طبیہ کالج بہاولپور کی حکومتی سرپرستی ختم کی گئی تو الحاق پاکستان کے معاہدہ کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی

طبیہ کالج بہاولپور کی حکومتی سرپرستی ختم کی گئی تو الحاق پاکستان کے معاہدہ ...
طبیہ کالج بہاولپور کی حکومتی سرپرستی ختم کی گئی تو الحاق پاکستان کے معاہدہ کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی

  

لاہور (مشرف زیدی سے ) حکومت پنجاب کی جانب سے گورنمنٹ طبیہ کالج بہاولپور کی سرکاری سرپرستی ختم کرنے کی افواہیں سننے میں آرہی ہیں۔جس سے نہ صرف طبی حلقوں میں بے چینی پائی جارہی ہے بلکہ اس کالج کو پاکستان سے الحاق کے معاہدہ کی خلاف ورزی بھی سمجھا جائے گا۔

ریاست بہاولپور، برطانوی ہند میں ایک ریاست تھی۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے بعد اس نے پاکستان سے الحاق کیا لیکن 1955ء تک اس کی ریاستی حیثیت برقرار رہی۔ ریاست بہاولپور دریائے ستلج اور دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے۔ ریاست اب تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں تقسیم ہے۔ ریاست بہاولپور کی بنیاد 1690ء میں بہادر خان دوم نے رکھی۔ نواب محمد بہاول خان سوم نے برطانوی حکومت سے پہلا معاہدہ کیا جس کی وجہ سے ریاست بہاولپور کو خود مختار حیثیت حاصل ہوئی۔

مملکت پاکستان کے سرکاری ملازمین کو پہلی تنخواہ دینے کا شرف بھی بہاولپور کے حصے میں آیا تھا اس موقع پر 70لاکھ روپے کی نقد امداد کا تحفہ بھی اسی ریاست نے دیا تھا ۔اپنے پورے نظام مملکت کے ساتھ یہ ریاست پاکستان میں شامل ہوئی تھی۔ اس کی سرحدیں پنجاب اور سندھ کے علاوہ بھارتی ریاست جیسلمیر اور بیکانیر موجودہ صوبہ راجھستان اور پنجاب کے ضلع فیروز پور سے بھی جاملتی تھیں۔ ریاست بہاولپور بر صغیر پاک و ہند کی سب سے بڑی اور خوشحال ریاست ہے ، اس کا رقبہ 350 میل لمبائی اور 50 میل چوڑائی پر محیط تھا۔ ریاست کی اپنی اسمبلی تھی، اپنا ہائی کورٹ، اپنی فوج اور اپنا وزیر اعظم تھا۔ آخری وزیر اعظم مسٹر ڈرنگ تھے جن کے نام پر بہاولپور میں ڈرنگ سٹیڈیم موجود ہے۔

نواب آف بہاولپور اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں جن پانچ تعلیمی اداروں کی لازمی سرپرستی ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے ان میں گورنمنٹ طبیہ کالج بہاولپور بھی شامل ہے۔ 14اکتوبر 1955کو مغربی پاکستان میں ضم ہوجانے والی ریاست بہاولپور کی جانب سے قائم کردہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری تاحال حکومت پنجاب کے پاس ہے۔ 1925میں جامعہ عباسیہ (حالیہ اسلامیہ یونیورسٹی ) کے زیر اہتمام ایک شعبہ قائم کرکے طب یونانی کی تعلیم کا آغاز کیا گیا جسے بعد میں عباسیہ طبیہ کالج کا درجہ دیا گیاجو کہ آج بھی ملک کے بہترین طبیہ کالجز میں سے ایک کالج ہے۔ اسی کالج سے فارغ التحصیل حکیم ذوالفقار علی ملک ممبر قومی طبی کونسل حکومت پاکستان نے بتایا کہ یہ ادارہ واحد ہے جو محکمہ صحت حکومت پنجاب کے زیر انتظام ہے ۔اس کالج میں فاضل طب و الجراحت کا کورس پڑھایا جاتا ہے۔ کالج سے ملحق 3آوٹ ڈور شعبہ جات اور 20بیڈز پر مشتمل ہسپتال میں تمام امراض کا قدرتی طریقہ علاج سے موثر علاج کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال دس ہزار سے زائد مریضوں نے اس ہسپتال سے استفادہ کیا ہے۔ جدید خطوط پر استوار کالج کے شعبہ دواسازی میں تما م ادویات خود تیار کی جاتی ہیں۔اسی طرح کالج کی جدید آلات سے مزیّن کلینکل لیبارٹری میں تمام بنیادی تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولیات نہ صرف مریضوں کو میسر ہیں بلکہ کالج کے طلباء کو عملی تربیت بھی ملتی ہے۔ گورنمنٹ طبیہ کالج بہاولپور کے سربراہان کی تاریخ میں حکیم سید محمد یوسف علی اور حکیم سید شہاب الدین کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں ۔ حکیم شہاب الدین پنجاب کے پہلے ڈپٹی ڈائیریکٹر (یونانی طب) بھی رہے ہیں۔ آج کل حکیم اعجاز احمد ملک اس ادارے کے سربراہ ہیں۔

مزید : لاہور