ڈونلڈ ٹرمپ کو جو بھی کہہ لیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ....

ڈونلڈ ٹرمپ کو جو بھی کہہ لیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ....
ڈونلڈ ٹرمپ کو جو بھی کہہ لیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ....

  

بارہ جون 2018 کا دن اس لئے اہم ہے کہ لگ بھگ ستر سال کی مخاصمت کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا کے رہنما ایک دوسرے سے سنگا پُور کے جزیرہ میں ملے ہیں۔ جس کی عا م حالات میں توقع نہیں کی جا سکتی تھی ۔لیکن دونوں لیڈروں نے اپنے عزم سے اس مُلاقات کو دُنیا کی تاریخ میں ایک مثال بنا دیا ہے۔ دونوں مُلکوں کے رہنماءاپنے مزاج کے اعتبار سے کافی تُند مانے جاتے ہیں۔ دونوں رہنماﺅں کا انداز سیاست عام سیاست دانوں سے انتہائی مُختلف ہے۔ وُہ اپنی مزاج کے مُطابق امور سلطنت چلاتے ہیں۔ اُن کو اس بات کی کو ئی فکر نہیں کہ آئنیدہ اُنکو بطور صدر یا چیئر میں چُنا جائے گا یا نہیں۔ اُن کے من میں جو بھی آتا ہے وُہ کر گُزرتے ہیں۔

چند روز پہلے سنگار پور جانے سے پیشتر صدر ٹرمپ کینیڈا کے دورے پر آئے تھے جہان جی سیون کا اجلاس مانٹیریا ل میں منعقد ہو رہا تھا۔ وُہ اجلاس میں شرکت کے لئے آئے ضرور تھے لیکن اُن کے مزاج کو دیکھ کر عام آدمی بھی اندازہ کر سکتا تھا کہ وُہ عالم مجبوری میں تشریف لائے ہیں۔ کینیڈا روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے کینیڈا کے وزیر اعظم کی یہ کہہ کر خبر لی کہ کینیڈا اگر امریکہ سے تجارتی تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے تو کینیڈا کو اپنے روئےے میں تبدیلی کرنی پڑے گی۔

قارئین کی اطلاع کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان فری ٹریڈ کا تجارتی معاہدہ موجود ہے جس کی روُ سے تینوں مُلکو ںکے درمیان اربوں ڈالزز کی ہر روز تجارت ہو تی ہے۔ یہ معاہدہ نافٹا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسکی تجدید مقررہ مُدت پر رسمی طور پر ہو جاتی ہے۔ لیکن اس دفعہ اس معاہدے کی تجدید امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ایک سنجیدہ مسئلہ بن چُکی ہے۔ امریکی صدر کینیڈا کی قیادت سے خفا ہے کہ وُہ امریکی مصنوعات پر ۰۰۳ فیصد کسٹم لگاتے ہیں جس سے امریکہ کی معاشیات پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ لہذا، امر یکہ بھی سٹیل اور ایلومینیم کی مصنوعات پر ڈیوٹی بڑھا دے گا۔ لیکن اگر کینیڈا اس تجارتی معاہدہ کی تجدید چاہتاہے تو اس کو اپنے تجارتی رو ئیے میں تبدیلی لا نی ہو گی۔ علاوہ ازیں، کسٹم ڈیوٹی کو کم کرنا ہوگا۔ ورنہ امریکہ کینیڈین اشیا پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے پر مجبور ہو گا۔ اس معاہدے کی تجدید کے کے لئے دونوں مُلکوں کے حکام چھ ماہ سے مُصروف کار ہیں۔ اُمید تھی کہ حسب سابق چندتبدیلیوں کے ساتھ اس معاہدے کی تجدید ہو جائے گی۔ کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ دونوں مُلکوں کے درمیان روزانہ بارڈر پر اربوں ڈالزر کی تجارت ہوتی ہے جس سے دونوں ممالک کو مالی فایدہ پہنچتا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے مزاج کے مُطابق کینیڈا کی قیادت کو اڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اب کینیڈا کی بے ایمانی نہیں چل سکتی۔

مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کینیڈا کے وزیر اعظم کو خوب سنائیں۔ حا لانکہ کہ ایسے موقعوںپر تعلقات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے سیاستدان مصالحانہ ا نداز اپناتے ہیں تاکہ میزبان مُلک کی قیادت کی عزت بڑھ سکے اور وُہ سیاسی طور پر کُچھ فائدہ حاصل کر سکیں۔ لیکن صدر ٹرمپ نے ان باتوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا اور جو بات زُبان پر آئی کہہ ڈالی۔ اُنکو سفارتی آداب اور زُبان کا کوئی ادراک نہیں۔

انہوں نے اجلاس میں شرکت ضرور کی ہے لیکں وُہ اجلاس میں نالاں ہی دکھائی دئے۔ انہوں نے سب سے پہلا اعتراض یہ کیا کہ رُوس کی درخواست کے باوجود صدر پیوٹن کو شرکت کی دعوت کیوں نہیں دی گئی؟ اُ نکو بتا یا گیا کہ ابھی اُنکو شامل کرنا مُناسب نہ تھا لیکن آئیندہ اجلاس میں اُنکو مدعو کیا جائے گا۔ لیکن وُہ تمام اجلاس میں رنجیدہ ہی دکھائے دئے۔ انہوں نے کینیڈا سے اپنی نا راضگی کو کھُل کر بیان کیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے کینیڈا کے وزیر اعظم کے خلاف انہیں کے مُلک میں غیر سیاسی اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے۔ جس سے کینیڈا کے عوام کو شدید رنج ہُوا لیکن وُہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔

بعض لوگوں کے خیال کے مُطابق اس نا را ضگی کو د کھانے کا مقصد شمالی کوریا کے سربراہ کو یہ تا ثر دینا تھا کہ صدر ٹرمپ مُلاقات میں طے شُدہ اہداف حاصل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں ۔ وُہ بے مقصد مُلاقاتوں اور باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ وُہ اپنے مُلک کے مُفاد کی خا طر کینیڈا جیسے قدیم پڑوسی کو بھی نہیں بخشتے۔ لہذا وُہ شمالی کوریا سے بھی یہ اُمید رکھیں گے کہ وُہ سنجیدگی سے امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرے گا۔ کیونکہ شمالی کوریا کے چیئر مین بھی اپنے مزاج کی وجہ سے خاصے بد نام ہیں ۔وعدے کی پاسداری وُہ اپنی مرضی کے مُطابق کرتے ہیں۔ گئے سال دونوں رہنماﺅںکے درمیاں کافی تلخ بیانوں کا تبادلہ بھی ہوُا۔ اُنکی بیان بازی سے سنجیدہ لوگ سمجھ گئے تھے کے دونوں رہنماءسیاست کے آداب سے نا بلد ہیں۔ دونوں ہی ضدی اور ہٹ دھرم ہیں لیکن دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ہی اپنے اپنے مُلک کے تئیں نہا ئیت مخلص ہیں۔

صدر ٹرمپ کے انداز سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی سیاسی نا پُختگی پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن اُنکی حُب الوطنی پر اُنگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔اُن کے نزدیک اُن کے مُلک کا مُفاد سب سے اہم ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو بھی وعدے کئے تھے۔ اُن کو ایک ایک کرکے پُور ا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ وُہ امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں منتقل کر دیں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورُا کیا۔ انہو ں نے مزید کہا تھا کو وُہ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ نافٹا پر نئے سرے سے بات چیت کریں گے کیونکہ موجودہ معاہدہ امریکہ کے مُفاد میں نہیں۔ لہذا وُہ اپنے وعدے کے مُطابق مذکورہ معاہدے کو بہتر بنانے کے لئے کو شاں ہیں۔ جی سیون کے اجلاس میں جرمنی کے چانسلر اور فرانس کے صدر نے انہیں سمجھانے کی کو شش کی کہ وُہ جی سیون ممالک کے مُفاد میں کینیڈا کے ساتھ قدرے نرم رویہ روا رکھیں لیکن انہوں نے کسی بھی قسم کی رعائت دینے سے منع کر دیا ہے۔ بلکہ پیشگی شرط عائد کی ہے کہ کینیڈا کے وزیر اعظم اگر اس معاہدے پر دسخط کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ شرط ماننی پڑے گی کہ مذکورہ معاہدہ صرف کینیڈا کے ساتھ ہوگا جسکی مُدت پانچ سال ہوگی۔ ہر پانچ سال کے بعد دونوں مُلک باہمی رضامندی سے تجدید کریں گے۔ میکسیکو اور کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ الگ الگ معاہدہ کرنا ہوگا۔ جس کی شرائط ظاہر ہے کہ ایک دوسرے سے مُختلف ہونگی۔ وُہ ابھی تک اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وُہ اپنے مُلک کے مُفاد کے لئے ذاتی وقار اور مرتبے کو کوڑا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے انتخابی مہم کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ وُہ شمالی کوریا کو رضا مند کریں گے کہ وُہ خطے میں امن قایم کرنے کے لئے نیو کلئر پروگرام ترک کر دے۔ وُہ شمالی کوریا کے لیڈروں سے ملنے کئے کوشش کرتے رہیں گے۔

اور اب دُنیا نے دیکھا کہ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا سے مل کر نئے آغاز کی بُنیاد رکھ دی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وُہ کم جونگ اَن سے مل کر خُوش ہوئے ہیں۔ وُہ اپنے مُلک کے مُفاد میں سنجیدہ ہیں۔ وُہ خطے میں امن قایم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اُن کی اس کوشش میں اُ ن کے شانہ بشانہ کام کرنے لئے مستعد ہے۔ اگر وعدے کے مُطابق شمالی کوریا اپنے میز ائیلوں کو ختم یا تلف کر دیتا ہے تو امریکہ شمالی کوریا پر سے تمام اقتصادی پابندیا ں ہٹا لے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کم جونگ اَن کو باتوں میں صاف گو اور مخلص پایا ہے۔ مُجھے اُمید ہے کہ وُہ ہر طرح سے تعاون کریں گے۔ جس سے دونوں مُلکوں کے درمیان نئے تعاون کا آغاز ہوگا۔کاش ہمارے سیاستدان اپنے مُفادات سے بالاتر ہو کر کبھی اپنے مُلک کی بہتری کے لئے سوچ لیں۔ اگر کبھی ایسا ہو گیا توہ یہ کام ایٹم بم بنانے سے بھی بڑھ کر ہو گا۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ