ملاکنڈ کی قومی نشست پر امپورٹیٹڈ امیدوار کسی صورت قبول نہیں ،حق نواز خان
بٹ خیلہ (بیورورپورٹ)ملاکنڈ کے قومی نشست این اے 8ملاکنڈ پر ایم ایم اے کے امیپورٹڈ امیدوار لانے سے جمعیت علماء اسلام ملاکنڈکے کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی آمیر مولانا گل نصیب خان اپنے حلقہ انتخاب ملاکنڈ کے فیصلہ پر نظر ثانی کریں اور پارٹی کو اختلافات سے بچانے اور کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اپنے اپ کی بجائے کاغذات نامزدگی جمع کر نیوالے ملاکنڈکے علاقائی چار امیدوار وں میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دیں ۔یہ مطالبہ جمعیت علماء اسلام ملاکنڈ کے راہنماء حق نواز خان ایڈوکیٹ،صفدر عباس خان ایڈوکیٹ،ضلعی جنرل سیکرٹری مفتی کفایت اللہ،ضلعی نائب امیر وارث خان، ضلعی جائینٹ سیکرٹری محمد امین،تحصیل جنرل سیکرٹری حبیب الحق سمیت یونین کونسلز کے متعدد عہدیداروں نے پریس کلب آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ کے تاریخ میں کھبی بھی باہر سے لایا گیا امیدوار کامیاب نہیں ہوا اور ایسا نہ ہوکہ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر بھی کامیابی حاصل نہ کرسکے اور پھرصوبہ بھر میں پارٹی کی بدنامی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی امیر کا خود الیکشن لڑنے کا ارادہ تھا توپھر ملاکنڈ کے امیدواروں پر داخلہ کیوں کرایا گیا اور ان سے انٹرویوز کیوں لئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ کے قومی نشست کے ٹکٹ کے اجراء میں میرٹ کی پامالی کی گئی اور جے یو ائی کے مجلس عمومی جو سپریم پاور کی حیثیت رکھتی ہے کو بھی بائی پاس کیا گیا اور کارکنوں سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا جو باعث افسوس ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان کی بحثیت امیدوار نامزدگی سے کارکن ہر گز خوش نہیں اور اگر فیصلہ واپس لیکر علاقائی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تو کارکنوں کے درمیان شدید اختلافات کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن 2013کے فارمولے کے تحت این اے 8ملاکنڈ جمعیت کے حصے میں اتا ہے اور باقی دو صوبائی سیٹوں پر جماعت اسلامی کا حق بنتا ہے جس پر جماعت اسلامی نے علاقائی امیدواروں کو جبکہ جے یو ائی نے امیدوار ایمپورٹ کرکے اپنے کارکنوں کو مایوس کردیالہذا ہم پارٹی کے عظیم تر مفاد میں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ باہر سے امیدوار مسلط نہ کریں بلکہ علاقائی امیدوار کا انتخاب کریں جس پر کسی کا کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔
