ایمنسٹی سکیم میں مداخلت نہیں کرینگے ، سپریم کورٹ

ایمنسٹی سکیم میں مداخلت نہیں کرینگے ، سپریم کورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگارخصوصی )سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایمنسٹی سکیم پر سپریم کورٹ کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ ایمنسٹی سکیم ناکام ہوئی تو اسکی ذمہ دار حکومت ہوگی ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم 3رکنی بنچ نے بیرون ملک اکاؤنٹس کا پتہ چلانے اور ملکی معیشت کی بحالی کے لئے گورنر سٹیٹ اور وفاقی سیکرٹری خزانہ کو قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔چیف جسٹس نے کہا کہ قرضے لے کر ہم نے آنے والی پانچ نسلوں کا رزق کھا لیا،سیاسی اور فوجی حکومتوں نے ملکی قرضوں کے بار ے میں کچھ بھی نہیں کیا۔عدالت نے معیشت کی بحالی کے لئے تھنک ٹینک بنانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان لاء اینڈ جسٹس کمیشن بھی اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔عدالتی حکم پر گورنر سٹیٹ بینک نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہو کر بتایا کہ ملکی قوانین میں سقم موجود ہونے کے باعث بیرون ملک اکاؤنٹس تک رسائی میں رکاوٹ کا سامنا ہے، انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات جانچنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے ۔بیرون ملک ہم بین الاقوامی معاہدہ جات میں بندھے ہیں،انہوں نے اعتراف کیا کہ ملکی ناقص پانی 60فیصد بیماریوں کی جڑ ہے، چیف جسٹس نے وفاقی سیکرٹری خزانہ سے استفسارکیا کہ پانی، تعلیم، صحت، ایجوکیشن کے لئے مختص رقم کیاکافی ہے؟ سیکرٹری خزانہ نے اعتراف کیا کہ یہ رقم کافی نہیں ہے،انہوں نے بتایا کہ اکاونٹس کی چھان بین کے لئے دنیا کے ایک سو تین ممالک کے ساتھ معاہدہ جات کئے جا رہے ہیں جن میں سوئزرلینڈ بھی شامل ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈیمز بنانے کی بات کی قوم تعمیر کے لئے پیسے دینے کو تیار ہوگئی ہے، قرضوں پر قرضہ لے کر سود دیا جا رہا ہے، پیسے واپس کس نے کرنے ہیں، بتایاجائے ملکی وسائل اور ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے،ملک میں سمگلنگ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی، ملکی صنعتوں کو اٹھنے ہی نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے لئے تھنک ٹینک بنائے جائیں اس حوالے سیلاء4 اینڈ جسٹس کمیشن کا پلیٹ فارم حاضر ہے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم پر سپریم کورٹ کوئی مداخلت نہیں کرے گی، ایمنسٹی سکیم حکومت کی وجہ سے فیل ہوئی، چیف جسٹس نے بیرون ملک اکاونٹس کا پتہ چلانے اور ملکی معیشت کی بحالی کے لئے گورنر سٹیٹ اور وفاقی سیکرٹری خزانہ کو قبل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ پاکستان کے جتنے بھی بیرون ملک غیر قانونی اکاؤنٹس اور اثاثے ہیں وہ واپس لے کر آئیں،ایف بی آر کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ 4ہزار بلین ملک سے باہر بھجوائے گئے ۔گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ کرنسی کی سمگلنگ روکنے کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے ،10ہزر ڈالرز کی رقم کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی گئی ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا سٹیٹ بینک فارن کرنسی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے ،کیا سٹیٹ بینک کی پالیسی ہمارے کلچر سے مطابقت رکھتی ہے ،آپ ایساقانون مت بنائیں جس سے آپ کو شرمندگی ہو ،آپ کے قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا پھر آپ کہتے ہیں کہ ادارہ کام نہیں کرتا، چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا نے عدالت کو بتایا کہ یکم دسمبر سے103ممالک کے ساتھ بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کی تفصیلات حاصل کرنے کا معاہدہ نافذ العمل ہوجائے گا ،چیف جسٹس نے پوچھا کیا ایسا معاہدہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ بھی کیا گیا ہے ،چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس کے ساتھ الگ سے معاہدہ کررہے ہیں جو زیرالتواء ہے ۔چیف جسٹس نے پوچھا گزشتہ 10سال سے یہ معاہدے کیوں نہیں کئے، حکومت نے فارن اکاؤنٹس کو چیک کیوں نہیں کیا۔یہ افسران پاکستان کے مالک تھے ،بڑے بڑے عہدوں پر فائض افسران نے کوئی کام نہیں کیا، ہم بیوروکریسی کو آزاد اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔خدا کا واسطہ ہے ملک کو ان قوانین کے گنجل سے نکالیں ،بیوروکریٹس وہ کریں جو ملک کے مفاد میں ہے ، ایک موقع پر گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ رقم کی غیر قانونی ترسیل کا پتہ چلانا ہمارا نہیں ایف آئی اے کا کام ہے ۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ صرف دبئی میں پاکستان کی 4ہزار240ارب روپے کی جائیدادیں موجود ہیں ،دبئی میں یہ جائیدادیں635افراد نے خریدیں۔دبئی میں جائیداد خریدنے والے100افراد کی لسٹ ایف بی آر کو بھجوائی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں یہ جاننا ہے کہ ہر پاکستانی بچہ کتنا مقروض ہے ،سیکریٹری خزانہ عارف خان نے بتایا کہ پاکستان پر 24.3ٹریلین روپے کا قرضہ ہے ۔گزشتہ 5سالوں کے دوران 38بلین ڈالرز کا بیرونی قرضہ لیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری انڈسٹری ختم ہوچکی ،ہم نے ساری امیدیں سی پیک سے وابستہ کررکھی ہیں ۔قرضہ لے کر قرضہ اتارا جارہا ہے ،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ حکومت زراعت جیسے اہم شعبے کو نظر انداز کررہی ہے ،ہم اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کررہے ہیں۔عدالت نے گورنر سٹیٹ بینک کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ ہدایت کے ساتھ کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔
ایمنسٹی سکیم

مزید :

صفحہ اول -