حقِ حکمرانی کا فیصلہ ہو جائے

حقِ حکمرانی کا فیصلہ ہو جائے
حقِ حکمرانی کا فیصلہ ہو جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کی 70 سالہ قومی تاریخ بہت سے ’’ہونے اور انہونے‘‘ واقعات سے بھری پڑی ہے، پاکستان کا قیام گزری صدی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مملکت کی تخلیق ایک معجزاتی واقعہ ہے۔

آل انڈیا مسلم لیگ جو انگریزوں کے ایک مراعات یافتہ گروہ پر مشتمل پارٹی تھی، کے پلیٹ فارم سے ہندی مسلمانوں کی تنظیم اور ترتیب اور پھر محمد علی جناح ؒ جیسے ماڈرن لیڈر کی قیادت میں پاکستان کی تشکیل بلا شک و شبہ ایک ’’انہونی‘‘ ہے جو ہو کر رہی اور خوب ہوئی۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد نہرو اور دیگر کانگریسی زعماء نے برملا کہنا شروع کر دیا تھا کہ پاکستان قائم نہیں رہ سکے گا۔

کیا یہ ’’انہونی‘‘ نہیں ہے کہ پاکستان نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ ریجنل اور بین الاقوامی بساط سیاست کا ایک اہم کھلاڑی بھی ہے۔ تمام عالمی طاقتیں بشمول امریکہ، روس، چین وغیرہ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے اس کی مرہون منت ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اپنی سٹرٹیجک پوزیشن کو بہتر اور موثر انداز میں استعمال نہیں کیا اور قومی تعمیر و ترقی کی وہ منازل طے نہیں کیں جو ہم کر سکتے تھے اور ہمیں کرنی چاہئے تھیں۔

انڈیا، چین اور اسرائیل دیکھتے ہی دیکھتے تعمیر و ترقی کے اعلیٰ مدارج طے کرتے ہوئے طاقتور اقوام کی صف میں شامل ہو چکے ہیں، انڈیا کا 1947ء اور چین و اسرائیل کا قیام 1948ء میں عمل میں آیا۔ انہوں نے بتدریج ترقی کی منازل طے کیں، آج وہ طاقتور اقوام کے طور پر دنیا میں اپنا آپ منوا رہے ہیں لیکن 70 سال بعد بھی ہم ایک بنیادی مسئلے کے حل کے لئے کوشاں ہیں اور وہ ہے ’’حق حکمرانی‘‘ جو طے شدہ ہونے کے باوجود عملاً ایک متنازعہ قومی ایشو ہے۔

محمد نوازشریف نے حال ہی میں جس ’’قومی راز‘‘ سے پردہ اٹھایا ہے وہ ہمارے قومی معاملات میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے جس پر پہلے ہی بہت سے لوگ بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔

نوازشریف نے وہ بات پہلی بار نہیں کہی اور وہ پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے یہ بات کہی ہے کیونکہ وہ احتساب کی زد میں ہیں، مشکل میں ہیں، وہ اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں ابتداً شکست بھی ہو چکی ہے، وہ انتخابی سیاست سے نااہل بھی قرار دیئے جا چکے ہیں، انہیں ان کی پارٹی قیادت سے بھی علیحدہ کیا جا چکا ہے، اس لئے انہوں نے جب ’’نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ کے حوالے سے بات کی تو اس سے جیسے ایک زلزلہ آ گیا کیونکہ وہ اس ملک کے تین دفعہ وزیراعظم بھی رہے ہیں اس لئے ان کی طرف سے دیا گیا انٹرویو اور اس کے مندرجات نے اہمیت اختیار کی ہے۔

ان کے انٹرویو پر ہندوستانی میڈیا نے گرھیں لگائیں تو نوازشریف کے اس انٹرویو کی اہمیت دوچند ہو گئی۔ ہمارے میڈیا نے بھی اسے خوب اچھالا، منفی انداز میں، ایسا لگ رہا ہے جیسے نوازشریف نے کوئی ’’ریاستی راز‘‘ افشا کر دیا ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔

نوازشریف نے بنیادی طور پر اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے جو 70 برسوں سے ہمارے قومی پس منظر اور پیش منظر پر چھایا ہوا ہے اور وہ ہے حق حکمرانی کا سوال یعنی مقتدر کون ہے (Who is sove reign)۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جن اقوام نے اس معاملے کو طے نہیں کیا، وہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکی ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، جرمن، فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا انڈونیشیا، ملائیشیا، تائیوان اور سنگاپور جیسے ترقی پذیر ممالک اس بنیادی مسئلے کو طے کرکے ہی ترقی کے سفر پر گامزن ہو سکے ہیں۔

ہمارے ہاں قیام پاکستان کے فوراً بعد انگریز کی تربیت یافتہ نوکر شاہی (سول بیوروکریسی) نے ریاست کے ملازم اور ماتحت ہونے کی بجائے ’’حاکم‘‘ کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔

سیاست کے معاملات کو چلانا بلکہ گھمانا شروع کر دیا۔ ملک غلام محمد جیسے بیوروکریٹ نے ریاست اور سیاست میں نہ صرف دخل اندازی بلکہ نقب زنی شروع کر دی۔انہوں نے سیاست کو مملکت چلانے اور آگے بڑھانے کی بجائے پتلیوں کا کھیل بنا دیا۔

پھر وہ خود ریاست کی حکمرانی پر براجمان ہو گئے۔ ہم اگر ملک غلام محمد کی ’’کارستانیوں کی تاریخ‘‘ کا مطالعہ کریں تو ہنسی بھی آتی ہے اور شرم بھی۔ پاکستان کا فالج زدہ، لقوہ زدہ گورنر جنرل اپنی جرمن سیکرٹری کے ساتھ مل کر کس طرح ریاست کے ساتھ سیاست کا کھیل کھیلتا رہا۔

پھر سکندر مرزا، جو بیک وقت عسکری اور سول اتھارٹی رکھتے تھے، قومی سیاست میں داخل کئے جاتے ہیں۔ سکندر مرزا مشہور زمانہ میر جعفر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، انہیں انگریزوں نے پالا پوسا، ان کی تربیت کی، فوج میں کمیشن دلایا اور پھر براستہ "LATERAL ENTRY" بیوروکریسی میں لائے گئے۔

انہوں نے پہلے سے جاری کٹھ پتلیوں کے کھیل میں ’’جدت طرازی‘‘ متعارف کرائی۔ ہماری قومی تاریخ ان کی ایرانی نژاد بیوی ناہید سکندر کی سیاسی کارروائیوں سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے ’’کھلاڑی‘‘ کے طور پر قومی سیاسی معاملات کو بڑھاوا دیا۔ قدرت اللہ شہاب کا ’’شہاب نامہ‘‘ اور میم۔

ب خالد کی ’’ایوان صدر میں سولہ سال‘‘ اس دور کی ’’ہونیوں اور انہونیوں‘‘ کا ریکارڈ ہے جسے پڑھ کر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سول اور ملٹری بیوروکریسی نے کس طرح ریاستی امور میں دخل اندازی اور پھر سیاست میں بادشاہ گری کو فروغ دے کر مملکت پاکستان کو کمزور کرنے کی کاوشیں کیں۔ اور عملاً ریاست کمزور ہوتی چلی گئی۔

پاکستان کو پہلا آئین (1956ء) دینے والے چودھری محمد علی کا تعلق بھی انگریز کی تربیت یافتہ بیوروکریسی سے تھا لیکن انہوں نے ایک محب وطن کے طور پر پاکستان کو پہلا آئین عطا کیا، جسے چلنے نہیں دیا گیا۔

سکندر مرزا نے جس آئین کے تحت صدر پاکستان کا حلف اٹھایا اسی آئین کے خلاف عمل کرتے ہوئے پہلے آرمی چیف جنرل ایوب خان کو کابینہ میں جگہ دی پھر اسے مارشل لا لگانے کی دعوت دی۔

جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگانے کے بیسویں دن سکندر مرزا کو صدارت سے معزول کر کے جلا وطن کر دیا اور وہ لندن میں ایک ہوٹل میں ملازمت کے دوران وفات پا گئے اور ایران میں دفن ہوئے۔

جنرل ایوب خان نے پتلیوں کے کھیل کا خاتمہ کیا اور بادشاہ گری کی بجائے خود ’’شہنشاہ معظم‘‘ بن کر ریاست کی زمام کار اور اقتدار سنبھال لی۔ انہوں نے ملک میں صدارتی نظام متعارف کرایا۔ 1962ء کے دستور کے تحت خود صدر مملکت بنے لیکن 1969ء میں سیاسی بحران اور اپنے خلاف چلنے والی عوامی تحریک کے بعد صدارت سے استعفیٰ دیا اور اپنے بنائے ہوئے آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اقتدار آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے سپرد کرکے تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے۔ پھر جنرل یحییٰ نے وہی پرانا کھیل کھیلا۔

بھٹو اور مجیب کے ساتھ سیاست بازی کو، جو بالآخر سانحہ سقوط ڈھاکہ پر منتج ہوئی، پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے بچے کھچے پاکستان میں اقتدار سنبھالا۔ دستور 1973ء کے ذریعے ملک کو پٹری پر چڑھایا، ایٹمی پروگرام شروع کیا، ان کے کریڈٹ پر بہت سے اچھے برے کام ہیں لیکن کیونکہ ہمارا موضوع ’’حکمرانی اور حق حکمرانی‘‘ ہے اس لئے ان کا ذکر نہیں کر رہے۔

جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرکے ملک میں مارشل لا لگا دیا اور ایک قتل کے مقدمے میں انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا۔

اس بارے میں دو آرا پائی جاتی ہیں کہ کیا واقعتاً بھٹو کے خلاف اپوزیشن کے انتخابی اتحاد کی تحریک کے نتیجے میں فوج کو مداخلت کرنا پڑی یا فوج نے خود ہی ایسے حالات پیدا کئے جن کے نتیجے میں فوجی مداخلت کی راہ ہموار ہوئی۔ بہرحال یہ ایک بحث ہے۔

پھر جنرل مشرف نے نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ اس بارے میں تو کوئی شک نہیں کہ جنرل مشرف اپنے جرنیل ساتھیوں کے ساتھ مل کر نوازشریف حکومت کے خلاف ایک عرصے سے مصروف عمل تھے بہرحال جنرل مشرف نے دہشت گردی کی امریکی جنگ میں پاکستان کو جھونک کر ملک کی تباہی و بربادی کا راستہ کھولا۔

اپنے دور حکمرانی میں سپریم کورٹ اور اس کے چیف افتخار محمد چودھری کے خلاف ایکشن اور لال مسجد پر لشکرکشی جیسے شرمناک کام سرانجام دیئے۔ اس دور میں پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کی زد میں آیا۔

افغانستان اور ہندوستان نے پاکستان کے خلاف مورچہ لگایا۔ اس دور میں ہماری خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کے باعث بھارت کو نہ صرف ہمارے خلاف مورچہ زنی کا موقع ملا بلکہ امریکہ کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔

یہ انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان 70 ہزار انسانی جانوں کی قربانی اور 100 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان اٹھانے کے باوجود دہشت گردی کی جنگ میں ’’مشکوک‘‘ قرار پایا ہے۔

جنرل مشرف کے دور حکمرانی میں تاریخی NRO ہوا۔ بڑے بڑے ریاستی مجرموں کو معافی ملی، بے نظیر بھٹو کو پاکستان واپس آنے اور سیاست کرنے کی اجازت ملی اور بالآخر انہیں قتل کرا دیا گیا۔ پھر ان کی ایوان صدر سے رخصتی کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ صدر زرداری کسی نہ کسی طرح اپنی حکومت چلاتے بلکہ نبھاتے رہے۔

افتخار محمد چودھری کے سوموٹو ایکشنز نے انہیں اور ان کی حکومت کو تگنی کا ناچ نچوایا، پھر 2013ء میں نوازشریف کا دور حکومت شروع ہوا تو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو میدانِ عمل میں اتارا گیا۔

نوازشریف کی نااہلی اور پارٹی سے معزولی میں بھی ’’اداروں‘‘ کے کردار کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس طویل اور تاریخی پس منظر میں نوازشریف نے ’’نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ کی بات کرکے ایسے ہی کرداروں کو نمایاں کرنے کی سعی کی ہے۔

پہلے جو باتیں اشاروں کنائیوں میں ہوتی تھیں اب کھلے عام کہی جا رہی ہیں، جو ہو رہا ہے وہ یقیناًنہیں ہونا چاہئے لیکن جو کچھ 70 سالوں سے ہو رہا ہے اس کے ساتھ یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا ہے، ہمیں طے کرنا چاہئے اب ہمیں بطور قوم فیصلہ کرنا پڑے گاکہ اس ملک میں کون حکمران ہوگا، حق حکمرانی کس کا ہے اور وہ کیسے یہ حق لے گا۔

مزید : رائے /کالم