15سالہ تجربہ نہ رکھنے والے وکیل کے انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی کا اقدام چیلنج
پشاور(نیوزرپورٹر)پاکستان بارکونسل کی جانب سے پندرہ سال سے کم وکالت کاتجربہ رکھنے والے وکلاء پرتحصیل ٗ ضلع اورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں حصہ لینے پرپابندی عائد کرنے کے اقدام کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے جبکہ پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس اکرام اللہ خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے اٹارنی جنرل اورخیبرپختونخوابارکونسل کے چیئرمین/ایڈوکیٹ جنرل کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے بنوں کے وکلاء ولی ایازخان وغیرہ کی جانب سے دائررٹ پٹیشن کی سماعت کی اس موقع پر ان کے وکیل شیرمحمدخان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان بارکونسل نے پریکٹیشنرزایکٹ میں ترمیم کی ہے جس کے تحت تحصیلٗ ضلع اورہائی کورٹ بارایسوسی ایشنز کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پندرہ سال بطوروکالت تجربہ لازم قرار دیاہے جبکہ قبل ازیں اس طرح کی کوئی شرط نہ تھی جو کہ وکلاء برادری کے ساتھ زیادتی ہے اوراس طرح وکلاء کی بڑی تعداد کو ان کے آئینی حق سے محروم کردیاگیاہے جوکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے لہذااس ترمیم کوکالعدم قرار دیا جائے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد خیبرپختونخوابارکونسل کے چیئرمین /ایڈوکیٹ جنرل اوراٹارنی جنرل کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے
