ڈالر کی قیمت مین اضافہ ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے ، اقتصادی ماہرین ،صنعتکار

ڈالر کی قیمت مین اضافہ ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے ، اقتصادی ماہرین ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(اسد اقبال)پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 50پیسے اضافے کیساتھ 122 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔اقتصادی امور کے ماہرین اور صنعتکاروں نے ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کو ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ نقصان برآمدی سیکٹر کو ہو گا جبکہ ملکی معیشت کا پہیہ گھمانے کیلئے حکومت کو ایک بار پھر قرض کیلئے آئی ایم ایف کا دروزاہ کھٹکھٹانا ہو گا ۔تفصیلات کے مطابق پیر کی شام امریکی ڈالر 119.60 روپے کی سطح پر بند ہوا تھا ۔ گزشتہ روز صبح جب ٹریڈنگ کا آغاز ہوا تو ڈالر کی قیمت کچھ دیر بعد ہی 50 پیسے اضافہ کے بعد ملکی تاریخ کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی تاہم بعد میں روپے کی قدر میں کچھ استحکام آیا ۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت گزشتہ روز 120.15 روپے رہی ۔ لاہو ر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر طاہر جاوید ملک ، پیاف کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ اور اقتصادی امور کے ماہر تیمور علی ملک نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے بعد ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا ۔ رواں ہفتہ میں ڈالر کی قیمت پاکستانی کرنسی کے مقابلہ میں 6 روپے اضافہ سے غیر ملکی قرضوں کی مالیت میں800ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔صنعت کاروں اور تاجروں نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے برآمدت شدید متاثر ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے کاروباری برادری کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے درآمدی آرڈر میں تاخیر سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی آتی ہے جبکہ معیشت کا پہیہ گھمانے کیلئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے مذید قرض لینا پڑے گا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستانی روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے معاشی پالیسیوں میں بہتری لائے ۔
ڈالر

مزید :

علاقائی -