وزیر اعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی ، بذریعہ ویڈیو ریکارڈ سوالات پوچھے جائیں گے

وزیر اعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی ، بذریعہ ویڈیو ریکارڈ سوالات پوچھے جائیں گے

تجزیہ:اجمل جامی

پنامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کو جمعرات گیارہ بجے پیشی کے سمن جاری کئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے سامنے ان کے بیٹوں کی پراپرٹی اور متعلقہ کمپنیوں بارے ویڈیو ریکارڈ پر مبنی حوالہ جات پیش کئے جائیں گے جس کی روشنی میں ٹیم وزیر اعظم پاکستان سے درجن سے زائد سوالات پوچھے گی۔ ذرائع کے مطابق جب حسن نواز دوسری بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو انہیں ان کے بھائی حسین نواز کا ویڈیو ریکارڈ بطور حوالہ دکھا تے ہوئے چند سوالات پوچھے گئے، جواب میں حسن نواز نے حسین نواز کے موقف کی تائید کی۔ تاہم جے آئی ٹی نے اس تائید کو ان کے ماضی کے بیانات سے جوڑ کر تضاد کی نشاندہی کی۔ دونوں بھائیوں کی پیشی کے بعد کچھ ایسے نئے سوالات نے جنم لیا جن کے جواب جاننے کے لئے جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کو سمن جاری کیا۔ حالانکہ عمومی تاثر یہی تھا کہ مریم نواز اور خود وزیر اعظم سے پوچھ گچھ کی ضرورت پیش نہیں آئی گی۔ دوسری جانب پنامہ عملدرآمد کیس میں حسین نواز کی تصویر لیک ہونے اور جے آئی ٹی کو در پیش مسائل زیر بحث آئے تو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ٹیم کو در پیش شکایات کا ریمارکس کی صورت میں اظہار کیا۔ واضح رہے کہ جے آئی ٹی نے ان شکایات کو تاحال پبلک نہیں کیا۔ ججز کے ریمارکس میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی کو اداروں کے تعاون پر تحفظات ہیں، کیونکہ جے آئی ٹی سمجھتی ہے کہ کچھ حکومتی ادارے متعلقہ ریکارڈ میں ٹمپرنگ کر رہے ہیں جس سے تحقیقات سست روی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹیم کا بنیادی اعتراض اسی بات پر ہے کہ ادارے عدم تعاون کی صورت میں تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔باوثوق ذرائع نے اداروں کا نام نہ بتاتے ہوئے محض یہی اشارہ دیا کہ ان اداروں کا تعلق مالی معاملات سے ہے۔ اس موقع پر جسٹس عظمت شیخ کے ریمارکس خاصے اہم تھے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم کی شکایات جنیوئن ہیں تو پھر اس کے نتائج دور رس ہونگیڑ۔ حالیہ پیش رفت اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ جہاں حکومت کو جے آئی ٹی سے شکایات ہیں وہیں جے آٹی ٹی نے بھی تحفظات کے انبار لگا دئیے ہیں۔ ایسے میں سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے ایک مشکل صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

مزید : تجزیہ