فاٹا انضمام کے بعد خیبر ایجنسی کا نام تبدیلی ہو کر ضلع ایجنسی ،پی اے ،ڈی سی بن گئے
خیبر ایجنسی (عمران شنواری )فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام ہو نے کے بعدخیبر ایجنسی کا نام تبدیل ہو کر ضلع ایجنسی بن گئی ہے جبکہ پولیٹیکل ایجنٹ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اسسٹنٹ کمشنر بن گئے انضما م کے بعد خیبر پختونخوا وزیر داخلہ نے نوٹیکفیکشن کے زریعے ایجنسی ٹیکس ختم کر دیا گیا جس کے بعد امپورٹ ایکسپورٹ ٹیکس وصولی بند کر دی گئی ایجنسی ٹیکس بند ہونے کے بعد ضلع ایجنسی میں سخت مشکلات پیدا ہو گئے پولیٹیکل انتظامیہ ایجنسی ٹیکس سے علاقے میں ہر مہینے دس لاکھ روپے کی پانی ٹینکروں کے زریعے لوگوں کو مہیا کر رہے تھے کیونکہ ضلع ایجنسی میں زیا دہ تر علاقوں میں پینے کی صاف پانی کی شدید قلت ہیں اس لئے زیا دہ تر لوگوں کی پینے کی صاف پانی کی ضرورت ایجنسی فنڈ سے پوری ہو رہی تھی لیکن اب فنڈ کے ساتھ پانی کی ترسیل بھی بند ہو گئی اسی طرح ایجنسی فنڈ سے شہداء کے بچوں کو ماہانہ وظیفہ ملتا تھا اور طلباء سکالر شپ بھی اسی فنڈ سے تھا جو اب وہ بھی بند ہو گئے جبکہ کالجوں میں طلباء کی تعدا زیا دہ ہو نے کی صورت میں پولیٹیکل انتظامیہ نے کالجز میں سیکنڈ شفٹ شروع کر رکھا تھا اور پرائیویٹ لیکچررز کو ایجنسی فنڈ سے تنخواہیں دے رہے تھے بلکہ سالانہ لاکھوں روپے غریب مریضو ں کیلئے فنڈ بھی ایجنسی ٹیکس سے دی جا رہی تھی جو اب غریب مریضوں کو بھی فنڈ نہیں ملے گا اسی طرح دفتروں میں زیا دہ کام کرنے والے اہلکار بھی ایجنسی فنڈ سے تعینات تھے جو اب انکو بھی فارغ کر دئے گئے انضمام کے بعد چیک پوسٹیں ختم کر دی گئی اور خاصہ دارفورس کو ہٹا دی گئی اور خاصہ دار فورس کو واضح ہدایات جا ری کر دی گئی کہ کسی چیک پوسٹ پر اور چیک پوائنٹس پر کسی قسم کی وصولی نہیں کی جائیگی جسکی وجہ سے خاصہ دار فورس کی مشکلات میں بھی شدید اضافہ ہو گیا ہے خاصہ دار فورس زرائع کے مطابق کہ خاصہ دار فورس کی ایک اہلکار کی تنخواہ تقریبا پندرہ ہزار روپے ہیں پندرہ ہزار روپے میں وہ کیسے خرچے پو را کر ینگے کیونکہ خاصہ دار اہلکار اسلحہ کھانے پینے کا بندوبست اور علاقے میں امن اومان برقرار رکھنے کیلئے گشت کے دوران گاڑیوں کی ایندھن کا خرچہ اور اعلی حکام کے دوروں کے دوران انکے ساتھ ڈیوٹیاں کرنا علاقے میں امن اومان کا مسئلہ پیدا ہو نے کی صورت میں بروقت پہنچنے کی صورت میں تما م خرچے اپنے وسائل سے پو را کرر ہے تھے لیکن اب وہ مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں زرائع کے مطابق کہ انضمام کے بعد خصوصی پیکج کے زریعے خاصہ دار فورس کو فارغ کیا جائیگا اور تمام اختیارات لیویز فورس کو سونپ دیئے جائے گے جس پر خاصہ دار فورس، جمعیت علماء اسلام (ف) اور فاٹا گرینڈ الائنس نے پولیو بائیکا ٹ کا اعلان بھی کیا ہے اور 20جون کو جمرود سپورٹس کمپلیکس میں احتجاجی جلسہ منعقد کر نے کا اعلان بھی کیا گیاہے خاصہ دار فورس کے اہم زرائع نے بتا یا کہ اگر خاصہ دار فورس کی مطالبا ت تسلیم نہیں کئے گئے تو الیکشن سے بائیکا ٹ کا آپشن بھی موجو دہیں کیونکہ خاصہ دار فورس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ انہوں نے ملک وقوم کی خاطر خون کے نذرانے پیش کئے ہیں واضح رہے کہ انضمام کے بعد فوری طور پر سخت فیصلے کئے گئے اور یہ تمام مراعات بند کر دئے گئے پہلے سے قبائلی عوام شدید مشکلات سے دوچار تھے اور اوپر سے یہ سخت فیصلے بھی ٹھوک دئے گئے انضما م سے پہلے قبائلی عوام کو متبادل دینے کیلئے اقدامات کر نے چاہئے تھے اور سہولیات کیلئے اور خصوصا پینے کے صاف پانی کیلئے فنڈ مہیا کر دینا چاہئے تھا ان تمام اقدامات سے مشکلات کم ہونے کی بجائے مزید سخت اور سنگین ہو گئے ہیں
