پاکستان میں 42 لاکھ یتیموں کیلئے تعلیم ، صحت اور محفوظ مستقبل کا منظم نظام نہیں ہے، لیاقت بلوچ

پاکستان میں 42 لاکھ یتیموں کیلئے تعلیم ، صحت اور محفوظ مستقبل کا منظم نظام ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل او ر الخدمت فاؤنڈیشن کے بانی صدر لیاقت بلوچ نے عالمی آرفن رائٹس ڈے کے موقع پر پاکستان آرفن کیئر فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ یتیم ہونا انفرادی فعل نہیں ، قدرت کا نظام ہے ۔ جنگوں ، دہشتگردی اور قدرتی آفات کی وجہ سے دنیا بھر خصوصاًپاکستان میں یتیم بچوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ پاکستان میں 42 لاکھ یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے تعلیم ، صحت ، روزگار اور محفوظ مستقبل کا منظم نظام نہیں ہے۔ یتیم بچے ہمت ، عزم اور لگن سے خود اپنا مستقبل بنائیں ۔ جماعت اسلامی ، الخدمت فاؤنڈیشن ، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ اور ملک بھر سے عوام اور مخیر حضرات یتیم بچوں کے پشتی بان ہیں ۔ تقریب سے رانا مشہود ، سہیل وڑائچ ، کشمالہ طارق ، سمیحہ راحیل قاضی ، شوکت بسرا ، عبدالشکور ، سید عامر جعفری ، شعیب ہاشمی ، قیوم نظامی نے بھی خطاب کیا۔

۔ دریں اثنا لیاقت بلوچ نے ماڈل ٹاؤن میں افطار پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کے پاس سپریم کورٹ فیصلہ اور جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد تفتیش میں پیش ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا۔ کاش کہ پاکستان کے وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 62-63 کے مطابق اعلانیہ صادق و امین ہوتے انہیں شکوک و شبہات کی بنیاد پر اس تفتیش کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ پوری دنیا میں کرپشن کے باوجود وزیراعظم کے منصب پر قائم رہنے اور پانامہ لیکس میں ان کے خاندان کے ملوث ہونے پر تفصیلی تفتیش بدنامی کا باعث بنی ہے ۔ ہمارا یہ ہی موقف تھاکہ وزیراعظم تحقیقات اور اس کے نتائج تک وزارت عظمیٰ چھوڑ دیں لیکن ملک کی بجائے ذاتی خاندانی اور اقتدار کو عزیز بنایا اور ترجیح دی لیکن ملکی مفاد کا لحاظ نہیں رکھا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4