رانا نذر الرحمن۔۔۔ایک دبنگ انسان!

رانا نذر الرحمن۔۔۔ایک دبنگ انسان!
رانا نذر الرحمن۔۔۔ایک دبنگ انسان!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وہ ایک دبنگ انسان تھے،ان کی معیت میں مَیں نے جتنا عرصہ گزارا، اس میں ہر لمحے مجھے سیکھنے کا موقع ملا۔ میری رانا نذر الرحمن سے ملاقات کا سلسلہ2004ء میں شروع ہوا پھر یہ ایسا قربت میں بدلا کہ یکم جون2005ء سے مَیں نے باقاعدہ طور پر اُن کی شاگردی اختیار کر لی۔ رانا نذر الرحمن کا تجربہ اور میری جوانی کی جدوجہد نے میری زندگی کے شب و روز بدل دیئے۔

مجھے ان کے ساتھ پاکستان کے طول و عرض میں شب و روز گزارنے کے مواقع ملے،اُن کی زندگی ایک جہدِ مسلسل سے عبارت تھی،انہوں نے91،92سال کی عمر میں وفات پائی، اِس عمر میں بھی ماشاء اللہ رانا صاحب کا حافظہ بَلا کا تھا۔

انہوں نے اپنی خود نوشت ’’صبح کرنا شام کا‘‘ میں اپنی زندگی کے جو راز عیاں کئے ہیں، ان میں اکثر کا مَیں چشم دید گواہ ہوں، مجھے ان کے ساتھ پراپرٹی کا کاروبار کرنے کا موقع ملا،انہوں نے مجھے شاگرد نہیں،بلکہ اپنے بیٹے اور پوتے کی طرح سمجھا۔میرے لاڈ نخرے بھی برداشت کئے، وہ ہمیشہ کھری بات کرنے کے عادی تھے۔ حساب کتاب کے کھرے انسان تھے۔

حقیقی معنوں میں ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہتے، بلکہ ببانگِ دہل کہتے تھے۔مجھے اُن کے ساتھ ملک کے نامور سیاست دانوں کے ساتھ ملنے اور گفت و شنید کا موقع بھی ملا۔ قاضی حسین احمد(مرحوم) امیر جماعت اسلامی تھے،لیکن رانا نذر الرحمن جس طرح اُن سے گفتگو کرتے تھے، ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی جماعت پاکستان جمہوری پارٹی کے سینئر نائب صدر تھے اور نوابزادہ نصراللہ کی وفات کے بعد پاکستان جمہوری پارٹی کے قائم مقام صدر بھی رہے۔

مولانا ابو الااعلیٰ مودودیؒ کے بہت بڑے مداح تھے۔رانا صاحب کو زندگی بھر یہ دُکھ رہا کہ جماعت اسلامی جب اپنی اصل اساس سے ہٹی تو پھر عوام میں اُس کی جڑیں کمزور ہو گئیں۔ فرید احمد پراچہ، منور حسن، حافظ محمدادریس سمیت بہت سے سیاست دانوں سے قریبی تعلقات تھے۔تمام سیاست دان اُن کا بے حد احترام کرتے تھے۔
رانا نذر الرحمن انجمن شہریان لاہور کے روح رواں تھے، راقم الحروف انجمن شہریان لاہور کا جنرل سیکرٹری تھا، انجمن شہریان لاہور کے پلیٹ فارم سے جتنے پروگرام ہوئے، صوبائی دارالحکومت میں شائد ہی کسی غیر سیاسی پلیٹ فارم سے اس قدر پروگرام ہوئے ہوں۔

رانا نذر الرحمن جماعت اسلامی کا دِل سے احترام کرتے تھے۔ اُنہیں مرتے دم تک اِس بات کا افسوس رہا کہ جماعت اسلامی نے اُنہیں اپنا رکن نہیں بنایا۔ اس کا ذکر وہ اکثر جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کیا کرتے تھے، لیکن وہ ہنس کر ٹال دیتے اور کہتے کہ آپ جماعت اسلامی کے رکن ہی ہیں۔ رانا نذر الرحمن مجیب الرحمن شامی کے بے تکلف دوست تھے۔

مجیب الرحمن شامی سے اُن کی عزیز داری بھی تھی، اِس کے باوجود بھی اُنہیں ان کی کسی بات سے اختلاف ہوتا تواس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے۔ مجید نظامی، جمیل اطہر، الطاف حسن قریشی، حفیظ اللہ نیازی، ہارون رشید سمیت ملک کے نامور صحافی ان کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔سینیٹر ایم حمزہ سے ان کا بڑا قلبی تعلق تھا ان کا بہت احترام کرتے تھے اسی طرح نواب اکبر بگٹی بھی اُن کے دوستوں میں سے تھے۔مانسہرہ سے جاوید خان سواتی کا تو بہت ہی احترام کرتے تھے۔

جاوید خان سواتی بھی رانا نذر الرحمن کا اپنے بھائی کی طرح احترام کرتے تھے ، رانا نذر الرحمن پاکستان تحریک انصاف کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر تھے،لیکن اپنی وفات سے کچھ ماہ پہلے تک وہ تحریک انصاف کی قیادت سے شافی ہو چکے تھے۔

جب جسٹس اعجاز چودھری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے تھے ایک روز وہ میرے ہمراہ ان کے گھر اُنہیں مبارکباد دینے گئے، اُنہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہنے لگے کہ مَیں اگر تمہارے چیف جسٹس بننے پر تمہیں مبارک باد دیتا تو وہ تمہارے عہدہ کو مبارک باد دینا تھا،جبکہ اب مَیں اپنے بیٹے کو مبارک باد دینے آیا ہوں،اس موقع پر چیف جسٹس اعجاز چودھری نے بتایا کہ رانا نذر الرحمن نے ہی مجھے ہاتھ پکڑ کر سکول میں داخل کرایا تھا، تم خوش قسمت ہو کہ رانا نذر الرحمن کے شاگرد ہو۔ ان کا ہمیشہ احترام کرنا، تبھی تم ایک کامیاب انسان بنو گے۔

چودھری شجاعت حسین کے گھر گجرات میں کسی حوالے سے گئے ،مَیں بھی اُن کے ہمراہ تھا تو چودھری شجاعت حسین کافی دیر تک رانا نذر الرحمن کے ہاتھ پکڑ کر کھڑے رہے، چودھری شجاعت حسین کہہ رہے تھے کہ آپ میرے والد کے دوستوں میں سے ہیں۔۔۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی سیاست دان ہو گا جو اُن کا احترام نہ کرتا ہو۔رانا نذر الرحمن اپنی زندگی کے ہر پہلو کے حوالے سے ایک منفرد شخصیت تھے۔ وہ حقیقی معنوں میں عجز و انکساری کا پیکر تھے۔

مَیں نے انہیں زندگی میں کبھی کوئی ایسا عمل کرتے نہیں دیکھا جو منفی ہو، ہمیشہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرتے تھے، جاوید ہاشمی جیسے سیاست دان بھی اُن کا بہت احترام کرتے تھے۔

غرض ان کی زندگی کے کس کس پہلو کا ذکر کروں، وہ اپنی زندگی کے ہر پہلو کے حوالے سے ہی انمول تھے، اللہ تعالیٰ اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آج اُنہیں فوت ہوئے ایک سال ہو گیا ہے، لیکن لگتا ہے کہ وہ آج بھی ہمارے درمیان ہی کہیں موجود ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -