ہائی کورٹ نے اینٹی کرپشن ٹربیونل کوکرکٹرخالد لطیف کے خلاف کارروائی سے روکنے کی استدعا مسترد کردی

ہائی کورٹ نے اینٹی کرپشن ٹربیونل کوکرکٹرخالد لطیف کے خلاف کارروائی سے روکنے ...
ہائی کورٹ نے اینٹی کرپشن ٹربیونل کوکرکٹرخالد لطیف کے خلاف کارروائی سے روکنے کی استدعا مسترد کردی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی تحقیقات کا سامنا کرنے والے کرکٹر خالد لطیف کی اینٹی کرپشن ٹربیونل کی کارروائی تاحکم ثانی روکنے کی استدعا مسترد کردی ۔

عمران خان پانامہ سازش کیس کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں : کیپٹن صفدر

عدالت نے اٹارنی جنرل کو قانونی نکات کی تشریح کے لئے طلب کرتے ہوئے سماعت10جولائی تک ملتوی کردی ہے ۔جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کرکٹ خالد لطیف کی سنگل جج کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی، کرکٹر کے وکیل بدر عالم نے موقف اختیار کیا کہ سنگل جج نے قانونی نکات کو مدنظر رکھے بغیر ہی ان کی درخواست مسترد کر دی ہے جس میں اینٹی کرپشن ٹربیونل کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا تھا، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ٹربیونل جن رولز کے تحت سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی تحقیقات کرر ہا ہے وہ رولز نوٹیفائیڈ ہی نہیں ہیں۔پی سی بی کے لیگل ایڈوائزر نے نشاندہی کی کہ دو رکنی بنچ نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز  جاری کئے تھے لیکن کسی کی طرف سے جواب نہیں آیا، کرکٹر کے وکیل نے استدعا کی کہ جب تک وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کا جواب نہیں آتا تب تک اینٹی کرپشن ٹربیونل کی کارروائی کیخلاف حکم امتناعی جاری کیا جائے یا ٹربیونل کو حتمی فیصلہ سنانے سے روکا جائے، انہوں نے استدلال کیا کہ اگر پی سی بی کے ٹربیونل کا فیصلہ سنا دیا تو ان کی انٹراکورٹ اپیل غیرموثر ہو جائے گی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ٹربیونل کا فیصلے کو بھی قانونی فورم پر چیلنج کیا جا سکتا ہے، ٹربیونل کی کارروائی کو نہیں روکا جا سکتا کیونکہ جن آئینی درخواستوں میں قانونی دفعات کو چیلنج کیا گیا ہو ان میں حکم امتناعی جاری نہیں کیا جاتا، عدالت نے ٹربیونل کی کارروائی تاحکم ثانی روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو قانونی نکات کی تشریح کے لئے 10جولائی کو طلب کر لیا اور پی سی بی اور وزارت کھیل سمیت دیگر فریقین کو تحریری جواب داخل کرانے کی بھی ہدایت کر دی۔

مزید : لاہور