”ہم ایک چین پالیسی کو تسلیم کرتے ہیں“، پاناما نے تائیوا ن کو چھوڑ کر چین سے سفارتی تعلقات جوڑ لیے

”ہم ایک چین پالیسی کو تسلیم کرتے ہیں“، پاناما نے تائیوا ن کو چھوڑ کر چین سے ...
”ہم ایک چین پالیسی کو تسلیم کرتے ہیں“، پاناما نے تائیوا ن کو چھوڑ کر چین سے سفارتی تعلقات جوڑ لیے

  

پاناما سٹی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وسطی امریکی ملک پاناما نے تائیوان سے سفارتی تعلقات ختم کرکے چین سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایک چین پالیسی کو تسلیم کرتے ہیں۔پاناما حکومت کے اس اعلان پر تائیوا ن کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاناما کے صدر جوآن کارلوس ویلیرا نے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ ہم چین کے ساتھ اپنے مکمل سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔چین کو اپنا انتہائی قریبی ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا مجھے یقین ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے ملک اور عوام کے لیے درست راستہ ثابت ہوگا۔”ہم ایک چین پالیسی کو تسلیم کرتے ہیں“۔

مزید خبریں پڑھیں،وزیر اعظم اور آرمی چیف نے سعودی بادشاہ کو کیا پیغام پہنچایا ؟ تفصیلات جاری کر دی گئیں

اس حوالے سے منگل کو بیجنگ میں پاناما کی وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں باہمی تعلقات کے قیام کے حوالے سے ایک یاداشت پر دستخط کیے، جس کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ چین اور پاناما کے مکمل سفارتی تعلقات کا قیام تاریخی اہمیت کا حامل ہے جس سے تاریخ کے ایک نئے خوابصورت باب کا آغاز ہو گا۔

دوسری جانب پاناما کے فیصلے پر تائیوان نے اپنا سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاناما ڈپلومیٹک منی گیم کھیل رہا ہے۔تائیوان کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لی نے الزام عائد کیاچین پاناما کو تائیوان اور ہمارے عوام کے خلاف بھڑکا رہا ہے۔” تائیوان کی خود مختاری اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے تائیوان پاناما سے اپنے تعلقات ختم کرتے ہوئے اپنے سفارت کاروں اور عملے کو واپس بلا رہا ہے“۔

واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا ایک باغی صوبہ قرار دیتا ہے، دونوں ممالک خانہ جنگی کے باعث 1949ءمیں دولخت ہوگئے تھے ۔

مزید : بین الاقوامی