سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بحث پر چوتھے روز بھی بحث جاری

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بحث پر چوتھے روز بھی بحث جاری

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی ۔ اجلاس تقریباً 12 بجے شروع ہوا ۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولﷺ کے بعد فاتحہ خوانی ہوئی ۔ بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی نااہلیوں کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا ہوا اور حالات خراب ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنا صوابدیدی فنڈز 60 ملین سے کم کرکے 35 ملین روپے کر دیا اور ایک اچھی مثال قائم کر دی ہے ۔ شرمیلا فاروقی نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے تھر میں شدید قحط خطرہ ہے اور کراچی میں ہیٹ ویو کا اندیشہ ہے ۔ ماحولیات کے حوالے سے رقم کم رکھی گئی ہے ۔ اس میں اضافہ کیا جائے تو بہتر ہے ۔ یہ پیشگوئی بھی کی گئی ہے کہ 15 اگست تک بارشیں نہیں ہوئی تو تھر ، سانگھڑ ، عمر کوٹ اور قر ب وجوار کے علاقے آفت زدہ ہوں گے ۔ تحریک انصا ف کے خرم شیر زمان نے کہا کہ حکومت سندھ نے 10 واں بجٹ اپنی 9 سالہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پیش کیا ہے ۔ تاہم اس بار انتخابی بجٹ ہونا ۔ یہ منفرد ہے ۔ اس بجٹ سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا ۔ پانی ، صحت ، تعلیم کے شعبے مکمل تباہ ہو چکے ہیں ۔ ان شعبوں کے بجٹ میں اضافہ تو کیا گیا ہے مگر ان کے معیار میں کوئی بہتر ی نہیں آئی ہے ۔ لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی جاگیرداروں کی جماعت ہے ۔ عام آدمی پر ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگائے گئے ہیں لیکن جاگیر داروں پر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کے بڑے منصوبے کے ۔4 پر کوئی کام نہیں ہوا ۔ 4 سال سے یہ منصوبہ بجٹ میں شامل ہوتا آیا ہے ۔ سندھ کے 13 اضلاع میں پانی پینے کے قابل نہیں ہے ۔ طارق روڈ کی مرمٹ پر نیب خاموش کیوں ہے ۔ بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف جب اقتدار میں آئے گی تو تمام لوگوں کو کٹہرے میں لائیں گے اور جن لوگوں سے شوگر ملیں چھین کر لوگوں نے قبضے میں لی ہیں ، وہ واپس دلائیں گے ۔ کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا 60 فیصد تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہے ۔ سندھ کی تعلیم کرچی کی سڑکوں پر بک رہی ہے اور امتحانی پرچے سے دو گھنٹے قبل واٹس ایپ گروپوں میں مارکیٹ میں موجود ہوتی ہے ۔ نجی اسکولوں کی لوٹ مار پر نظر رکھنے والا کوئی نہیں ۔ سرکاری اسکول بھی تباہ ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے غیبی سردار خان چانڈیو نے کہا کہ بلوچستان سندھ کی زمین پر دعویٰ کر رہا ہے ۔ کیر تھر کے قرب و جوار کے تمام علاقے سندھ کے ہیں ۔ بلوچستان کی مداخلت روکی جائے ۔ ایم کیو ایم کی ریحانہ انصاری نے کہا کہ صوبے میں 13 ہزار جعلی بھرتیاں کی گئیں ، 5 ہزار اسکولز بند ہیں ۔ حیدر آباد یونیورسٹی آج تک قائم نہیں ہو سکی ۔ سنا ہے کہ آئندہ 10 سال میں ایک کروڑ چینی باشندوں کو وزیرے جاری کیے جائیں گے ۔ جب یہ لوگ یہاں آئیں گے تو ہمارا کیا بنے گا ۔ آج بھی کراچی کے بعض مقامات پر چائنز بچیاں مختلف اشیاء رفروخت کرتے ہوئے نظر آرہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جس منصوبے کو ہم گیم چینجر کہہ رہے ہیں ، کہیں وہ گیم ڈینجر نہ بن جائے ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ حیدر آباد کے لیے کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں رکھا گیا ہے ۔ پاگل خانے میں خواتین کے لیے وارڈ کے لیے رقم ضرور رکھی گئی ہے ۔ ریحانہ انصاری نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد پر جس طرح قاتلانہ حملہ ہوا ہے ، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے ۔ تحریک انصاف کی ڈاکٹر سیما ضیاء اپنی تقریر پر آغاز سے قبل محکمہ بہبود خواتین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس کے ایک شعبہ قائم ہے ، جس میں خواتین کو کام کے دوران ہراساں کرنے سے بچانا ہے ۔ مگر یہاں پر عجیب صورت حال ہے ۔ لوگ خود خواتین کو ہراساں کر رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر حکام ان کا نوٹس لیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام صوبوں میں بل پیش کیے گئے مگر سندھ میں بل پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی ایک نہیں بلکہ ہزاروں سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہے ۔ طارق روڈ کی تعمیر پر بڑے پیمانے کرپشن ہوئی ہے ۔ دانستہ طور پر کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے ۔ کراچی کو اختیار بھی نہیں دیا جا رہا ہے ۔ کراچی کے لوگ فیتے کاٹنے والوں کو اب ووٹ نہیں دیں گے اور آئندہ آپ کی حکومت بھی نہیں ہو گی ۔ 5 ہزار جعلی اسکول اور 5 ہزار جعلی اساتذہ کا معاملہ حل کیوں نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے لوگ پڑھے لکھے ہیں اور اندرون سندھ کے لوگ بھی آپ کو ووٹ نہیں دیں گے ۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی منظور وسان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بہترین بجٹ پیش کیا ہے اور پہلی مرتبہ 10 کھرب سے زائد کا بجٹ پیش ہوا ہے ، جس میں تقریباً ساڑھے 3 کھرب روپے ترقیات کے لیے رکھے گئے ہیں ۔ غریبوں کو 50 ہزار پلاٹس دیئے جائیں گے ۔ یہ غریبوں کا بجٹ ہے ۔ ہم نے صوبے کے ہر ڈویژن کے لیے 25 بلین روپے رکھے ہیں ۔ لیکن کراچی کے لیے 70 بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سوا باقی صوبے کے دیگر لوگوں کو جاہل کہنا مناسب نہیں ہے ۔ 1988 سے 2017 تک ایک دو ادوار کے علاوہ وہ کون سا ایسا دور ہے ، جس میں ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ حکومت میں نہیں رہی ۔ ہم تو کئی ادوار میں حکومت میں نہیں رہے اور اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود ہم نے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کل یہاں نعرہ لگ رہا تھا ۔ کیا کیا ، کیا دیا ، کھایا پیا ہضم کیا ۔ میں کہتا ہوں کہ کیا دیا کیا لیا ، کھایا پیا ہضم کیا ۔ سانگھڑ کو کیا دیا ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (فنکشنل) کے لوگ دھاندلی اور کرپشن کی بات نہ کریں ۔ یہ لوگ جب دھاندلی اور کرپشن کی بات کرتے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے ۔ سب کو پتہ ہے کہ دھاندلی اور کرپشن میں کون ملوث ہے ۔ خیر پور اور سانگھڑ کی زمینوں کا جائزہ لیا جائے اور یہ پتہ کیا جائے کہ 86 ہزار ایکڑ سے زائد جنگلات کی زمینوں پر کس نے قبضہ کیا ہے ۔ ایوان اس کو چیک کرے ۔ سناگھڑ میں آئل اور گیس فیلڈ سے زبردستی لی جانے والی رقم کراچی میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے ۔ سب کو پتہ ہے کہ ساون فیلڈ اور قادر فیلڈ سے کون پیسے لے رہا ہے ۔ اس کی انکوائری کرائی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ بار بار یہ کہتے ہیں کہ کراچی کی اتنی پیداوار ہے ، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ کراچی صدیوں سے آباد ہے ۔ آپ کے آنے سے پہلے بھی یہ شہر آباد تھا اور اب بھی ہے ۔ یہ سندھ کا دارالحکومت ہے ۔ یہاں پورٹ ہے ، ایئرپورٹ ہے ، صنعتی زونز ہیں اور دیگر شعبوں کا مرکز ہے ۔ اس کا مطلب نہیں کہ صوبے یا ملک کے باقی علاقوں کا اس میں کوئی کردار نہیں ۔ انہوں نے مثال دی کہ کیماڑی ٹاؤن اور بن قاسم ٹاؤن کراچی کا حصہ ہیں اور اگر کل وہ یہ دعویٰ کریں کہ پورٹ قاسم اور کے پی ٹی کی تمام آمدنی انہیں دی جائے تو یہ عجیب سی بات ہو گی ۔ پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر سکندر شورو نے اپنی بجٹ تقریر میں حکومتی بجٹ کی تعریف کی اور اپوزیشن پر سخت تنقید کی ۔ صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ صوبے میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے ۔ اس کو محفوظ کرنے کے لیے اقدام کرنا ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ لائنوں کی صفائی کے ذریعہ آخری علاقوں تک پانی پہنچانے کے لیے اقدام کر رہے ہیں ۔ بجٹ میں کئی اہم منصوبے رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جاری 536 اسکیموں کو مکمل کرنے کے لیے فنڈز دیئے جا رہے ہیں اور نئی اسکیموں کے لیے 25 فیصد فنڈز لازمی رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے توانائی کے بحران کے حوالے سے وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ۔ خواجہ آصف نے جو الفاظ ایوان میں کہے تھے ، میں یہاں دہرانا مناسب سمجھتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ خواجہ آصف اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں ۔ اس وقت ہماری بجلی کی ضرورت 19 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار صرف 12 ہزار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کے بحران کی وجہ سے 5 لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں ۔ حکمران دعوے تو بڑے کرتے ہیں مگر عمل کوئی نہیں ۔ ایم کیو ایم کے دلاور قریشی نے سپریم کورٹ کی پانی کے حوالے سے رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کم سے کم اجرت 15 ہزار مقرر کی ہے لیکن کیا کوئی آدمی 15 ہزار میں اپنی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے ۔ چلیں اگر حکومت نے کیا ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں کرا رہی ہے ۔ حیدر آباد کئی سرکاری اداروں میں 6 ہزار روپے ماہانہ دیئے جا رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے تیمور تالپور نے کہاکہ سندھ کا بچہ بچہ اپنے حقوق کا تحفظ کرے گا اور وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ کھڑا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ایم کیو ایم کی ناہید بیگم نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت کہلاتی تھی لیکن اب وہ وفاقی جماعت سکڑ کر آج ایک صوبے کے دیہی علاقوں کی جماعت بن گئی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے حاجی شفیع جاموٹ نے کہا کہ 18 ویں ترمیم پیپلز پارٹی کا ایک کارنامہ ہے ۔ مگر پیپلز پارٹی اپنے آپ کو اس ترمیم پر عمل کے لیے اہل ثابت نہیں کر سکی ۔ 10 کھرب کا بجٹ تو پیش کیا گیا ہے لیکن اپوزیشن کو مکمل نظرانداز کیا گیا ۔ ایم کیو ایم کے زبیر احمد کان نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی ہے کہ وہ سولر کے حوالے سے رکھے گئے منصوبوں کا خود جائزہ لیں اور یہ سسٹم چند علاقوں تک محدود کیوں رکھا گیا ہے اور اس کو پورے صوبے پر لاگو کیا گیا ہے ۔ بجٹ پر بحث میں مسلم لیگ (ن) کے سعید اعجاز شاہ شیرازی ، پیپلز پارٹی کے ضیاء عباس شاہ ، مرتضی بلوچ ، ڈاکٹر بہادر ڈاہری اور روبینہ قائمخانی نے بھی خطاب کیا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول