جے آئی ٹی میں وزیر اعظم کی طلبی

جے آئی ٹی میں وزیر اعظم کی طلبی
 جے آئی ٹی میں وزیر اعظم کی طلبی

  

پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے ’’میاں محمد نواز شریف، وزیر اعظم پاکستان، رکن قومی اسمبلی، وزیر اعظم ہاؤس، اسلامآباد،‘‘ کی طلبی کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ان سے استدعا کی گئی ہے کہ براہ مہربانی تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات ساتھ لائیں۔ پاکستان میں کس نے یہ تصور کیا تھا کہ وزیر اعظم کی کسی جے آئی ٹی میں طلبی بھی ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم تو بڑی بات ہے، صوبائی وزیر تک کسی بھی معاملے میں تفتیش کے لئے طلب کئے جانے کو اپنی ہتک تصور کرتے ہیں۔ شائد قدرت نے پاکستان کے معاملات کو کسی صحیح ڈگر پر ڈالنے کا کوئی موقع فراہم کیا ہے۔ تمام متعلقہ صاحبان کے علم میں ہے کہ پاناما کیس میں حقائق کی تلاش کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی ہے۔یہ ذمہ داری تو مقدمہ کے فیصلے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ پانچ میں سے دوجج صاحبان تو اختلافی نوٹ کی صورت میں فیصلہ صادر کر چکے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صادق و امین نہیں رہے۔ تین ججوں نے پہلے مرحلے پر اس رائے سے اتفاق نہیں کیا اسی لئے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ جے آئی ٹی کی تشکیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، پھر نواز برادران (حسین اور حسن)نے رونا رویا۔ ان کا خیال تھا کہ جے آئی ٹی کی کارروائی میں انہیں چائے پلا کر رخصت کر دینا غرض تھی اور پاکستان میں جو خوشامدانہ کلچر پروان چڑھ گیا ہے، انہیں شاہی خاندان کا رتبہ دیا جائے گا۔ پاکستانی حکمرانوں، سیاست دانوں ، اعلیٰ افسران کا المیہ ہے کہ وہ بڑا رتبہ چاہتے ہیں، اس خیالی رتبہ کے لئے آؤ بھگت کا اہتمام چاہتے ہیں، انہیں ہر وقت یہ احساس کھائے جاتا ہے کہ کہیں ان کا نام نہاد استحقاق مجروح تو نہیں ہوگیا۔ یہ احساس وہ ہی ہے کہ اراکین اسمبلی ان کے مزاج کے خلاف ہونے والی ذرا ذرا سی بات کو ان کا استحقاق مجروح ہونا قرار دیتے ہیں۔ نیشنل بنک کے صدر کو بھی شکایت ہو گئی کہ ان کی توہین کی گئی۔ سعید احمد آپ ملازم ہیں، حکومت پاکستان کے خزانہ سے بھاری تنخواہ کے علاوہ مراعات اور سہولتیں حاصل کرتے ہیں، جواب دینا ہوگا۔ اگر توہین تصور کرتے ہیں تو مستعفی ہوجائیے۔

توہین اس لئے سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں تو چھوٹے چھوٹے افسران بھی ناخدا ہوتے ہیں سعید ا حمد اتنے بڑے ادارے کے سربراہ ہیں جہاں فرعونوں کی کمی نہیں۔یہاں لوگ اپنے آپ کو اعلیٰ وارفع تصور کرنے لگ جاتے ہیں۔ اسی لئے انہیں جے آئی ٹی میں پیش ہونا توہین لگا۔ انہیں اس وقت توہین محسوس کیوں نہیں ہوئی جب انہیں وزیر خزانہ کے دفتر کے باہر کئی گھنٹے اس انتظار میں بیٹھنا پڑا تاکہ ان کی تقرری حتمی ہو جائے۔ پاکستان میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم جے آئی ٹی تحقیق و تفتیش کر رہی ہے۔ یہ سب ہی پر بار گران ہے کہ وہ یہ بتاسکیں کہ کب کب کیا کیا ہوا تھا۔یہ قومی دولت کا معاملہ ہے، یہ معاملہ ہمارے رہنماؤں کا ہے۔ ہمیں ان سے یہی تو گلہ ہے وہ کیوں نہیں بتاتے کہ قافلہ کیسے لٹا؟

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آف شور کمپنیاں قائم کی گئی ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ لندن میں میاں نواز شریف کے بیٹوں کے فلیٹ اور جائیدادیں موجود ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ وہ لندن میں مستقل قیام کرتے ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ میاں نواز شریف خاندان کی پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جائیدادیں موجود ہیں، ان سوالات کے جواب انہیں نہیں دینا چاہئے۔ اصل جھنجھلاہٹ یہ ہی تو ہے کہ یہ لوگ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ پیسہ کب اور کیسے گیا؟ جے آئی ٹی اسی سوال کے جواب کا کھوج لگا نے کے لئے قائم کی گئی ہے۔ اسے رسی کا سرا توتلاش کرنا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ کوئی بھی اس کی مدد کے لئے رضاکارانہ طور پر تیار نہیں ہے۔ حسین نواز کی کسی کمرے میں تنہا بیٹھے ہوئے معصومانہ انداز میں تصویر اتاری گئی، تصویر میں ایسا دکھایا گیا کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مظلوم شخص وہ ہی ہیں۔ اس مظلوم اور معصوم شخص کو کیوں نہیں جواب دینا چاہئے کہ ان کے پاس جو دولت بھی موجود ہے وہ انہیں کیسے اور کہان سے وصول ہوئی۔یہ شخص کل پاکستان کے ایوان اقتدار کا حصہ ہو سکتا ہے۔اسے اپنے دامن پر آئے ہوئے داغ ابھی سے دھو دینا چاہئے۔اک ذراسی بات کا افسانہ بنادیا گیا ہے۔ افسانہ نگاری کا مقصد صرف یہ ہے کہ جے آئی ٹی کو اس قدر متنازعہ بنادیا جائے کہ اڑتی ہوئی دھول میں سپریم کورٹ کوئی ایسی کارروائی کر گزرے جس کی وجہ سے پاناما کیس ہی داخل دفتر ہو جائے ۔ ایسے عناصر کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ سپریم کورٹ دو ججوں کے اختلافی نوٹ کے بعد پاناما کی کشتی کو ساحل تک ضرور لے جائے گی۔

کیا یہ حقیقت ڈھکی چھپی ہوئی ہے کہ پاکستان کے بہت سارے سیاست دانوں، سرکاری افسران، سرمایہ دار اور سرمایہ کار ، زمیند ار، اور دولت مند افراد کی بیرون ملک جائیدادوں کے علاوہ دولت موجود ہے۔ان کے مالی مفادات ان ممالک سے بھی وابستہ ہیں۔پاکستان سے توان کا مفاد اتنا ہی ہے کہ اس ملک کے تلوں سے جتنا تیل نکل سکتا ہو اتنا نکال لیا جائے۔ اس ملک میں موجود وسائل کا وہ جتنا استحصال کرسکیں کریں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بااثر، طاقت ور افراد کو لوٹ مار کی کھلی آزادی حاصل ہے، دولت سمیٹو، بھاگ جاؤ کے قدم قدم پر مواقع موجود ہیں اور واقعات کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ معاملہ ان ممالک کے نظام کے برعکس ہے جہاں ان پاکستانیوں نے اپنی جائیدادیں اور دولت رکھی ہوئی ہیں، کیا برطانیہ میں کوئی وزیر اعظم پاناما کیس میں نام آنے کے بعد حکومت کر سکتا تھا، کیا دبئی میں کوئی شخص کسی طور پر بھی قانون توڑ سکتا ہے جیسا پاکستانی سیاست دان پاکستان میں کرتے ہیں۔ کیا امریکہ میں سیاست دان اس طرح لوٹ مار کر سکتے ہیں جیسے پاکستان میں ہو رہا ہے۔ کیا کسی ملک میں عوام الناس کی فلاح کے لئے مختص رقم میں خورد برد ممکن ہے جیسا پاکستان اور سندھ میں ہو رہا ہے؟

کیوں نہیں سوال کیا جائے کہ جس کی جو بھی دولت بیرون ملک موجود ہے وہ کہاں سے آئی اور اگر پاکستان سے باہر گئی تو کیا اس پر ٹیکس ادا کیا گیا تھا؟ پاکستان کی معیشت کو اگر کسی ڈگر پر لانا ہے، تو پاکستان میں قانون کی بالا دستی کو ہر صورت ممکن بنانا ہوگا۔ پاکستان کے ساتھ ہر لحاظ سے انتہاہو گئی ہے، دولت مندوں کو احساس اس لئے نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے ایک سے زائد متبادل موجود ہیں، غریب کو احساس اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس کھونے کے لئے تو کچھ نہیں ہے، اسے فکر کیوں کھائے۔ ملک میں جے آئی ٹی طرز کی ٹیمیں تشکیل دینا ہوں گی جو اس سوال کا جواب حاصل کریں کہ جن کا پیسہ بھی باہر ہے وہ کیسے گیا اور کہاں سے آیا۔ خصوصا ان تمام افراد سے سوال کیا جانا چاہئے جو سیاست میں سرگرم ہیں اور اس ملک کے اقتدار میں اپنی عملی شرکت چاہتے ہیں۔ یہ لوگ اقتدار میں شرکت اسی لئے چاہتے ہیں کہ اپنی مرضی سے لوٹ مار کر سکیں۔ یہ الیکشن کے موقع پر الیکشن کمیشن میں تفصیلات جمع کرا دینے سے کام نہیں چلے گا۔ جے آئی ٹی ہو جو سپریم کورٹ کے ماتحت ہو، وہ سوالوں کے جوابات حاصل کرے۔ پاکستان کے مقتدر اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر پاکستان میں سیاست کرنا ہے تو سیاست کرنے والے شخص کا اوڑھنا بچھونا پاکستان ہی ہوگا۔ جس کی کوئی بھی جائیداد ، اور دولت بیرون ملک ہوگی وہ نا اہل قرار دیا جائے گا۔کسی گلوٹین میں گردن کے سجنے سے کہیں بہتر ہے کہ جے آئی ٹی کا شکنجہ برداشت کر لیا جائے۔

مزید : کالم