تنقید برائے اصلاح سے عوام کے مسائل حل ہون گے :مظفر سید ایڈوکیٹ

تنقید برائے اصلاح سے عوام کے مسائل حل ہون گے :مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے جس سے مسائل حل ہوں گے جبکہ صرف افواہیں پھیلانے سے الجھنیں بڑھتی ہیں جو بعد میں بے جا تنقیدکرنے والوں کے لئے شرمندگی کا باعث بھی بنتی ہیں۔اسی طرح سرکاری ملازمین کے بارے حالیہ بجٹ تقریر میں’’سرکاری ملازمین خزانے پر بوجھ ہیں‘‘ کو غیر حقیقی بنیادوں پر بات پھیلائی گئی جو بے جا تنقید کرنے والوں کے کردار کا تعین کرتی ہے ان کو چاہیے کہ وہ ایسی باتیں پھیلانے سے گریز کریں اور معاشرے کی ترقی کے لئے مثبت سوچ اپنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اپنے دفتر پشاور میں صدر اخونزادہ ریاض بہار کی سربراہی میں سکولز آفیسر ایسوی ایشن خیبر پختونخوا کے ایک وفد سے بات چیت کے دوران کیا۔اس موقع پر مذکورہ ایسوسی ایشن کے صدر کے ہمراہ جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خلیل،پریس سیکرٹری اقتدار علی اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی جنہوں نے وزیر خزانہ کے ساتھ بجٹ2017-18پر تفصیلی گفت و شنید کی۔اس دوران وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کے حوالے سے بجٹ تقریر میں پیدا کردہ غلط فہمی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین باالعموم اور اساتذہ کرام باالخصوص ہمارے لئے معزز بھائیوں کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کے حوالے سے ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی جس سے سرکاری ملازمین کی دل آزاری ہو۔ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی مراعات ،اپ گریڈیشن اور دیگر جائز مطالبات کی منظوری کیلئے انہوں نے بہت جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی کریں گے تاکہ سرکاری اداروں کا ہر فرد دل جوئی اور لگن کے ساتھ صوبے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال کر دین و دنیا کی کامیابیاں حاصل کرسکے۔وفد کے شرکاء نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا بے حد شکریہ اداکیا اور ہردور میں ان کے ساتھ مکمل تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے کبھی مایوس نہ کرنے کا وعدہ کیا جس کا صوبائی وزیر خزانہ کی طرف سے خیر مقدم کیاگیااور صوبے کی ترقی اور روشن مستقبل کیلئے اپناکردار اداکرنے کا تہیہ کیا گیا تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک سنہرے باب کی بنیاد رکھی جاسکے۔

مزید : کراچی صفحہ اول