہت ہی خوش قسمت ہے کہ اس کے ارکان کو آزادانہ کام کرنے کا ماحول مُیسرہے۔ سوئس اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ نے (وزیراعظم) یوسف رضا گیلانی کو حکم دیا تھا کہ وہ آصف زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لئے خط لکھ دیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ حکم نہیں مانا بلکہ آخر وقت تک اس کی مزاحمت کرتے رہے اور آئین کی وہ تشریح کرتے رہے جو سپریم کورٹ مسترد کر چکی تھی اس بناء پر انہیں توہینِ عدالت کی سزا تو ہو گئی لیکن پھر اس کے بعد سوئس کیس کے متعلق کسی نے پوچھا کہ اس کا کیا بنا، آصف زرداری کی صدارت ختم ہوئے بھی چار سال ہو گئے پھراس کے بعد کبھی نہیں سنا کہ سوئس کیس کا معاملہ کہاں تک پہنچا، صدارتی تحفظ ختم ہونے کے بعد تو یہ مقدمہ چلایا جاسکتا تھا لیکن اس جانب پھر کسی نے توجہ نہ دی اور نہ آج تک معلوم ہے کہ اس کا کیا بنا ۔ بلکہ اب تو سوئس کیس بھولی بسری کہانی ہوگئی ہے جس کا کبھی تذکرہ بھی نہیں سُنا۔آج بھی بہت سے ایسے کیس ہیں جن کی تفتیش کسی نہ کسی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ حالانکہ قومی نقطہ نظر سے ایسے مقدمات بھی اہمیت کے حامل ہیں لیکن اس جانب تو جہ نہیں ہے، اب وزیر اعظم نواز شریف تفتیش کے لئے خود پیش ہو رہے ہیں تو اس اچھی روایت کو جاری رہنا چاہیے اور اس کا تقاضا ہے کہ آئندہ کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی کسی بھی قسم کی تفتیش سے ماورا نہ ہو۔اُمید ہے تفتیش کاروں کو گلگت بلتستان جیسے مقامات پر ٹرانسفر کرنے کی روایت آئندہ دھرائی نہیں جائیگی جو بھی تفتیش میں مطلوب ہوگا وہ وزیر اعظم نواز شریف کی طرح پیش ہو کر ہر طرح کے سوالات کے جواب دے گا۔

مزید : اداریہ