سنگین نوعیت کی وارداتوں میں 50فیصد اضافہ ، پولیس کیسز کو دبانے میں مصروف

سنگین نوعیت کی وارداتوں میں 50فیصد اضافہ ، پولیس کیسز کو دبانے میں مصروف

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں ماہ رمضان المبارک کے دوران ڈکیتی، راہزنی اور نقب زنی کی وارداتوں میں ریکارڈ حد تک اضافہ، پولیس کے ایک خفیہ سیل کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق ماہ رمضان المبارک کے گزشتہ 16 دنوں میں روزانہ 32 سے 35 ریکارڈ وارداتوں کی رپورٹ تیار کی گئی ہے۔خواتین سے پرس اور موبائل فون چھیننے ، چھینا جھپٹی اور گاڑیاں چوری کرنے والے 27 سے زائد گروہ کے ارکان سرگرم، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں کو عام جرم میں تبدیل، خفیہ رپورٹ میں پولیس کی چوری پکڑی گئی۔ ’’پاکستان‘‘ کو لاہور پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر میں چند ایسے خطرناک گروہ کے ارکان داخل ہو گئے ہیں جن میں سے چار گروہ کئی سالوں سے شہر میں وارداتیں کرنے اور گروہ تیار کرنے کے ماہر جانے جاتے ہیں اور متعدد بار جیل بھی جا چکے ہیں ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان گروہوں کی تعداد 27 سے 30 اور ارکان کی تعداد 60 سے 65 بتائی گئی ہے اور ان گروہوں کے ارکان نے صدر اور کینٹ کے علاقوں کو ٹارگٹ بنا رکھا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ماڈل ٹاؤن ڈویژن اور تیسرے نمبر پر اقبال ٹاؤن ڈویژن میں وارداتیں کرنے میں سرگرم ہیں۔ جو کہ شہر میں ڈکیتی، راہزنی اور نقب زنی کی وارداتوں میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈویژن اور کینٹ ڈویژن میں وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہواہے۔ پولیس ڈکیتی اور راہزنی کو چوری کے مقدمات ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈکیتی اور راہزنی سمیت سنگین واقعات کی پولیس ایمرجنسی 15 پر موصول ہوتے ہی پولیس افسران واقعات کو دبانے میں لگ جاتے ہیں جس کے باعث 32 سے 35 اور 40 سے زائد وارداتوں میں سے صرف 15 سے 20 وارداتوں کے واقعات کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے جبکہ دیگر واقعات میں متاثرہ خاندانوں کو یا تو ٹال دیا جاتا ہے یا پھر انہیں مطمئن کر کے گھروں کو بھجوا دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماہ رمضان کے رواں عشرے اور آخری عشرے میں وارداتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈاکوؤں اور راہزنوں نے لاہور کا رخ کر رکھا ہے۔

مزید : علاقائی