پاکستان اور افغانستان کا ایڈز کے خلاف مربوط کوششوں پر اتفاق

پاکستان اور افغانستان کا ایڈز کے خلاف مربوط کوششوں پر اتفاق

اسلام آباد (صباح نیوز)پاکستان اور افغانستان نے ایڈز کے خلاف مربوط کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔اس پہلے بھی دونوں ملکوں کو پولیو وائرس کے چیلنج کا سامنا جس کے خاتمے کے لیے دونوں ملک اپنی اپنی کوششوں کو مربوط کرنے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہے ہیں ، افغانستان کے نیشنل ایڈز کنڑول پروگرام سے منسلک ایک وفد نے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا جس دوران انہوں نے پاکستانی عہدیداروں سے ایچ آئی وی اور ایڈز سے نمٹنے کے لائحہ عمل اور تکنیکی امور کے بارے میں بات کی۔اس کے علاوہ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرنے والے افراد کے بارے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے معاملے پر بات کی۔اقوام متحدہ کے 'ایچ آئی وی' اور ایڈز پروگرام سے منسلک عہدیدار مسعود فرید ملک نے کہا ہے کہ یو این ایڈز پروگرام دونوں ملکوں کے نیشنل ایڈز کنڑول پروگرام کو مشترکہ طور پر 'ایچ آئی وی' اور ایڈز سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ 'ایچ آئی وی' اور ایڈز سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا نہایت ضروری ہے۔پاکستان عہدیدروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پشاور، کوئٹہ اور دیگر کئی شہروں میں ایڈز کے مرض سے متاثرہ سیکڑوں کی تعداد میں افغان شہریوں کو پاکستان نیشنل ایڈز کنڑول پروگرام کے تحت علاج کی سہولیات فراہم کیں ہیں ۔پاکستان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک میں ایچ آئی وی سے متاثرہ لگ بھگ ایک لاکھ افراد میں سے 80ہزار سے زائد افراد ایسے ہیں، جو ممکنہ طور پر ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثر ہونے کے باوجود اپنی بیماری سے متعلق لاعلم ہیں۔ ان میں سے صرف اٹھار ہزار پانچ سو مریض ایسے ہے جو نیشنل ایڈز پروگرام کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ یو این ایڈز پروگرام کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں ایسے افراد کی تعداد چھ ہزار نو سو ہے ہے جو ایڈز سے متاثر ہیں،ان میں ایک ہزار نو سو خواتین ہیں۔

پاکستان ، افغانستان

مزید : صفحہ آخر