تفہیم اقبال: شکوہ، جوابِ شکوہ (12)

تفہیم اقبال: شکوہ، جوابِ شکوہ (12)
تفہیم اقبال: شکوہ، جوابِ شکوہ (12)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

(بند نمبر28)

بوئے گل لے گئی بیرونِ چمن رازِ چمن

کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماّزِ چمن

عہدِ گل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمن

اڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پردازِ چمن

ایک بلبل ہے کہ ہے محوِتر نم اب تک

اس کے سینے میں ہے نغموں کا طلاطم اب تک

اب اس بندکے مشکل الفاظ کے معانی:

غماز(چغلی کھانے والے، راز کی کوئی بات بتانے والے)۔۔۔ زمزمہ پرداز (دلکش نغمے سنانے والے)۔۔۔ محوِ ترنم(گیت گانے میں محو) ۔۔۔ طلاطم (سیلاب)

اب اس بند کی سلیس اردو میں تشریح:

یہ سارا بند ایک استعارہ اور تشبیہ کہا جاسکتاہے۔اس کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ چمن خود چمن والوں کے ہاتھوں لٹ گیا، سب پرندے جو اس چمن میں کبھی نغمہ سرائی کیا کرتے تھے، اڑ گئے اور یہ باغ ویران ہو گیا۔

البتہ اب صرف ایک بلبل ہے جو اکیلا بیٹھا اپنی راگنی سنائے جا رہا ہے۔ اس کے سینے میں اتنے نغمے ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوتے۔ گیتوں کا گویا ایک سیلاب ہے جو اس کے سینے میں ابل اور مچل رہا ہے۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ اس بند میں شاعر نے تشبیہات و استعارات کے جو قرینے استعمال کئے ہیں ان کے بیان کرنے میں کس کمالِ فنکاری سے کام لیا ہے۔ اس بند میں چمن سے مراد مسلم امّہ ہے، پھول اسی امتِ مسلم کے افراد ہیں۔

ڈالیوں سے مراد شہروں اور آبادیوں کے وہ مراکز ہیں جن میں کبھی لاتعداد مسلمان مشاہیر آباد تھے۔۔۔ وہ اب تمام کے تمام رخصت ہو چکے اور چمن برباد ہو گیا۔

غضب یہ بھی ہوا کہ اس باغ کو اجاڑنے والے بھی مسلمان تھے جنہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اس شاد و آباد گلستاں کو ویرانہ بنا ڈالا۔ اب صرف ایک بلبل باقی رہ گیا ہے جو اپنی دھن میں مگن بیٹھا گائے چلا جا رہا ہے۔ اس کے سینے میں گیتوں کا ایک سیلاب موجزن ہے۔ نہ وہ سیلاب ختم ہوتا ہے اور نہ وہ بلبل خاموش ہوتا ہے۔

۔۔۔ یہ بتانے کی شائد ضرورت نہیں کہ اقبال نے جس بلبل کا ذکر کیا ہے، وہ ان کی اپنی ذات ہے جو مسلمانوں کے دورِ ماضی کی عظیم اور دلکش داستانوں کو دہرائے جا رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر29)

قمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں

پتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں

وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں

ڈالیاں پیرِہنِ برگ سے عریاں بھی ہوئیں

قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی

کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی!

اب اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

قمری(ایک سفید رنگ کا پرندہ جس کی شکل کبوتر سے ملتی ہے لیکن اس کا جسم کبوتر کے مقابلے میں چھوٹا ہوتا ہے۔ گردن ذرا سی لمبوتری ہوتی ہے اور وہ جب صنوبر کے درخت میں بیٹھ کر چہچہاتا ہے تو سارے ماحول پر ایک سماں طاری ہو جاتا ہے)۔۔۔ صنوبر (وہ خوبصورت درخت جس پر قمریاں اپنے آشیانے بناتی اور انڈے بچے دیتی ہیں۔ اسی قبیلے کے ایک اور درخت کا نام شمشاد بھی ہے اور اس پر بھی قمریاں بسیرا کرکے خوش ہوتی ہیں)۔۔۔ پیرہن (لباس)۔۔۔ پیرہنِ برگ (پتیوں سے بنایا گیا لباس)۔۔۔ عریاں (ننگا)۔۔۔ قیدِ موسم (موسم کی قید۔۔۔ خاص طرح کے پرندے ایک خاص موسم میں درختوں پر آتے اور نغمہ سرا ہوتے ہیں۔ لیکن اقبال کہتے ہیں کہ میں وہ بلبل ہوں کہ موسم کوئی بھی ہو، غزل خواں رہتا ہے۔)

اب اس بند کا سلیس ارد واور تشریح:

اقبال اس بند میں اپنے آپ کو ایک ایسا تنہا بلبل سمجھ رہے ہیں جس کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے سارا گلشن اجڑ گیا۔

صاحبِ بصیرت شاعر، فلاسفر، سیاستدان یا کسی اور نابغہ ء روزگار شخصیت کی دو آنکھیں ہوتی ہیں۔ ایک کو چشم ظاہر بیں اور دوسری کو چشمِ باطن کہا جاتا ہے۔ چشمِ باطن، چشمِ ظاہر کے مقابلے میں کہیں گہرا وژن رکھتی اور زیادہ دور تک دیکھ سکتی ہے۔

یہ درست ہے کہ عالمِ اسلام کی وہ خستہ حالی جو اقبال کے دور میں تھی وہ یکدم رونما نہیں ہوئی تھی۔ امتِ مسلمہ کو یہ زوال بتدریج آیا۔ اقبال تو اس دورِ زوال کا آخری منظر دیکھ رہے تھے۔ ہاں البتہ ان کی چشمِ باطن مسلمانوں کے عظیم ماضی سے خوب خوب آگاہ تھی۔ اسی لئے اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے ایک اور جگہ کہتے ہیں:

غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا

چن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا

دیکھئے اقبال اس بند میں زوالِ اسلام کا نقشہ کس طرح کھینچتے ہیں اور کن کن تشبیہات سے کام لیتے ہیں۔۔۔ کہتے ہیں کہ اس چمن میں کبھی موسمِ بہار کا شباب ہوتا تھا۔ لیکن آج وہ سب کچھ کہیں نظر نہیں آتا۔۔۔ قمریاں،صنوبر کی شاخوں سے رختِ سفر باندھ کر اڑ گئی ہیں۔

باغ کے سارے پھولوں کی پتیاں جھڑ جھڑ کر خاک میں مل چکی ہیں۔ چمن کی ساری روشیں ویران ہو چکی ہیں اور درختوں کی شاخوں سے پتوں اور کونپلوں کے لباس اتر چکے ہیں اور وہ درخت اب ٹنڈ منڈ ہو کر رہ گئے ہیں۔۔۔ لیکن اس عالمِ یاس میں بھی ایک بلبل ایسا ہے جس پر موسم کی اس یاس انگیز تبدیلی کا کچھ اثر نہیں ہوا۔ وہ اب تک اپنی لے میں نغمہ سرا ہے۔۔۔ کاش کوئی ہوتا جو اس بلبل کی فریاد سمجھ سکتا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر30)

لطف مرنے میں ہے باقی، نہ مزہ جینے میں

کچھ مزہ ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں

کتنے بے تاب ہیں جوہر میرے آئینے میں

کس قدر جلوے تڑپتے ہیں، مرے سینے میں

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں

داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

اب اسی بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

جوہر(آئینے میں جس عنصر سے چمک پیدا ہوتی ہے وہ آئینے کا جوہر کہلاتا ہے)۔۔۔ لالہ (یہ سرخ رنگ کا ایک پھول ہے جس کے درمیان میں کہیں ایک کالے رنگ کا دھبہ بھی موجود ہوتا ہے۔ شاعری کی روائت میں لالے کے پھول کو ایک ایسے عاشقِ زار سے تشبیہہ دی جاتی ہے جس کو آتشِ شوق نے سراپا آتشِ کر دیا ہو اور اس کے مرکز میں جو سیاہ داغ ہے وہ گویا اس پھول کا دل ہے جو عشق کی آگ میں جل بھن کر سیاہ ہو گیا ہے)

یہ بند بھی اقبال کی ذاتی کیفیت کا ترجمان ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ میں زندہ تو ہوں لیکن اس زندگی یا موت کا کوئی لطف باقی نہیں۔ سب کچھ بے معنی اور پھیکا ہو چکا ہے۔ اگر کوئی مزہ رہ گیا ہے تو اپنے ہی خون جگر کے پینے میں ہے۔

اس کے بعد بظاہر اپنی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ذرا دیکھو تو میرے آئینے میں کتنے لِشکارے ہیں جو باہر نکلنے کو بے قرار ہیں اور میرے سینے میں کیسی کیسی بجلیاں پوشیدہ ہیں جو تڑپ رہی ہیں۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے لئے جس آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آنکھ ہی کہیں موجود نہیں۔

کسی کو نظر ہی نہیں آ رہا کہ میں امتِ مرحوم کے غم میں کس قدر سینہ فگار ہو چکا ہوں! ویسے تو اس گلستانِ حیات میں لالے کے کئی پھول کھلے ہوئے ملتے ہیں لیکن مجھے کوئی ایسا گلِ لالہ نظر نہیں آتا جس کے سینے میں سراپا آتش افروز ہو کر جل جانے کا کوئی سیاہ داغ بھی نظر آئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر31)

چاک اس بلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں

جاگنے والے اس بانگِ درا سے دل ہوں

یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوں

پھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے، دل ہوں

عجمی خُم سے تو کیا، مے تو حجازی ہے مری

نغمہ ہندی ہے تو کیا، لَے تو حجازی ہے مری

اب اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

چاک ہونا (پرزے پرزے ہونا، کٹ جانا)۔۔۔درا(قافلے کی وہ گھنٹی جو پرانے زمانے میں قافلوں کے آگے آگے لے جا کربجائی جاتی تھی۔ قافلے کے کچھ لوگ قافلے سے تقریباً دو چار فرلانگ آگے جا کر ایک گھڑیال بجایا کرتے تھے۔

یہ گویا قافلے کی آمد کا گجر ہوتاتھا۔ آس پاس کی آبادیاں اس ’’درا‘‘ کو سن کر جان لیتی تھیں کہ قافلہ آ گیا ہے۔

اور وہ اس میں اپنی خرید و فروخت کا پروگرام مرتب کر لیا کرتی تھیں)۔۔۔ بانگِ درا (درا کی آواز، بانگ دراصل اونچی آواز کو کہا جاتا ہے۔ مسجد میں موذن جب اذان دیتا ہے تووہ بھی چونکہ اونچی آواز میں کہی جاتی ہے اس لئے اس کو ’’بانگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی سے بانگِ اذاں کی ترکیب بنائی گئی ہے جس کا مطلب ہے اذان کی اونچی آواز۔۔۔) عجمی(ایرانی)۔۔۔ خُم (شراب کا مٹکا)۔۔۔ مے(شراب)۔۔۔ لَے(دھن، ٹیون)

اب اس بند کی سلیس اُردو اور تشریح:

شکوے کا یہ آخری بند ہے۔۔۔ اس بند میں اقبال دعا مانگ رہے ہیں۔ یہاں قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ جس خدا سے شکوے کا آغاز کیا تھا اب اسی خدا سے شکوے کے انجام پر رحم کی درخواست کی جا رہی ہے۔ دعا مانگی جا رہی ہے کہ:’’اے خدا! مَیں اگرچہ اس گلستانِ رنگ و بو میں اکیلا نغمہ سرائی کر رہا ہوں لیکن آپ سے دعا کی خیرات مانگتا ہوں کہ تو اس ’’اکیلے بلبل‘‘ کے گیتوں سے سننے والوں کے دِل، چاک چاک کر دے! میری اس بانگِ درا سے چمن میں غفلت کی نیند سونے والے جاگ اٹھیں اور تم سے ایک نیا پیمانِ وفا باندھیں اور اُسی ’’پرانی شراب‘‘ سے پیاس بجھائیں جو تم نے اُن کو کبھی پلائی تھی!

اور آخری شعر تو اس سارے شکوے کی گویا روح ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ اے خدا! میں جس زبان میں یہ شکوہ تمہارے سامنے پیش کر ہا ہوں وہ عربی نہیں، عجمی زبان ہے۔

گمان کیا جا رہا ہے کہ خدا کی زبان بھی گویا عربی ہے کہ جس میں اس نے قرآن کے30 پارے نازل فرمائے تھے۔ عرض کی جا رہی ہے کہ میری شراب جس مٹکے میں بھری ہوئی ہے وہ عربی مٹکا نہیں، غیر عربی(عجمی) مٹکا ہے لیکن اس مٹکے میں جو شراب ہے وہ تو عربی (حجازی) ہے ناں۔۔۔۔ میں نے غیر عربی زبان میں یہ نظم کہہ کر گویا ایرانی خُم میں عربی شراب بھر دی ہے۔

یعنی میری گذارشات تو وہی ہیں جو اُن عربوں کی داستانوں سے وابستہ ہیں جو مسلم اُمہ کے ستون تھے۔۔۔۔ اور اگرچہ میری یہ نظم اُردو زبان میں ہے لیکن اس کی دھن تو حجازی ہے ناں۔۔۔

عربی اور عجمی (فارسی/اُردو وغیرہ) زبانوں کی شاعری کی بحور اور ان کے اوزان الگ الگ ہیں۔ جہاں ایرانی شاعری کی بعض بحریں فردوسِ گوش ہیں اور سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہیں وہاں عربی شاعری کی بحور کانوں کی بجائے دِلوں میں اُتر جاتی ہیں۔ ان کا ترنم، ساز سے نہیں سوز کی چاشنی سے گندھا ہوتا ہے لیکن اس سے تمتع اور فیض حاصل کرنے کے لئے بھی گوش و دِل کی ایک خاص کیفیت درکار ہوتی ہے جو سوز و ساز میں تمیز عطا کرتی ہے۔

مزید : رائے /کالم