کیا وزیر اعظم کے استعفیٰ سے پاناما لیکس انکوائری پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ؟

کیا وزیر اعظم کے استعفیٰ سے پاناما لیکس انکوائری پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ؟

  

تجزیہ: -سعید چودھری

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں15جون کو پیش ہورہے ہیں ۔وزیراعظم پاناما لیکس کیس شروع ہونے کے بعد سے مسلسل مثبت رد عمل کا مظاہرہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔انہوں نے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ سے کوئی استثنیٰ یا رعایت نہیں مانگی تھی،انہوں نے پارلیمانی کارروائی کے عدالتی جائزہ لینے پر پابندی سے متعلق آئینی آرٹیکل کا سہارا لینے کی بجائے پارلیمنٹ میں کی گئی اپنی تقریر سمیت خود کو احتساب کے لئے پیش کیا ۔وزیراعظم کی طرف سے پاناما کیس کے حوالے سے دائر درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کا سوال بھی نہیں اٹھایا گیا تھا ۔اطلاعات کے مطابق وہ جے آئی ٹی کی طرف سے طلبی کا نوٹس موصول ہونے سے قبل ہی جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا فیصلہ کرچکے تھے ،ان تمام باتوں کے باوجود حزب اختلاف باالخصوص عمران خان کی طرف سے ایک مرتبہ پھر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ سامنے آیا ہے ۔جے آئی ٹی سرکاری افسروں پر مشتمل ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وزیراعظم کمیٹی کے سامنے ایک باس کا سا رویہ اختیار کریں گے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ جے آئی ٹی انتظامی طور پر تشکیل نہیں دی گئی بلکہ اسے سپریم کورٹ نے تشکیل دیا ہے اور اس کی تحقیقات کی سپریم کورٹ مسلسل نگرانی کررہی ہے اور ہر15روز بعد جے آئی ٹی سپریم کورٹ کو تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کی بابت رپورٹ پیش کررہی ہے ۔جے آئی ٹی وزیراعظم سے جو سوالات کرے گی اور وزیراعظم جو جواب دیں گے وہ بھی سپریم کورٹ میں آئندہ پیش کی جانے والی 15روزہ رپورٹ کا حصہ ہوں گے ۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اگر وزیراعظم کو کوئی بے جا رعایت دی تو سپریم کورٹ اس حوالے سے ضرور نوٹس لے گی ،اس صورتحال میں جے آئی ٹی کی لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ قانون اور ضابطوں سے ہٹ کر کوئی رعایتی اقدام کرے ۔وزیراعظم کی پیشی قانون کی عمل داری کی ایک اعلیٰ مثال ہے ۔وزیراعظم کی حیثیت سے قانون کی حکمرانی کے لئے ان پر عام شہریوں کی نسبت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،ان کے رویہ کو تنقید برائے تنقید کی نذر کرنے کی بجائے اس کے مثبت پہلوؤں پر نظر رکھی جانی چاہیے ۔وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے اس تاثر کو راسخ کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہے ۔اگر وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کٹہرے میں لایا جاسکتا ہے تو عام شہری کوئی جرم کرکے کیوں کر بچ سکتا ہے ۔وزیراعظم کی جے آئی ٹی میں طلبی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس ملک کے ادارے اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے وزیراعظم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی سکت رکھتے ہیں ۔جو لوگ وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں وہ باالواسطہ طور پر جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں ۔یہ لوگ ایک طرف وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کٹہرے میں لانے پر سپریم کورٹ کی تعریف کررہے ہیں ،دوسری طرف یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سرکاری افسروں پر مشتمل جے آئی ٹی وزیراعظم کے دباؤ تلے ان کے خلاف کارروائی کیسے کرسکتی ہے ؟اس بات کا بار بار ذکر کرنے کی ضرور ت محسوس نہیں کررہا کہ یہ جے آئی ٹی انتظامیہ نے نہیں بلکہ عدلیہ نے قائم کی ہے ۔جے آئی ٹی کا کام کوئی فیصلہ کرنا نہیں بلکہ شہادتیں اکٹھی کرنا ہے ،اسے جو بھی شہادتیں ملیں گی وہ اسے سپریم کور ٹ میں پیش کردے گی ۔جے آئی ٹی کے لئے لازم نہیں ہے کہ وہ صرف ایسی شہادتیں اکٹھی کرے جو وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ہوں ۔اگر زیرتفتیش یہ لوگ اپنا کیس ثابت کردیتے ہیں تو اسے وزیراعظم کا دباؤ یا جے آئی ٹی کی بددیانتی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔جے آئی ٹی کی اب تک کی کارروائی میں بظاہر کوئی جھول نہیں ہے ،اگر ایسا ہوتا تو سپریم کورٹ ضرور گوشمالی کرتی ۔مخالفین کو وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کی بجائے پوری کارروائی کو اداروں کی ساکھ ،غیرجانبداری اور خودمختاری کے عمل میں بہتری کے تناظر میں لینا چاہیے ۔وزیراعظم کا استعفیٰ معاملے کا حل نہیں ،اگر وہ مستعفی ہوجاتے ہیں تو کیا اس کے نتیجہ میں عمران خان وزیراعظم بن جائیں گے ؟ ان کے استعفیٰ کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی راہنما ہی وزیراعظم بنے گا اور اس سلسلے میں قطعی طور پر دو آراء نہیں ہیں کہ نیا وزیراعظم موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف کی آشیر باد اور مرضی کے بغیر منتخب ہی نہیں ہوسکتا پھر ایسے نئے وزیراعظم سے یہ کیسے توقع رکھی جائے گی کہ وہ میاں نواز شریف کو اس جھنجٹ سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کرے گا۔کیا نیا وزیراعظم حزب اختلاف کے راہنماؤں بشمول عمران خان کا ہم خیال ہوگا ؟ وہ یقینی طور پر اپنے قائد اور محسن نواز شریف کے ساتھ ہوگااور اس سے پورے معاملے میں نواز شریف سے بھی زیادہ مداخلت کی توقع رکھنا غلط نہیں ہوگا ۔پھر یہ لوگ نئے وزیراعظم کے خلاف محاذ کھول لیں گے ۔ بہتر یہی ہے کہ اداروں کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے اور ساکھ کو مضبوط بنانے کا موقع دیا جائے ۔

مزید :

تجزیہ -