محدثہ،فقیہہ،مفسرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ

محدثہ،فقیہہ،مفسرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ

حضرت عائشہؓ نے سید عالمؐ کی مصاحبت میں 9 سال گزارے اور ان 9 سال میں خوب علم حاصل کیا۔ آنحضرتؐ کا احترام پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے۔ سوالات کر کے علم بڑھاتی رہیں اور آپؐ خود بھی ان کو علوم سے بہرہ ور فرمانے کا خیال فرماتے رہے۔

حضرت امام زہریؒ نے فرمایا کہ اگر آنحضرتؐ کی تمام بیویوںؓ اور ان کے علاوہ باقی تمام عورتوں کا علم جمع کیا جاوے تو حضرت عائشہؓ کا علم سب کے علم سے بڑھا ہوا رہے گا۔ حضرت مسروق تابعیؒ فرماتے تھے (جو حضرت عائشہؓ کے خاص شاگرد تھے) کہ میں نے رسول اللہﷺ کے اکابر صحابہؓ کو دیکھا جو عمر میں بوڑھے تھے، وہ حضرت عائشہؓ سے فرائض کے بارے میں معلومات لیا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ سید عالمؐ سے حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ یہ تو فرمائیے اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلتہ القدر کون سی ہے (یعنی یہ علم ہو جائے کہ آج لیلتہ القدر ہے) تو دعا میں کیا کہوں!

آنحضرتؐ نے فرمایا کہ یوں کہنا

(اے اللہ بلاشبہ تو معاف کرنے والا ہے۔ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لہٰذا تو مجھے معاف فرما)

حضرت عائشہؓ بڑی صاحب حکمت وموعظت تھیں۔ بڑی پتہ کی بات فرما دیا کرتی تھیں۔ بعض صحابہ بھی ان سے نصیحت کرنے کی فرمائش کیا کرتے تھے۔

سید عالمؐ کی وفات کے بعد حضرت عائشہؓ نے بڑی مستعدی سے علم دین کی اشاعت کی ان کے شاگردوں کی تعداد 200 کے لگ بھگ کتابوں میں لکھی ہے جن میں صحابہ کرام بھی ہیں اور تابعین حضرات بھی۔ ان کی وفات 58ھ میں ہوئی اس حساب سے سید عالمؐ کے بعد انہوں نے 48 سال مسلسل علم دین پھیلایا۔ محدثین کرام نے ان کی روایات کی تعداد 2210بتلائی ہے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ ہرسال حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے جاتی تھیں وہاں مختلف شہروں سے لوگ آئے ہوئے تھے اور حضرت عائشہؓ کے خیمہ کے باہرٹھہر کر دینی سوالات کرتے تھے اورآپؓ جواب دیتی تھیں۔ مکہ معظمہ میں زمزم کے قریب پردہ ڈال کر تشریف فرما ہو جاتی تھیں اور فتوے طلب کرنے والوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔

حضرت عائشہؓ اپنے والد ماجدؓ ہی کے زمانہ خلافت سے مفتی ہو گئی تھیں اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ تو خود آدمی بھیج کر ان سے مسائل معلوم کراتے تھے۔

حضرت عائشہؓ نے اپنی خصوصیات میں یہ بھی ذکر کیا کہ میں نے حضرت جبرائیلؑ کو دیکھا اور میں رسول کریمﷺ کی سب سے زیادہ محبوب بیوی تھی اور جس وقت آپؐ کی وفات ہوئی اس وقت آپؐ کے پاس میرے اور فرشتوں کے علاوہ اور کوئی موجود نہ تھا۔

حضرت عائشہؓ اکثر روزے رکھا کرتی تھیں اور نفل نماز بھی بہت پڑھتی تھیں۔ چاشت کی نماز کا خاص اہتمام رکھتی تھیں۔

حضور اقدسؐ کے ساتھ بھی تہجد پڑھا کرتی تھیں۔ آپ کے بعد بھی اس کا اہتمام کرتی تھیں۔ روزوں کی کثرت ان کا خاص وصف تھا۔ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کو روزہ سے تھیں۔ سخت گرمی کی وجہ سے سر پر پانی کے چھینٹے دیئے جا رہے تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ نے (جو حضرت عائشہؓ کے بھائی تھے) فرمایا اس گرمی میں نفل روزہ کوئی ضروری نہیں ہے افطار کر لیجئے (بعد میں قضا رکھ لینا کافی ہو گا) یہ سن کر فرمایا کہ بھلا حضور اقدسؐ سے یہ سننے کے بعد کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے سال بھر کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ میں اپنا روزہ کیسے توڑدوں گی۔

حضرت عائشہؓ مریضوں کے معالجات میں اور اشعار عرب یاد رکھنے میں بھی خاص ملکہ رکھتی تھیں۔ ان کے بھانجے حضرت عروۃ بن الزبیرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کو جب کوئی حادثہ پیش آ جاتا تھا تو اس کے متعلق ضرور شعر پڑھ دیتی تھیں۔

یہ بھی حضرت عروۃ بن الزبیرؓ کا ارشاد ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر کوئی قرآن کا عالم اور فرائض اسلام اور حلال وحرام کا جاننے والا اور عرب کے واقعات اور اہل عرب کے نسب سے واقفیت رکھنے والا نہیں دیکھا۔

حضرت عائشہؓ عابدہ زاہدہ اور سخی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والی اور آخرت کی بہت فکر رکھنے والی تھیں۔

ایک مرتبہ دوزخ یاد آ گئی تو رونا شروع کر دیا۔ آنحضرتؐ نے رونے کا سبب پوچھا تو عرض کیا مجھے دوزخ کا خیال آ گیا۔ اس لئے رو رہی ہوں۔

حضرت عائشہؓ کی وفات منگل کی شب 17 رمضان المبارک 58ھ میں ہوئی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کا سن وفات 57ھ ہے۔ مرض الوفات میں جو لوگ مزاج پرسی کو آتے اور بشارت دیتے تو (آخرت کے حساب کے ڈر سے) فرماتیں۔ کاش میں پتھر ہوتی۔ کاش کسی جنگل کی گھاس ہوتی۔ اسی زمانے میں حضرت ابن عباسؓ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے خصائل ومناقب ذکر کئے تو فرمایا اے بن عباسؓ رہنے دو۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تو یہ پسند کرتی ہوں کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔ وفات ہو جانے پر حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا کہ عائشہؓ کے لئے جنت واجب ہے اور یہ بھی فرمایا کہ خدا ان پر رحمت کرے وہ اپنے باپ کے علاوہ آنحضرتؐ کو سب سے زیادہ پیاری تھیں۔ وفات کے قریب وصیت فرمائی کہ میں رات ہی دفن کر دی جاؤں۔ چنانچہ وتر نماز کے بعد جنت البقیع کے سپرد کر دی گئیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور دفن کے لئے ان کے حقیقی بھانجے حضرت عبداللہؓ اور عروہؓ اور ان کے بھائی کے بیٹے قاسمؓ اور عبداللہ بن محمد بنؓ ابی بکر اور دوسرے بھائی کے بیٹے عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکرؓ قبر میں اترے اور ان کو دفنایا۔

مزید : ایڈیشن 1