کرپشن میں ملوث سرکاری افسروں، اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
لا ہو ر ( رپورٹ: یو نس با ٹھ) نگران حکومت نے کرپشن میں ملوث سرکاری افسروں اور اہلکاروں کیخلاف کارروائی کے آ غاز کا فیصلہکر لیا ہے اورکرپشن میں ملوث میں سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں سابقہ دور حکمرانی میں پنجاب پولیس کے ایس ایس پی سے لیکر سپا ہی تک ہزاروں ملازمین سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہونے کے باوجود اپنی سیٹو ں پر براجما ن رہے اور انھیں ملازمت سے نہیں نکالا گیااور وہ اثرورسو خ کے بل بو تے پر اپنی ڈیو ٹیا ں سر انجا م دیتے رہے جبکہ پنجا ب میں 3ہزار سے زائد پو لیس ملازمین کے خلاف رشوت لینے پر اینٹی کر پشن میں مقد ما ت درج ہو ئے مگر اس کے باوجو اپیلیں کر نے پر انھیں بھی بحا ل کر دیا گیا ۔ ڈی ایس پی محمد جہانگیر بٹ اورڈی ایس پی ارشد خا ں، انسپکٹر محمود بھٹی ، انسپکٹرمشتاق احمد، انسپکٹر اللہ دتہ ، انسپکٹر محمد یونس ، انسپکٹر حسنین ،سب ا نسپکٹر ناصر حمید‘ سب انسپکٹر محمد طارق‘ سب انسپکٹر امجد جاوید سمیت متعدد پو لیس افسران کے خلاٖ ف ر شوت لینے پر مقد مات درج ہیں مگرسفا رش کے بل بو تے پر وہ ڈیو ٹی پر موجود ہیں ۔ ایک سا بق ایس ایس پی اور دو ایس پی قمرالزمان اور ایس پی محمد اسلم بھی ایسے پولیس افسران میں شامل ہیں جن کیخلاف اینٹی کرپشن میں رشوت کے مقدمات درج ہوئے۔ مگر وہ بھی ڈیو ٹی پر مو جود رہے ۔ اب ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبہ بھرمیں تمام سرکاری محکموں میں تعینات ایسے تمام افسروں اور اہلکاروں کو فیلڈ ڈیوٹی سے فوری طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔جن کے خلاف اینٹی کر پشن میں مقد ما ت درج ہیں۔ذرا ئع کے مطابق نگران حکومت نے کرپشن میں ملوث سرکاری افسروں اور اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا آ غاز کیا ہے اوردرج ہونے والے ایسے مقدمات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں۔اس بارے میں ذرائع کے مطابق لا ہور پولیس کے515افسروں اور اہلکاروں کے نام شامل کئے گئے ہیں۔اس بارے میں موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق گزشتہ چند سال کے دوران پنجاب میں3210سرکاری افسروں اور اہلکاروں کیخلاف اینٹی کرپشن اور مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہوئے تا ہم اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان افسران اور اہلکاروں میں سے کئی تو ریٹائرڈ ہو گئے جبکہ بعض نے مدعیوں سے مبینہ طور پر صلح کر لی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب اس پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوا تو کئی آفیسر اور ملازمین ریٹائر ہوگئے یا وفات پا گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان سرکاری افسروں اور اہلکاروں پر کڑی نظر رکھی جائے تا کہ وہ کسی بھی طریقے سے دوبارہ فیلڈ ڈیوٹی حاصل نہ کر سکیں جبکہ انہیں کوئی خصوصی اسائنمنٹ بھی نہ دی جائے۔ریٹائرڈ ہونے والے ایسے پولیس افسروں میں سابق ایس ایس پی انوسٹی گیشن لا ہور چودھری شفقات احمد بھی شامل ہیں جن کیخلاف اینٹی کرپشن میں13لاکھ روپے رشوت لینے کا مقدمہ درج ہوا۔سابق ایس پی قمرالزمان اور سابق ایس پی محمد اسلم بھی ایسے پولیس افسران میں شامل ہیں جن کیخلاف اینٹی کرپشن میں رشوت کے مقدمات درج ہوئے۔ان دستاویزات کے مطابق پنجاب پولیس کی تاریخ میں ہیروئن خورد برد کا سب سے بڑا اسکینڈل2012میں ہوا جب ڈی ایس پی رائے ونڈ محمد جہانگیر بٹ نے ملزمان سے قبضہ میں لی گئی92کلو اعلیٰ کوالٹی کی ہیروئن خورد برد کر لی۔ان کیخلاف تھانہ رائے ونڈ سٹی میں مقدمہ نمبر282/12درج ہوا اورسابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر اسے گرفتار کر کے جیل بھجوایا گیا۔ڈی ایس پی ارشد خان کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر19/11 درج ہوا۔ان کیخلاف رشوت لینے اور اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام تھا۔انسپکٹر ناصر حمید‘ سب انسپکٹر محمد طارق‘ سب انسپکٹر امجد جاوید‘ ہیڈ کانسٹیبل راشد علی‘کانسٹیبل محمد رمضان‘کانسٹیبل وقار انور‘ کانسٹیبل غلام علی‘کانسٹیبل امجد علی‘ کانسٹیبل فیاض احمد کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر7/13اس وقت درج ہوا جب یہ تمام تھانہ گلشن راوی میں تعینات تھے اوران پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر گلریز نامی شہری سے47ہزار روپے رشوت لی۔انسپکٹر طیب اشرف کیخلاف اینٹی کرپشن میں2/13مقدمہ درج ہوا۔ان پر ایک لاکھ50ہزار رشوت لینے کا الزام تھا۔انسپکٹر عبدالرزاق اور اکاؤنٹنٹ خالد محمود کیخلاف تھانہ سول لائن میں مقدمہ نمبر937/09درج ہوا۔دونوں پر سرکاری ریکارڈ میں ہیرا پھیری اور غبن کا الزام تھا۔اس مقدمہ کا مدعی ایس ایچ او تھانہ سول لائن تھا جبکہ مقدمہ سی سی پی او کے حکم پر درج ہوا۔انسپکٹر شکیل احمد کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر19/13درج ہوا۔اس وقت وہ ایس ایچ او تھانہ شاہدرہ ٹاؤن تھے۔ان کیخلاف رشوت‘ فراڈ اور ہیرا پھیری کے الزامات تھے۔انسپکٹر محمود بھٹی کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر23/13درج ہوا۔ ان کیخلاف رشوت‘ فراڈ اور دیگر الزامات تھے۔انسپکٹر اللہ دتہ کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر64/13درج ہوا۔ان پر رشوت اور دیگر سنگین الزامات تھے۔انسپکٹر محمد یونس کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر69/13درج ہوا۔ان پر رشوت‘ فراڈ و دیگر الزامات تھے۔انسپکٹرمشتاق احمد کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ نمبر15/12 جبکہ انسپکٹر رانا ایاز کیخلاف مقدمہ نمبر37/12درج ہوا۔دونوں پر رشوت کے الزامات تھے۔انسپکٹر جاسم احمد کیخلاف تھانہ ننکانہ میں مقدمہ نمبر3/11درج ہوا۔ان پر سر کاری فائلوں میں ہیر پھیر کر نے کا الزام تھا یوں تو یہ مقد مے کئی سال پرانے ہیں مگرسابق دور حکمرانی میں انھیں چالان کر نے کی بجا ئے کئی افسران کے مقد مات کومن گھڑت قرار دے کر دبا دیا گیا ۔
