جے آئی ٹی نے چوبیس گھنٹے میں تصویر لیک کرنیوالے کا تعین کر دیا تھا

جے آئی ٹی نے چوبیس گھنٹے میں تصویر لیک کرنیوالے کا تعین کر دیا تھا

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے بارے میں اپنی جو رپورٹ فاضل عدالت کے روبرو پیش کی ہے، فاضل بنچ کے تینوں ججوں نے اس کے بارے میں مشاورت کی، یہ تصویر سوشل میڈیا پر لیک ہوئی تھی اور تحریک انصاف کے ایک رہنما نے سب سے پہلے شیئر کی تھی، بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے شخص نہیں تھے جن کے پاس تصویر آئی تھی، لیکن جے آئی ٹی نے جو رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے اگلے ہی روز یہ تعین کر دیا تھا کہ یہ تصویر کس شخص کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے لیک ہوئی اور چوبیس گھنٹے کے اندر اس کی اطلاع فاضل سپریم کورٹ کو بھی دے دی تھی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے تصویر لیکس کا نوٹس چار دن بعد لیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ تصویر کس شخص نے لیک کی نہ ہی جے آئی ٹی نے اس کا نام بتایا ہے نہ ہی یہ بتایا ہے کہ اس کا تعلق کس محکمے سے تھا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ جو محکمانہ کارروائی کی گئی اس کی نوعیت کیا تھی اور محکمانہ انکوائری کے بعد سزا دی گئی یا نہیں۔ البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ تصویر لیکس کی ذمہ داری کا تعین ہونے کے بعد اس شخص کو اس کے اصل محکمے میں واپس بھیج دیا گیا تھا، گویا ذمہ دار جو کوئی بھی تھا اس کی خدمات کسی دوسرے محکمے سے مستعار لی گئی تھیں، جو تصویر لیک کے بعد واپس کر دی گئیں۔

سوال یہ ہے کہ جے آئی ٹی اس شخص کا نام کیوں نہیں لے رہی جو تصویر سوشل میڈیا کے ذریعے لیک کرنے کا ذمہ دار ہے نہ صرف اس کا نام نہیں بتایا جا رہا بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس شخص کے خلاف محکمانہ انکوائری کی گئی البتہ اس کی کوئی تفصیل بھی دسیتاب نہیں کہ محکمے نے جو انکوائری کی اس کی نوعیت کیا تھی اور انکوائری کے بعد کیا نتیجہ نکالا گیا۔ اگلے ہی روز اگر جے آئی ٹی کو معلوم ہوگیا تھا کہ تصویر لیک کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے خلاف محکمانہ تحقیقات بھی کی گئی تو فاضل عدالت کو اس شخص کے نام اور محکمے سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ فاضل عدالت کو اگر آگاہ نہیں کیا گیا تو اس کی کوئی وجہ تو ہوگی۔

یہ معاملہ اتنا ہائی پروفائل ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو تحقیقات کے لئے طلب کیا گیا ہے لیکن تصویر لیک کرنے والے کا نام نہیں دیا جا رہا۔ یہ معلوم کرنا ہوگا کہ اس بات کا تعین کس طرح کیا گیا کہ تصویر لیک کا ذمے دار یہی ایک شخص تھا اور اسے کسی دوسرے کی معاونت حاصل نہ تھی۔ فاضل عدالت کے روبرو نام کے ساتھ تمام معلومات پیش کرنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ تصویر تحریک انصاف کے رہنما کے پاس کس طرح پہنچی؟

تعین

مزید : تجزیہ