سویابین کی زیادہ کاشت سے خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی ممکن

سویابین کی زیادہ کاشت سے خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی ممکن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (اے پی پی) سویابین کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ سے خوردنی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ساتھ تجارتی خسارہ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان زرعی تحقیقاتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق تیلدار اجناس کی ملکی پیداوار خوردنی تیل کی صرف 22 فیصد مقامی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ کے باعث خوردنی تیل کی طلب کے بڑھنے سے درآمدات بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں ایک ہزار ہیکڑ رقبہ پر سویا بین کی فصل کاشت کی جاتی ہے جبکہ پنجاب کے اضلاع جہلم ‘ وہاڑی ‘ ملتان اور اٹک ‘ سندھ میں نوابشاہ اور حیدر آباد جبکہ کے پی کے میں سوات‘ مردان اور صوابی سویابین کی کاشت کے لئے انتہائی موزوں ہیں۔ زرعی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی کے لئے تیل دار اجناس کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کی ضرورت ہے۔

مزید :

کامرس -