صرف دو ڈھائی ہفتے باقی رہ گئے ، دنیا کا کوئی ملک اب نواز شریف کو نہیں بچا سکتا : عمران خان

صرف دو ڈھائی ہفتے باقی رہ گئے ، دنیا کا کوئی ملک اب نواز شریف کو نہیں بچا سکتا ...

اسلام آباد (صباح نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم سے جمعرات کو جے آئی ٹی کے سامنے پیشی سے پہلے مستعفی ہو نے کا مطالبہ کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اب دنیا کا کوئی بھی ملک وزیراعظم نواز شریف کو گھر جانے سے نہیں بچا سکتا، ان کے پاس صرف دو ڈھائی ہفتے باقی رہ گئے ہیں، شریف خاندان کا سارا کیس قطری شہزادے کے خط کے گرد گھومتا ہے ،سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اگر قطری شہزادہ پیش نہ ہوا تو اس کے خط ردی کی ٹوکری کے سوا کچھ نہیں ، موٹو گینگ جے آئی ٹی پر حملے کر رہا ہے اور موٹو گینگ کو بھی پتہ ہے کہ قطری شہزادے کے خط صرف جھوٹ ہیں کیونکہ اگر ان میں سچائی ہوتی تو یہ لوگ سارا ریکارڈ پیش کردیتے جیسے میں نے بنی گالہ اراضی کا سارا ریکارڈ پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم جمعرات کو جے آئی ٹی کے سامنے پیشی سے پہلے مستعفی ہوں کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے ماتحت ادارے کے لوگ ان سے تفتیش کریں لہٰذاسپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی وہ رپورٹ شائع کرے جس میں کہا جا رہا ہے کہ ان کے کام میں مداخلت کی جارہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی جے آئی ٹی میں رکاوٹ ڈالنا جرم ہے جبکہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کے بغیر جے آئی ٹی کا صحیح طریقے سے کام کرنا ناممکن ہے کیونکہ جن اداروں نے احتساب کرنا ہے ان اداروں پر وزیراعظم بیٹھا ہوا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ جو ادارے وزیر اعظم کے ماتحت ہیں وہ انہی سے تفتیش کریں۔ عمران خان نے کہا کہ جے آئی ٹی تحقیق کے دوران مجھے اطلاع ملی کہ الیکشن کمیشن جعلی کاغذات بنا رہا ہے، ایک شخص کی کرپشن بچانے کے لیے تمام ادارے خراب کر دئیے گئے ہیں ابھی بھی میں کہتا ہوں کہ وزیر اعظم کو جمعرات سے پہلے استعفیٰ دینا چاہیے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف کریمنل کارروائی ہو رہی ہو اور وہ جے آئی ٹی کے سامنے جا رہے ہوں، وزیر اعظم کے استعفیٰ کے بغیر ممکن نہیں جے آئی ٹی کام کر سکے ۔عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ سے عرض کرتا ہوں کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے تا کہ عوام کو پتہ چلے کیا ہو رہا ہے،عمران کان نے کہا کہ حکمرانوں کے سارے کیس کی بنیاد قطری خط پر مبنی ہے اورقطری خط سراسرجھوٹ ہے جبکہ عدالت کے سامنے جھوٹ بولنا بھی جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ موٹو گینگ کو بھی علم ہے قطری خط جھوٹ ہے اور اگر قطری خط میں صداقت ہوتی تو بینک ٹرانزیکشن دکھا دی جاتی۔ عمران خان نے کہا کہ میں حلال کا پیسہ پاکستان لایا ہوں اس کی بھی منی ٹریل دکھائی ہے جبکہ انہوں نے چوری کا پیسہ باہر بھیج کر ملک کو نقصان پہنچایا اور اس چوری کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف سے قرضے لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نااہل حکمران برسراقتدار ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ طاہر القادری نے واپس آکر درست کیا ہے عمران خان نے کہا کہ حکمران ایک جھوٹ چھپانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں قطری خط جھوٹ ہے اگر سچ ہوتا تو قطرہ شہزادہ پاکستان آجاتا ان کے سارے کیس کی بنیاد قطری خط پر ہے ایسے وزیر اعظم کی باہر کوئی بھی عزت نہیں کرتا جس کے خلاف مجرمانہ کارروائی ہو رہی ہو وزیر اعظم پر فوجداری مقدمات ہیں اور وہ دنیا بھر کے دورے کر رہے ہیں جب جے آئی ٹی بنی تو حکمران خوشیاں منا رہے تھے اب ان کو پتہ چلا ہے کہ دال نہیں گل رہی اب اس پر حملے شروع کر دیے ہیں یہ مافیا ہیں۔ ایک سوال پر عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم جے آئی ٹی میں جا کر کوئی احسان نہیں کر رہے۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول