قطر کے شہر یوں کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روکنے کی خبر پر تنازع کھڑا ہو گیا

قطر کے شہر یوں کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روکنے کی خبر پر تنازع کھڑا ہو ...

دوحہ (اے این این)قطر کے چند شہریوں کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے مبینہ طور پر منع کرنے کی خبر پر عربی میڈیا میں بحث جاری ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر کے شہریوں نے کہا ہے کہ مسجد الحرام مسلمانوں کا مقدس ترین مذہبی مقام ہے اور حج کی ادائیگی وہاں جائے بغیر نہیں ہو سکتی۔ قطر کے انسانی حقوق کمیشن کو شکایات ملی ہیں کہ قطر کے کچھ شہریوں کو مسجد الحرام میں جانے سے روکا گیا ہے۔انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ علی بن شیخ المری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے تحت حاصل مذہبی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہے۔جبکہ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ 'قطر کے لوگ شاہ سلمان کے دل میں رہتے ہیں۔وزارت خارجہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ قطر کے لوگ سعودی عرب کے اپنے بھائیوں کی توسیع ہیں۔ شاہ سلمان قطر اور سعودی خاندانوں کے انسانی حقوق کے مسائل کو مشترکہ خاندان کے مسئلے کے طور پر سنتے ہیں۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایسی شکایات کے ازالے کیلئے ہاٹ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، یمن اور مصر نے قطر پر انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزام لگانے کے بعد اس سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ان ممالک نے قطر پر سفری پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ قطر نے تمام طرح کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان پابندیوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ادھر ایران نے اتوار کو قطر کے لیے پھل، سبزیوں والے کئی طیارہ بھیجے ہیں۔فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مدد انسانی ہمدردی کے تحت کی گئی ہے یا پھر ان دونوں ممالک کے درمیان کوئی تجارتی سمجھوتہ ہوا ہے۔

مزید : علاقائی