ملتان کے صوبائی حلقوں پی پی 213سے 39، 214سے 24امیدوار میدان میں
ملتان(سٹی رپورٹر)ملتان پی پی 213 اور پی پی 214 سے نئے پرانے کئی سیاسی امیدوار میدان میں آگئے،مجموعی طور پرن لیگ اور پی ٹی آئی میں ون ٹو ون مقابلہ ہوگا مگر ن لیگ اسی (بقیہ نمبر10صفحہ12پر )
صورت کامیابی حاصل کرے گی اگر دھڑے بندیوں کا خاتمہ کو یقینی بنائے گی ، بصورت دیگر ن لیگ کی اندرونی چپقلش کا فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا ،پی پی 213سے پہلے شہزاد مقبول بھٹہ ایم پی اے تھے جوکہ اب دوبارہ میدان میں اتر چکے ہیں مگر تاحال ن لیگ نے بھی ٹکٹ کا فیصلہ نہیں کیا ،پی پی 213 سے39 امیدوارمیدان میں آگئے ہیں جن میں ن لیگ سے میاں شہزاد مقبول بھٹہ ،پیرزادہ اظہرمقبول بھٹہ،پی ٹی آئی کی طرف سے میاں محمدسلیمان قریشی،محمدعدنان ڈوگر،محمدعثمان ڈوگر،وسیم خان بادوزئی،محمدمعین الدین ریاض،شاہدرضا،ملک محمد خان،ایم ایم اے اور جماعت اسلامی کی طرف سے محمدصفدراقبال ہاشمی،پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سیدہ بشریٰ نقوی میدان میں اترنے کااعلان کرچکے ہیں دیگرکاغزات جمع کراکر میدان میں اترنے والوں میں محمدخالد اسد،رانانثاراحمد،ندیم الدین،محمدساجدخان،،منورعلی قریشی،شیخ صادق حسین،عبدالنعیم،پرویز اخترساجد،حسنین رضا،ملک محمدعلی،سیدمقبول احمدشاہ بخاری،نوابزادہ ،محمدعامرخان بادوزئی، عمرفاروق، محمدسلیم قریشی، محمد زاہد، محمد منظور کھوسہ، سید مہدی الحسن شاہ، ظفراقبال، سردارمحبوب رزاق کھیتران، مسرت آراء، ملک ساجدنواز، غزالہ پروین، دلشاد علی شاہ، جمیل احمد، عون عباس، مبشر علی خان درانی، مجیب احمد، خالداحمدکھوکھرشامل ہیں‘تاحال اس حلقے سے ن لیگ اور پی ٹی آئی نے کسی امیدوار کو فائنل نہیں کیا جبکہ اس حلقے میں پی ٹی آئی اور ن لیگ میں ہی کانٹے دارْ ّ مقابلہ متوقع ہے ۔ یہاں ن لیگ کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے مگر اس وقت جاری لہر کے پیش نظر پی ٹی آئی کی طرف عوام کارجحان خاصا بڑھ چکا ہے جبکہ پی پی 214 سے 24 امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں جن میں مسلم لیگ ن کی طرف سے ملک آصف رفیق رجوانہ، شیخ اطہر ممتاز،رانا محمد ذیشان،محمد بلال بٹ ،ملک انور علی،راؤ انیس الرحمان نے کاغذات جمع کرادیئے ہیں اور پارٹی ٹکٹ کے منتظر ہیں تاہم ن لیگ کی قیادت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ، پیپلز پارٹی کی طرف سے محمد عثمان بھٹی امیدوار ہیں ، پی ٹی آئی کی طرف سے ظہیرالدین خان علیزئی،شاہد محمود نے کاغذات جمع کرائے تھے اور پی ٹی آئی قیادت نے سابق ایم پی اے ظہیر الدین خان علیزئی کو بطور امید وار فائنل کرلیا ہے ،ایم ایم اے کی طرف سے شیخ جمشید حیات امیدوار ہیں دیگر امیدواروں میں راؤ نعمان ، عمر عباس، شکیل حسین،ملک انور علی،شاہد حمید، حسن خان علیزئی،حسین،نعیم النساء ،حفیظ انور گوہر،عابد علی،خواجہ عادل محمود،راؤ مظہر الاسلام،ظفر اقبال بھٹی بھی امیدوار ہیں۔ اس سے پہلے اس حلقے سے پی ٹی آئی کے ظہیر علیزئی ایم پی اے رہے ہیں ۔قبل ازیں شاہد محمود خان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد استعفیٰ دینے پر ضمنی الیکشن ہونے پر پی پی کے مڈل کلاس سیاسی ورکر سابق یوسی نائب ناظم عثمان بھٹی ایم پی اے بنے تھے اور اب کوٹلہ تولے خان ناظم آباد یوسی 1 یوسی 2 ودیگر علاقوں میں عثمان بھٹی کا ذاتی خاصا ووٹ بینک ہے ، یوسی 9 ، یوسی 11 ، یوسی 5 اور6 میں ن لیگ کا خاصا ووٹ بینک ہے جس کا ن لیگ کو فائدہ ہوگا۔ دیگر یونین کونسل اور علاقہ جات میں پی ٹی آئی کا خاصا ووٹ بینک موجود ہے۔ ن لیگ کی طرف سے اگر آصف رجوانہ کو ایم این اے کا ٹکٹ جاری نہ کیا گیا تو قوی امکان ہے کہ انہیں اس صوبائی حلقے کا ٹکٹ جاری کردیا جائے تاہم اس شہر ی حلقہ میں ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ون ٹوون مقابلہ ہوگا مگر ن لیگ کی جیت صرف اسی صورت میں ہوگی اگر دھڑے بندی کو صدق دل سے ختم کیا گیا ۔
