17 جون 14 خون، کہاں ہے قانون؟؟

17 جون 14 خون، کہاں ہے قانون؟؟
17 جون 14 خون، کہاں ہے قانون؟؟

  

سانحہ ماڈل ٹاؤن ملکی تاریخ کا ایک ایسا دہشتگردانہ واقعہ ہے کہ جس کی نظیر گزشتہ 70 سالوں میں نہیں ملتی. آج اس واقعہ کو 4 سال بیت گئے لیکن اس نظام کے تحت انصاف ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے. ہمارا نظام صرف اور صرف امیروں جاگیرداروں کو انصاف فراہم کرتا ہے. سانحہ ماڈل ٹاؤن ، جہاں پوری دنیا نے کیمرے کی آنکھ سے ظلم ہوتا دیکھا ظلم کی اس داستان کو سینکڑوں لکھاریوں نے قلمبند کیا، درجنوں صحافیوں نے خود اس سانحہ کی کوریج کی. جہاں عدالتوں میں سینکڑوں افراد نے گواہیاں دیں لیکن ہمارے نظامِ انصاف کے لیے یہ سب کچھ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا.

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی داستان دوسری داستانوں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہ سانحہ بپا کرنے والے طالبان نہیں تھے نہ ہی دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے دہشتگرد تھے بلکہ اس سانحے میں قتل و غارت کرنے والے ہمارے برائے نام محافظ فورسز کے سپاہی تھیاور جسٹس باقر نجفی رپورٹ کے مطابق اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ وزراء تھے. یہ سانحہ دوسرے سانحات سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ اس سانحہ کے لواحقین نے انصاف کے لیے ہر فورم کا استعمال کیا. قارئین آپکے خیال میں انصاف طلب کرنے کے لیے مظلومین کتنے پلیٹ فارمز کا استعمال کر سکتے ہیں ؟

انصاف کے لیے ایف آئی آر کا درست اندراج؟ انصاف کے لیے دھرنا و احتجاج؟ انصاف کے لیے ملک کے نامور اداروں سے اپیل؟ انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر، روزانہ کی بنیاد پر پیشیاں اور ثبوتوں کے انبار؟

جی ہاں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لواحقین انصاف کے لیے ان سب پلیٹ فارمز کا استعمال کر چکے ہیں اسکے باوجود انصاف کا نام و نشان نہیں.

ہمارے ملک پاکستان میں نظامِ عدل و انصاف کتنا شفاف ہے اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک ایف آئی آر درج کروانے کے لیے دھرنا دینا پڑے پھر بھی درج نہ ہو اور آرمی چیف کو مداخلت کرنا پڑے.

آخر سانحہ ماڈل ٹاؤن بپا کرنے والے کون لوگ ہیں اور کیوں انکے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی. کہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل وہی تو نہیں جنہوں نے پاکستان کو لوٹ کھایا ؟اگر تو یہ وہی لوگ ہیں تو پھر انصاف اتنی آسانی سے نہیں ملے گا ۔جب تک ادارے انکے ماتحت ہیں. انکا دورِ حکومت تو ختم ہو چکا لیکن انکا اثر و رسوخ ابھی باقی ہے. اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اپریل کے مہینے میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر ماڈل ٹاون شہداء کے لواحقین نے چیف جسٹس سے انصاف کی فراہمی اور ازخود نوٹس کی اپیل کی تو چیف جسٹس نے بھی متاثرین کی بات سنتے ہوئے نوٹس لے لیا اور پنجاب حکومت سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی وجوہات اور تفصیلات بھی طلب کیں. سانحہ ماڈل ٹاون میں شہید ہونے والی خاتون کی بیٹی بسمہ نے چیف جسٹس سے ملاقات کی اورچیف جسٹس سے کہا 4 سال گزر گئے لیکن ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ جس پر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بسمہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ میرے ہوتے ہوئے ڈرنے کی ضرورت نہیں، انصاف ملے گا۔

بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی درخواست پر سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے کیس کی روزانہ کی بنیاد پرسماعت کرنے اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی چھٹی منسوخ کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات دو ہفتے میں نمٹانے کا حکم بھی دیا، اس کے علاوہ جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا کرایڈووکیٹ جنرل پنجاب کواسی دن شام تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

ان سب معاملات کے بعد اب جون کا آدھا مہینہ بھی گزرنے کو ہے نا وہ شام آئی اور نا ہی وہ دو ہفتے گزرے. بظاہر حالات سے لگ رہا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ اب نئی نویلی حکومت میں ہی ہوگا.

موقوف ہے کیوں حشر پہ انصاف ہمارا

قصہ جو یہاں کا ہے تو پھر طے بھی یہیں ہو

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ