عام انتخابات: مسلم لیگ (ن) کی حکمتِ عملی کیا ہے؟

عام انتخابات: مسلم لیگ (ن) کی حکمتِ عملی کیا ہے؟

ٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗپاکستان میں ہر الیکشن پر سیاستدانوں کی ڈیمانڈ یہی رہی ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے۔ جب جب یہ تجربہ کیا گیا ہے الیکشن کے موقع پر تصادم کے واقعات کم ہوئے ہیں اور پولنگ کے دوران شکایات کا تناسب بھی کم رہا ہے۔

اس بار یہ عجیب خبریں گردش کررہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) فوج کی تعیناتی نہیں چاہتی اور ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنے رہنماؤں کو اس کی مخالفت کا ٹاسک دے دیا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ فوج کو الیکشن کے حوالے سے متنازعہ بنایا جارہا ہے، یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فوج کی پولنگ اسٹیشنوں میں موجودگی سے شفاف انتخابات نہیں ہوسکیں گے۔ یہ الٹی گنگا اسی طرح بہائی جارہی ہے جیسے نیب کیسوں میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دستبردار ہوکر بہائی ہے۔

آج تک ہم نے یہ نہیں سنا کہ جس وکیل نے بھاری فیس لی ہو وہ اپنے موکل کو تنہا چھوڑ کر غائب ہوجائے، اب تو مقدمے میں رہ ہی کچھ نہیں گیا اور چند روز کی سماعت کے بعد فیصلہ ہونے والا ہے، پھر خواجہ حارث نے ایک سو کے قریب پیشیاں بھگتنے کے بعد کیوں اچانک ہمت ہار دی؟ کہا جارہا ہے کہ یہ اقدام مقدمے کو طول دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، پھر جس طرح نواز شریف نے پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ انہیں وکیل نہیں مل رہا، وہ اس امر کی گواہی ہے کہ وہ اب وکیل ڈھونڈنا ہی نہیں چاہتے۔ اِدھر یہ حکمت عملی ہے تو اُدھر فوج کو انتخابات سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ انتخابات کے موقع پر اگر اچانک امن و امان کی صورت حال بگڑ جاتی ہے، تو اس صورت میں کیا پولیس اس پر قابو پا سکے گی؟ پولیس کے پاس تو اتنے بندے بھی نہیں ہوتے کہ ضلع کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر انہیں تعینات کرسکے، اس کے لئے بھی سول ڈیفنس کے رضا کار وردی پہنا کر ایک لاٹھی کے ساتھ کھڑے کرنے پڑتے ہیں۔

پہلی بار مسلم لیگ (ن) ایک بڑے امتحان سے گذر رہی ہے، وگرنہ اس کا انتخابات میں شامل ہونا ہمیشہ تحفظات کے بغیر رہا ہے۔ انتخابی عمل کی پرانی کھلاڑی ہونے کے ناطے مسلم لیگ (ن) کے لئے انتخابات میں حصہ لینا کوئی نئی بات نہیں، اس کے پاس تمام لوازمات موجود ہیں، جو انتخابات کے لئے ضروری ہوتے ہیں، مگر اس بار خارجی حالات کچھ نا موافق ہیں، بہت سی چیزیں مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے نکلتی نظر آتی ہیں، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) آج اسٹیبلشمنٹ کے مقابل کھڑی ہے، پہلے ہمیشہ اسے اس کی سپورٹ حاصل رہی ہے، آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ پولنگ والے دن فوج کو کوئی ذمہ داری دینے کے حق میں نہیں، اس صورتِ حال میں وہ تن تنہا کیا کرنا چاہتی ہے، اس کا کسی کو کچھ علم نہیں۔

پنجاب میں نگران سیٹ اپ بھی مسلم لیگ (ن) کی مرضی کا نہیں آسکا، نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی پر اعتراضات کرکے مسلم لیگ (ن) نے واضح کردیا ہے کہ وہ ان کی موجودگی میں خود کو مشکلات میں گھرا دیکھ رہی ہے۔

سنا ہے کہ پنجاب کی بیورو کریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے لئے فہرستیں تیار ہوچکی ہیں، اور کسی وقت بھی تبادلے ہوسکتے ہیں، ان تبادلوں میں خاص طور پر ان افسروں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا جو شریف خاندان کی براہ راست وفاداری کرتے رہے ہیں۔

یہ بہت بڑا جھٹکا ہے جو شریف خاندان کو انتخابات میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی سے ایسا کوئی معاملہ طے نہیں پاسکتا کہ اپنے خاص افسروں کو بچا لیا جائے۔ سو اب نیوٹرل امپائر کے ساتھ کھیلنے کا وقت آگیا ہے، جس کا مسلم لیگ (ن) کو زیادہ تجربہ نہیں، پھر ایسے واقعات بھی ہورہے ہیں جو پنجاب میں شریف برادران کی نا قابل تسخیر حیثیت کو زک پہنچا رہے ہیں۔

شہباز شریف کی رہائش گاہ کے سامنے سے بنکرز کا خاتمہ اور ان سے بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں اور پروٹوکول کی واپسی ایسے جھٹکے ہیں جن کے وہ کبھی عادی نہیں رہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ انہیں نیب کی تحقیقات اور کہیں مقدمات کا سامنا ہے۔

یہ بھی ڈر ہے کہ کہیں ماڈل ٹاؤن کیس بھی اسی دوران نہ کھل جائے اور ساری توجہ اس کی طرف مبذول کرنا پڑے۔ اب ان حالات کی موجودگی میں اگر یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات ملتوی کرانا چاہتی ہے، یا ان میں حصہ ہی نہیں لینا چاہتی تو انہیں بہت زیادہ بے بنیاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔

میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ نواز شریف اس حال تک اپنی غلطیوں کی وجہ سے پہنچے ہیں، بروقت فیصلے نہ کرنے کی پاداش میں آج انہیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں، وہ چاہتے تو پاناما لیکس کو سنبھال سکتے تھے، اس وقت گیم ان کے ہاتھوں میں تھی اور ان کے ساتھ ان کے سیاسی حلیف بھی موجود تھے، مگر اس وقت وہ اس کی سنگینی کو نہ سمجھ سکے، وہ خواجہ آصف جیسے لوگوں کی باتوں میں آگئے کہ دو چار ہفتوں میں لوگ اسے بھول جائیں گے۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر ٹی او آر بنا کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈتے تو رسوائی کے سلسلے یہاں تک دراز نہ ہوتے، پھر جب ان کی سپریم کورٹ سے نا اہلی ہوگئی تھی تو اسے قبول کرتے، اس کے خلاف محاذ آرائی کی صورت پیدا کرکے خود کو سیاسی طور پر تنہا نہ کرتے، اتنا ضرور سوچتے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مظاہروں یا جلسوں سے ختم نہیں ہوتا۔

یہ کتنا بڑا تضاد تھا کہ ایک طرف وہ عدلیہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور دوسری طرف اسی کے پاس نظرثانی کی اپیل دائر کردی تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کو ہدف تنقید بنائیں اور اسی کے پاس اپنی درخواست دائر کردیں۔

ایک تو قانونی تقاضے ہوتے ہیں، دوسرا نفسیاتی معاملات بھی ایک بڑی حقیقت ہوتے ہیں، اگر کوئی شخص سڑکوں پر کھڑا ججوں کو برابھلا کہہ رہا ہو اور اس کا کیس بھی انہی کے پاس ہو تو کیا وہ اس کے حق میں فیصلہ دے کر یہ تاثر دینا چاہے گا کہ جو بھی آکر برا بھلا کہے گا عدلیہ اس کے حق میں فیصلہ دے دے گی۔

آج بھی میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ نواز شریف اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کو بردباری کے ساتھ قبول کرلیتے تو ان کی مقبولیت کہیں زیادہ ہوتی۔

اس طرح تو انہوں نے ریاست کے اداروں کو للکار کر عوام کی ہمدردیاں کھوئی ہیں، ان کے فوج کی مخالفت میں بیانیے کی تائید کیسے کی جاسکتی ہے؟ موجودہ حالات میں ایک عام آدمی بھی اس حقیقت سے با خبر ہے کہ پاکستان کے خلاف جو قوتیں سرگرم عمل ہیں، ان کا ہدف یہ ہے کہ پاکستانی فوج کو کمزور کیا جائے۔

ڈان لیکس جیسے واقعات نواز شریف دورِ حکومت میں پیش آئے، ان کی مذمت کرنے کے برعکس ان کا دفاع کیا گیا، اس کا نواز شریف کو کیا فائدہ ہوا؟ ان کے اتحادی بھی ان سے دور ہوگئے،حتیٰ کہ چودھری نثار علی خان جیسے ساتھی بھی، جو مشکل وقت میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیتے آئے تھے۔

آج نواز شریف شکوہ کرتے ہیں کہ ان کے لوگ توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کئے جارہے ہیں۔ یہ شکوہ کرنے سے پہلے وہ یہ بھی سوچیں کہ انہوں نے جو سخت بیانیہ اختیار کیا ہوا ہے کیا اس کا ساتھ آسانی سے دیا جاسکتا ہے، کیا عوامی نمائندے خلا میں رہتے ہیں؟ وہ بھی اس زمین پر کسی نہ کسی حلقے میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں۔۔۔ جو لوگ تحریک انصاف میں گئے ہیں، اگر انہیں آج بھی یقین ہوتا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں جیتے گی تو وہ کسی صورت اسے نہ چھوڑتے، لیکن انہیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ جس بیانیہ کے ساتھ نواز شریف انہیں عوام کے پاس بھیجنا چاہتے ہیں، وہ عوام میں مقبول نہیں، بلکہ الٹا رد عمل پیدا کررہا ہے۔

جو بات پہلے کہی جارہی تھی وہ اب سامنے آ رہی ہے کہ جب تک شہباز شریف کو پارٹی کی کمان مکمل طور پر نہیں سونپی جائے گی اور معاملہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا رہے گا تو مسلم لیگ (ن) کا شیرازہ بکھرتا چلا جائے گا۔

آج یہ حال ہوچکا ہے کہ شبہاز شریف اپنی تمام تر کوشش کے باوجود چودھری نثار علی خان کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ نہیں دلوا سکے، بے شمار ایسے حلقے ہیں جہاں ٹکٹوں کا فیصلہ نہیں ہوسکا اور کئی علاقے تو ایسے ہیں جہاں ڈھنگ کا امیدوار بھی نہیں مل رہا، یہ سب چیلنجز ہیں جو مسلم لیگ(ن) کو درپیش ہیں، لیکن ان سے فرار نہیں، بلکہ ان پر قابو پانے کی حکمتِ عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک اب بھی موجود ہے، لیکن اسے بد دل ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کو واضح طور پر اپنا یہ مؤقف سامنے لانا چاہئے کہ ہر قیمت پر انتخابات میں جائیں گے اور مقررہ وقت پر انتخابات ہونے چاہئیں۔ پنجاب سے پیپلز پارٹی ویسے ہی محروم ہوگئی ہے، اب مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی میدان میں ہیں، ان میں کھلا اور صحت مندانہ مقابلہ ہونا چاہئے۔ اس کا انحصار مسلم لیگ (ن) پر ہے کہ وہ اپنے امیدواروں اور حامیوں کو کیسے اس مقابلے کے لئے متحرک اور سرگرم رکھتی ہے؟

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...