مشرق کا جنیوا؟ (2)

مشرق کا جنیوا؟ (2)
 مشرق کا جنیوا؟ (2)

  

حملے کے دوران بھی ایرانی پارلیمنٹ کا اجلاس جاری رہا۔ عمارت میں افراتفری تو دیکھنے میں آئی مگر دہشت گرد متعلقہ عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ چاروں حملہ آور بھی مارے گئے۔ ایرانی رہنما اپنی قوم کے مورال پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس حملے نے ایران پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایران میں شیعہ اکثریت میں ہیں اور غیر شیعہ آبادی زیادہ ترسرحدوں سے متصل علاقوں میں آباد ہے۔اس واردات پر غیر شیعہ آبادی بھی شیعہ آبادی کی طرح دکھ کا اظہار کر رہی ہے۔

اس کی مذمت کی جا رہی ہے اور دہشت گردوں سے لڑنے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مگر سیکورٹی کے متعلق سوالات اٹھائے جائیں گے۔ عراق اور افغانستان برسوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ شام میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازعہ سنگین صورتحال اختیار کر رہا ہے۔ گویا اس پورے خطے میں آگ لگی ہوئی ہے اور ایران کا واقعہ جلتی پر تیل کی صورت بھی پیدا کر سکتا ہے۔

مغربی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اس واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرے گا۔ مشکوک افراد کے خلاف کارروائیاں تیز تر ہو جائیں گی۔۔ اور ان مجرموں کو تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے گا جن کا اس واقعہ سے تھوڑا سا بھی تعلق ہوگا۔ ایک برطانوی اخبار نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ لندن کے واقعہ میں پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا ان سے تفتیش کی مگر کوئی ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ مگر ایران میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ مغربی میڈیا میں بہت سے مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ردعمل سے بے گناہ بھی نہیں بچ پائیں گے۔ ہمارے خیال کے مطابق ایسے مبصرین حقیقی معنوں میں جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں۔ لندن کے حملوں کے بعد برطانوی حکومت پر اپنا رویہ تبدیل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایک مبصر کی رائے کے مطابق مشرقی یورپ کے ممالک میں کم مسلمان ہیں اس لیے ان علاقوں میں دہشت گردی کی واردات نہیں ہوئی۔ کسی بھی علاقے میں مسلمانوں کی آبادی اور دہشت گردی کے واقعات میں تناسب تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر برطانوی حکمران اس انداز فکر کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر یورپ میں مسلمانوں کے لیے زیادہ کٹھن حالات کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

شاہ ایران کے دور میں ایران مغربی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرتا تھا اور اس نے اسے امریکی پولیس مین کا کردار دینے کی کوشش کی تھی مگر ایسی کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی جسے اس خطے کے عوام کی تائید حاصل نہ ہو۔ آج صدر امریکہ ایران کو للکار رہا ہے تو بھارتی صدر اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایسی صورت میں ایران کا کردار سوئٹزر لینڈ جیسا غیر جانب دار ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ایران اور عرب کی کشمکش نے تاریخ میں بڑے بڑے المیوں کو جنم دیا ہے۔ آج یہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تیسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہونے والا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ امید نہیں ہو سکتی کہ وہ جنگ کے خطرات کو کم کرنے میں کوئی کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ دارانہ معیشت کو جنگ نئی زندگی دیتی ہے۔ جنگ نہ ہو تو اسلحہ ساز کارخانے بند ہو جاتے ہیں۔ روسی صدر مسلمانوں کی محبت میں کسی جگہ امریکہ سے تصادم کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ تاہم وہ مسلمان ممالک کے درمیان تصادم کو روکنے کے لیے کوئی بڑا کردار ادا نہیں کریں گے۔ کیونکہ تصادم کی صورت میں انہیں روسی اسلحہ کی نئی مارکیٹ پیدا ہوتے ہوئے نظر آئے گی۔

یورپ کے لوگوں نے جنگوں کے عذاب بھگتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پرانے اور روایتی حریفوں کے ساتھ زندہ رہنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ یورپ کی قیادت مثبت کردار ادا کرنے کی خواہش تو کرے گی مگر ان کی کوششوں کا کوئی بڑا مثبت نتیجہ شاید برآمد نہ ہو۔ آج مسلمانوں میں اقبال یا جمال الدین افغانی جیسا کوئی راہنما نہیں ہے۔ کیا مسلمانوں کو ادراک نہیں ہے کہ وہ کس خوفناک تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ اس ضمن میں صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے اور مایوس ہونے سے پرہیز کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اﷲ کی رحمت سے بہرحال مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مگر عالمی حالات تیزی سے تصادم اور تباہی کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ آج دکھ کی بات یہ نہیں ہے کہ عالم اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ عالم اسلام خود اپنے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اور تہران کے اقوام عالم کا جنیوا بننے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔(ختم شد)

مزید : کالم