گائے بھینس کا دودھ نہ پینے والے بچوں کا قد چھوٹا رہ سکتا ہے‘ طبی ماہرین

گائے بھینس کا دودھ نہ پینے والے بچوں کا قد چھوٹا رہ سکتا ہے‘ طبی ماہرین

ملتان(وقائع نگار)ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دو سال کی عمر کے بعد گائے اور بھینس کا دودھ نہ پینے والے بچوں کا قد چھوٹا رہ سکتا اس بارے طبی ماہرین کی تحقیق نے حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بچے گائے اور بھینس کے دودھ کا متبادل دودھ پیتے ہیں ان کا قد چھوٹا رہ جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین نے دوران تحقیق 5 ہزار سے زائد بچوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ جن بچوں کو (بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

گائے کے دودھ کے بجائے دیگر اقسام کے دودھ دیئے گئے ان کی بڑھوتری پر فرق پڑا اور متبادل دودھ پینے سے ان کا قد اپنی عمر کے لحاظ سے دیگر بچوں کے قد سے قدرے کم دیکھا گیا۔ جن بچوں نے گائے کے دودھ کے علاوہ دیگر اقسام کے دودھ استعمال کئے ان میں پستہ قد کی شرح بھی اسی لحاظ سے تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی عمر کے پہلے دو سال میں بچوں کے لیے ماں کا دودھ ہی بہتر ہوتا ہے اور اس دوران گائے کے دودھ سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ اس میں موجود پروٹین اور لحمیات اتنے چھوٹے بچے کے لیے قابلِ ہضم نہیں ہوتے ،گائے کے دودھ میں دماغ اور ہڈیوں کے لیے ضروری اجزا مثلاً پروٹین، کیلشیئم اور دیگر ضروری چکنائیاں موجود ہوتی ہیں جو دوسال کے بعد بچوں کے لیے انتہائی ناگزیر ہوجاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق گائے کے دودھ کے ایک کپ میں 16 گرام پروٹین ہوتا ہے جو تین سالہ بچے کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

طبی ماہرین

مزید : ملتان صفحہ آخر