جنرل باجوہ کی افغان صدر سے ملاقات،دوطرفہ امور،خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
کابل،راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ افغان صدر کی دعوت پر منگل کو کابل پہنچے جہاں انہوں نے اشرف غنی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔افغان صدر سے ملاقات میں پاکستان افغا نستا ن ایکشن پلان فار سولیڈیرٹی پر عملدرآمد کے علاوہ دوطرفہ تعلقات اور خاص طور پر امن و مصالحت کی کو ششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جنرل باجوہ کی کابل روانگی سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا پاکستان افغانستان کی اتحادی حکومت، امریکہ اور نیٹو فورسز کی طرف سے ملک میں قیامِ امن کی کوششوں کی کامیابی کا خواہاں ہے ۔ ، پاکستان افغانستان میں امن واستحکام کا خواہشمند ہے اورپاکستان اتحادی ممالک اورافغان حکومت میں یکجہتی دیکھنا چاہتا ہے۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بذریعہ ٹوئٹ بتایا افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر ان سے ملاقات کیلئے سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کابل گئے ہیں، پاکستان قومی اتفاق سے بننے والی حکومت اور امریکہ و نیٹو کی کو ششو ں سے افغانستان میں قیام امن دیکھنے کا خواہشمند ہے۔ ٹوئٹ میں انکا مزید کہناتھا پا کستان اْمید کرتا ہے افغانستان میں امن بحال کرنے کیلئے اتحادی حکومت ، امریکہ اورنیٹو کامیاب ہونگے۔ دوسری جانب افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے اشرف غنی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس عمل میں سہولت فراہم کرنے پر اپنے کردار پر فخر کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے گزشتہ سال یکم اکتوبر کو پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی جہاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے ٹاسک ٹیمیں بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا ۔ جنرل قمر باجوہ اور اشرف غنی کے درمیان صدارتی محل کابل میں ملاقات ہوئی تھی جہاں دو طرفہ تعلقات، امن و استحکام، انسداد د ہشت گردی کے لیے کوششوں، کاروباری اور دیگر تعلقات زیر بحث آئے تھے۔اشرف غنی نے ملاقات کو افغانستان اور پاکستان کے د ر میان تعلقات کا ایک نیا سیشن قرار دیا تھا اور کہا تھا تعاون کیلئے اچھے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ اٹھانا چا ہیے ۔ جنر ل قمر باجوہ کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے کہا تھا اسلام آباد، انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں افغانستان کی مدد کیلئے تیار ہے جو دونوں کیلئے مشترکہ خطرہ ہے۔اس ملاقات کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے اعلا میے کے مطابق دونوں ممالک نے ماضی کو بھلا کر بہتر مستقبل کیلئے سخت محنت کرنے پراتفاق کیا۔ پا کستا ن اور افغانستان کے درمیان تعلقات اتار چڑھاو کا شکار رہتے ہیں تاہم دو طرفہ رابطوں میں حالیہ مہینوں میں بہتری آئی ہے۔مئی کے اواخر میں افغانستان کے ایک اعلی سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس کے سربراہ معصوم استنکزئی، فوج کے سربراہ محمد شریف یفتالی اور وزیر داخلہ واعظ برمک بھی شامل تھے۔اس دورے میں افغان وفد نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ سے بھی ملاقات کی تھی۔اس ملاقات کے بعد آئی ایس پی آرسے جاری ایک بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان وفد سے کہا تھا طویل تنازعات سے دونوں ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اب وقت آ گیا ہے پاکستان اور افغانستان مل کر خطے میں امن کا راستہ تلاش کریں۔جنرل باجوہ کا کہنا تھا دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی صورت ایک دوسرے کیخلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے ۔
جنرل باجوہ ملاقات
