مستونگ آپریشن: چند تاثرات (1)

مستونگ آپریشن: چند تاثرات (1)
مستونگ آپریشن: چند تاثرات (1)

  

بعض قارئین فون پر یہ سوال اکثر پوچھتے ہیں کہ افواج پاکستان میں نفاذِ اردو کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں۔ میرے جواب کا ایک حصہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب تک قاری اور لکھاری جدید فوجی مزاج کے طبیب نہیں ہوں گے تب تک نفاذِ اردو کی راہ میں رکاوٹوں کی امراض اور ان کے علاج کو نہیں سمجھ سکیں گے۔۔۔ ابھی چند روز پہلے مستونگ میں ایک فوجی آپریشن کیا گیا جس میں 12دہشت گرد مارے گئے اور پاک فوج کے کئی آفیسرز اور جوان بھی زخمی ہو گئے۔ یہ ایک بہت ہی کامیاب آپریشن قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ آپریشن کے دوران جس دہشت گرد نے سرنڈر کر دیا تھا وہ نہ صرف سندھ میں داعش کا ’’سپریم کمانڈر‘‘ تھا بلکہ سندھ اور پنجاب کے ان علاقوں کا کمانڈو کنٹرول بھی اس کے ہاتھ میں تھا جو صوبہ سندھ کے شمالی، وسطی اور جنوبی اضلاع سے منسلک اور ملحق ہیں۔ آف کورس، اس کا نام صیغہ ء راز میں رکھا گیا ہے۔

اگلے روز اخبارات میں اس آپریشن کی سٹوری بھی فائل ہوئی جس میں یہ بتایا گیا کہ جس جگہ دہشت گرد چھپے ہوئے تھے وہ ایک بہت مشکل علاقہ تھا اور وہاں تک افواج کی بھی رسائی نہیں تھی اس لئے ایک بھرپور کمانڈو آپریشن کرنا پڑا جس کے نتیجے میں فلاں تعداد میں حملہ کرنے والے فوجی آفیسرز/ جوان بھی زخمی ہوئے۔۔۔ یوں سمجھئے یہ سٹوری ایک ایسی خبر ہے جسے جنرل ہسٹری کہا جاتا ہے۔ مستقبل کا کوئی مورخ جب اس واقعے کی تاریخ لکھے گا تو اگر اس کی تحریر ویسی ہی ہوگی جو سطورِ بالا میں درج کی گئی تو یہ ایک جنرل ہسٹری کا باب بن جائے گا، لیکن سطورِ ذیل میں جو تفصیل اس واقعہ کی دی جا رہی ہے اس کو ملٹری ہسٹری کا باب کہا جائے گا۔ اس باب کو اردو میں لکھنے اور اس کو سمجھنے کی راہ میں جو رکاوٹ حائل ہے وہ افواجِ پاکستان میں نفاذِ اردو کی راہ میں وہی رکاوٹ ہے۔ جس کا تذکرہ میں نے اس کالم کے آغاز میں کیا ہے۔

ملٹری ہسٹری کا مورخ سب سے پہلے مستونگ آپریشن کا پس منظر تحریر کرے گا اور بتائے گا کہ اس آپریشن (فوجی ایکشن) کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔ ہوا یہ کہ ایک لمبے عرصے سے کراچی۔ کوئٹہ شاہراہ جس پر اگر کراچی سے چلیں تو لس بیلا، خضدار، قلات اور مستونگ کے شہر آتے ہیں، اس پر دہشت گردوں نے حملے کرکے اس شاہراہ پر چلتی بسوں میں سوار لوگوں کو مار ڈالا تھا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ مارے جانے والوں کی غالب تعداد کوئٹہ میں رہنے والے ہزارہ قبیلے کی تھی جس کا تعلق شیعہ برادری سے ہے۔ یہ اہلِ تشیع حضرات ایران میں اپنے مقدس مقامات کی زیارتیں کرکے جب کراچی سے کوئٹہ آ رہے ہوتے تھے تو ان کو مستونگ کے قریب گھات لگا کر بسوں ہی میں قتل کر دیا جاتا تھا۔ یہ اندوہناک سانحات کئی بار ہوئے اور ان کی گونج میڈیا پر کئی روز تک سنوائی جاتی رہی۔ پھر گزشتہ ماہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر بھی اسی مستونگ کے قرب و جوار میں حملہ کیا گیا جس میں خوش قسمتی سے مولانا تو بچ گئے لیکن ان کا ڈرائیور نہ بچ سکا اور گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔ کاروں کے اس قافلے کی دوسری کئی گاڑیوں اور ان کی سواریوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ سانحہ بھی کم دلدوز نہیں تھا۔

پھر ابھی چند روز پہلے کوئٹہ میں کئی چینیوں کو اس سنٹر سے اغوا کر لیا گیا جس میں وہ مقامی لوگوں کو چینی زبان کی تدریس پر مامور تھے۔ یہ سنٹر حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا تھا اور سی پیک (CPEC) پراجیکٹ کی مستقبل کی ضروریات کی تکمیل کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا تھا۔ (وہ سنٹر اب بند کیا جا چکا ہے) انٹیلی جنس رپورٹ یہ تھی کہ جس کار میں چینیوں کو اغوا کرکے لے جایا گیا تھا۔وہ مستونگ کی طرف جاتی ہوئی دیکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سندھ اور مغربی و جنوبی پنجاب میں بھی کئی دہشت گردانہ کارروائیاں رپورٹ ہوئی تھیں جن میں ’’داعش‘‘ (ISIS) کا نام آیا تھا۔ فوجی اور سول حلقوں میں، پاکستان میں داعش کی موجودگی اور عدم موجودگی کے سلسلے میں ایک عرصے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ ان علاقوں (مستونگ / سندھ / پنجاب) میں ’’داعش‘‘ کا نام دانستہ طور پر اجاگر کرنا ، پاکستانیوں کو گویا یہ بتانا تھا کہ یہ تنظیم اب پاکستان میں بھی کھلے عام آپریٹ کر رہی ہے اور اس کے آپریشن القاعدہ، ٹی ٹی پی ، لشکر جھنگوی الاسلامی، لشکر احرار اور جند اسلامی وغیرہ تنظیموں کے آپریشن سے زیادہ ’’کامیاب‘‘ جا رہے ہیں۔

بلوچستان کی موجودہ سٹرٹیجک اہمیت اور صورت حال سے قارئین اچھی طرح آگاہ ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں ایک عرصے سے چل رہی ہیں۔ برہمداغ بگٹی اور غزن مری وغیرہ کے بیانات آپ میڈیا پر دیکھتے اور سنتے آئے ہیں۔ بلوچستان سی پیک منصوبے کے تناظر میں جس اہمیت کا حامل صوبہ ہے اس سے بھی ہر پاکستانی آگاہ ہے۔ کلبھوشن کی گرفتاری اور سزائے موت نے بھی بلوچستان کی اہمیت واضح کرنے میں ایک کردار ادا کیا ہے۔ بھارتی بحریہ کے اس حاضر سروس آفیسر نے بلوچستان میں دہشت گردوں کی سپورٹ کا جو جال بچھایا ہوا تھا اس کا اعتراف وہ خود برملا کر چکا ہے۔ ایران میں وہ کیا کرتا رہا اس کی خبریں بھی میڈیا پر آتی رہیں۔ حال ہی میں ایران کی مسلح افواج کے سینئر جرنیلوں کے پاکستان مخالف بیانات کی گونج ابھی تک مدھم نہیں ہوئی۔ ان واقعات و حالات کی بنا پر پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا (اور ہے) کہ اس نیٹ ورک کو توڑا جائے اور بلوچستان کو ان دہشت گرد عناصر سے پاک کیا جائے۔ اس مشن کی عملی تکمیل کے لئے بلوچستان میں پاکستان کے پاس جو فوجی آپریٹس ہے، اس کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک سادرن آرمی کمانڈ کہلاتا ہے اور دوسرے کو فرنٹیئر کور (FC) بلوچستان کہا جاتا ہے۔ ان دونوں فورسز کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ ہے۔ ان ہیڈکوارٹروں کی کمانڈ میں جو عناصر ہیں ان کو انٹیلی جنس اکٹھی کرنے والے اور اس انٹیلی جنس کی بنیاد پر روبہ عمل لائے جانے والے فوجی عناصر کا نام دیا جاتا ہے۔انٹیلی جنس اکٹھی کرنے والے عناصر میں آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس، فیلڈ انٹیلی جنس یونٹیں وغیرہ شامل ہیں اور آپریشنل کارروائی کے لئے آرمی ، ایس ایس جی اور ہیلی بورن فورس موجود ہے، جبکہ ائر فورس اور ایس ایس جی کے دیگر عناصر جو مستقلاً بلوچستان میں مقیم نہیں ’’آن کال‘‘ رہتے ہیں یعنی جب ان کی ضرورت ہوتی ہے ان کو بلا لیا جاتا ہے اور دہشت گردوں کے مخالف لانچ کر دیا جاتا ہے۔۔۔ یہ سب فوجی عناصر سادرن کور کے انڈر کمانڈ ہیں۔ بالکل انہی بنیادوں پر قائم ایسے ہی عناصر فرنٹیئر کور (FC) میں بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں فوجی تنظیمیں (سادرن کور اور فرنٹیئر کور) بلوچستان میں مقیم ہیں۔۔۔ تاہم ان فورسز کی نفری (جمعیت) کیا ہے اور ان کے پاس سازوسامان جنگ (ٹینک، توپیں، ہیلی کاپٹر، ڈرون وغیرہ) کی تعداد اور گولہ بارود کی مقدار صیغہ ء راز میں رکھی جاتی ہے اور کیوں رکھی جاتی ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

دہشت گردوں کے حملوں کی ساری تفصیلات کور ہیڈکوارٹر سادرن کور اور ہیڈکوارٹر فرنٹیئر کور کی متعلقہ برانچوں میں موصول ہوتی ہیں۔ ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور پھر ردعمل کی تمام تفصیلات طے کرکے آپریشنل کارروائی (یعنی حملہ) کی جاتی ہے۔ یہ سب کا سب ایک خودکار عمل ہے۔ اس میں نہ غیر ضروری ’’جلدی‘‘ کی جاتی ہے اور نہ ہی یہ عمل غیر ضروری ’’دیر‘‘ کا متحمل ہو سکتا بعض اوقات انٹیلی جنس اس نوع کی موصول ہوتی ہے کہ عملی کارروائی میں جانے کے لئے دو تین گھنٹوں سے زیادہ دیر نہیں کی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جوابی وار کرنے والی فورس کو دن رات اور ہمہ وقت الرٹ اور تیار رہنا پڑتا ہے۔ اس تیاری کی پلاننگ کے لئے جس پروفیشنل علم و فن کی ضرورت ہوتی ہے اس کو بتانے کی ضرورت نہیں۔

انٹیلی جنس رپورٹیں مل رہی تھیں کہ بلوچستان میں داعش کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ کراچی شاہراہ کے اردگرد کہیں موجود ہے۔ پاکستان آرمی کے پاس پہلے ہی فاٹا میں (بالخصوص شمالی وزیرستان میں) دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے آپریٹس کی ایس او پی ز (SOPs) اور تفصیلات موجود تھیں۔ یعنی آرمی کی پشت پر گزشتہ 17،18 برسوں کا وہ تجربہ تھا جس میں فوج کے سینکڑوں ہزاروں افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اسی بیش بہا تجربے کی وجہ سے آج پاک فوج کو دنیا کی بہترین آزمودہ کار عسکری تنظیم کہا جاتا ہے۔ غیر ملکوں کی افواج اپنے فوجیوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف آپریشنوں کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے پاکستان بھیجتی ہیں۔ حال ہی میں پاک آرمی نے نائیجیرین آرمی کے 200 آفیسرز کو اینٹی ٹیررازم آپریشنوں کی ٹریننگ کا ایک جامع کورس مکمل کروا کر انہیں واپس بھیجا ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم