چیف انفارمیشن کمشنر کی عدم تعیناتی اور معلومات کا تبادلہ نہ کرنے کے خلاف درخواست پر حکومت پنجاب سے جواب طلب

چیف انفارمیشن کمشنر کی عدم تعیناتی اور معلومات کا تبادلہ نہ کرنے کے خلاف ...
چیف انفارمیشن کمشنر کی عدم تعیناتی اور معلومات کا تبادلہ نہ کرنے کے خلاف درخواست پر حکومت پنجاب سے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے چیف انفارمیشن کمشنر کی  عدم تعیناتی اور معلومات کا تبادلہ نہ کرنے کے خلاف درخواست پر حکومت پنجاب سے جواب طلب کر لیاہے۔

موجودہ ماحولیاتی لیبارٹریوں کو فعال کرنے کی بجائے نئی لیبارٹری شروع کرنے پر ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا

جسٹس عاطر محمود نے کیس کی سماعت شرو ع کی تودرخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیاکہ آئین پاکستان کے تحت معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔چیف انفارمیشن کمشنر کی عدم تعیناتی سے شہریوں کومعلومات تک رسائی حاصل نہیں رہی جو کہ آئین پاکستان اور ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف انفارمیشن کمشنر کا عہدہ کئی ماہ سے خالی پڑا ہے۔ہزاروں درخواست گزار مختلف اداروں ،حکومتی منصوبوں اور سرکاری افسران کی معلومات کے لئے انفارمیشن کمیشن سے رجوع کر رہے ہیں مگر انفارمیشن کمشنر کی منظوری نہ ہونے کے سبب معلومات تک رسائی میں بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف حکومتی منصوبوں کے نام پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی تصاویر کی تشہیرکے لئے جارہ شدہ فنڈز کی تفصیلات ،ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں موجود سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھی اعداد و شمار درخواست گزار کو فراہم نہیں کئے جا رہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت انفاریشن کمشنر کی فوری تعیناتی کے احکامات صادر کرے۔سرکاری وکیل نے حکومتی جواب داخل کرنے کے لئے عدالت سے مزید مہلت طلب کی جس پرعدالت نے حکومت پنجاب کو 19جون کے لئے دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

مزید : لاہور