فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر451

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر451
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر451

نور جہاں کو ملکہ ترنم اور برصغیر کی عظیم ترین گلوکارہ بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ تو اللہ میاں ہی کاتھا۔ ابراہیم جلیس میڈم کی آواز کے بہت بڑے مداح تھے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ایسا لگتا ہے جیسے اللہ میاں نے نور جہاں کو بنانے کے لیے فرشتوں کو تفصیلی ہدایات دی تھیں اور انہوں نے چھٹی کے دن بیٹھ کر انہیں بنایا تھا۔ 

ہم انسان اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق ہیں جنہیں اللہ میاں نے دوسری تمام مخلوقات پر فوقیت دی ہے۔ انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ اور اس کی بہترین تخلیق کہا جاتا ہے۔ اس کے بارے ....میں قرآن کی بہت سی آیات موجود ہیں ۔ یہ وہ خاکی مخلوق ہے جس کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ یہ زمین پر ہمارا خلیفہ ہوگا۔ اسے سجدہ کرو۔ فرشتے تو حکم بجا لانے کے عادی تھے ۔ فوراً سجد میں جھک گئے لیکن ابلیس نے انکار کر دیا۔ انسان پر اللہ تعالیٰ کی نوازش اور مہربانی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس انکار پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کوراندہ درگاہ کر دیا۔ انسان کی عظمت کا اس سے بڑا ثبوت بھلا اور کیا ہوگا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر450 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انسان کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں لیکن ایسے بہت کم ہوتے ہیں جو کسی شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دیتے ہیں اور ایک عالم میں ان کا شہرہ ہوجاتا ہے۔ ’’بہت کم ‘‘ پر شاید آپ کو اعتراض ہو مگر ذرا سوچنے کہ اللہ کی اس مخلوق کی تعداد اربوں میں ہے۔ اس وقت بھی دنیا میں پانچ ارب سے زائد انسان بستے ہیں۔ گزرے زمانوں میں بھی اربوں انسان دنیا میں آتے جاتے رہے ہیں لیکن ان میں سے نمایاں کتنے ہیں ؟ کتنے ہیں جنہوں نے کسی شعبے میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا؟ گنتی کیجئے تو شاید چند ہزار بھی نہ ہوں گے۔ اسی لیے بزرگ کہا کرتے تھے کہ اللہ نے جسے عزت اور مرتبہ عطا فرمایا ہے اس کی تعظیم کرو کہ ایسے لوگ دنیا میں خال خال ہی ہوتے ہیں۔ 

نور جہاں بھی ایک ایسی ہی خدائی تخلیق تھیں۔ آواز اور شکل و صورت تو اللہ کی دین تھی لیکن ان صلاحیتوں کو انہوں نے جس محنت اور کاوش سے اجاگر کیا ہے اس کے لیے ان کو خراج تحسین پیش نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ ایک دور افتادہ قصبے سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی پسماندہ گھرانے کی یہ بچی کس طرح قدم بہ قدم ترقی کی منزلیں طے کرتی ہوئی ملکہ ترنم نور جہاں بنی ۔ یہ ایک سبق آموز مثال ہے ۔ تقدیر اور تدبیر کا فلسفہ ایسے ہی معاملات میں برحق نظر آتاہے۔ تقدیر نے نور جہاں کو جن صلاحیتوں اور مواقع سے نوازا انہوں نے اپنی تدبیر سے ان مین چار چاند لگا دیے ۔ باقی دنیا کو چھوڑیئے ۔ صرف برصغیرپاک و ہند کی بات کیجئے جس میں سری لنکا ، بنگلہ دیش ، نیپال بھوٹان بھی شامل ہے۔ موسیقی اور گلوکاری کے شعبے میں اس سر زمین نے بڑی بڑی ہستیوں کو جنم دیا ہے جن کی ہنر مندی کو ہر ایک نے تسلیم کیا مگر اس کے باوجود یہاں نور جہاں صرف ایک ہی پیدا ہوئی ۔ ان سے پہلے تو ان کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔ کیا بعد میں کوئی نور جہاں جنم لے گی ؟ موسیقاروں اور گلوکاروں کا جو معیار اس وقت دیکھنے میں آرہاہے اس کے پیش نظر تو دور دور تک ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ اس لیے بہتر ہے کہ صرف ایک ہی نورجہاں پر اکتفا کیجئے اور اللہ کی اس دین پر اظہار تشکر کیجئے ۔ 

ہمارے ہاں ایک رواج یہ بھی ہے کہ ہم لوگ ’’اگر مگر ‘‘ کے بہت دلدادہ ہیں ۔ ہمیشہ اس الجھن میں گرفتاررہتے ہیں کہ اگر یوں نہ ہوتا تو اور یوں ہوتا تو کیا ہوتا۔ ایک زمانے میں فلمی نقادوں اور موسیقاروں کے حلقے میں یہ بحث چلتی رہی ہے کہ اگر نور جہاں بمبئی سے پاکستان نہ آتیں تو کیا ہوتا؟ 

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہاں رہ کر وہ زیادہ بڑے کام کر سکتی تھیں۔ انہیں منجھے ہوئے اور پراعتماد موسیقاروں اور اعلیٰ پائے کے نغمہ نگاروں کا تعاون حاصل ہوتا۔ پاکستان میں انہیں جن موسیقاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان کا ایک محدود انداز تھا لیکن بمبئی میں برصغیر کے تمام حصوں سے آنے والے موسیقار اپنی موسیقی کا جادو جگا رہے تھے ۔ ان کا انداز ‘ رنگ اور ڈھنگ ۔ ان کا اسلوب سبھی ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ پچھلی صدی اس اعتبار سے ایک یادگار صدی تھی کہ اس دور میں ہرشعبے میں ‘ خصوصاً علم و ادب اور فنون لطیفہ سے متعلق شعبوں میں ایسی ایسی نادر روزگار ہستیوں نے ہمارے برصغیر کو نوازا تھا کہ اب سوچتے ہیں تو یقین ہی نہیں آتا کہ کیسے کیسے قد آور لوگ اور دیو قامت ہستیاں ایک ہی وقت میں ایک ہی آسمان تلے جمع ہوگئی تھیں۔ اب تو ان کے بارے میں یہ سوچ کر مایوسی ہوتی ہے کہ بڑے لوگوں کی آمد کا جو سلسلہ کسی زمانے میں تواتر کے ساتھ جاری تھا صدی کی آخری چوتھائی میں یک لخت رک کیوں گیا ۔ بعض حضرات اس کی تاویل یہ پیش کرتے ہیں کہ اب نیا زمانہ ہے جس کے نئے تقاضے ہیں ۔ ہر شعبے میں نئے لوگ آرہے ہیں اور اپنے فن کا جادو جگا رہے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ وہ پرانے لوگوں سے مختلف ہی اس لیے پرانے وقتوں کے لوگوں کی نظروں میں ان کی اہمیت بھی کم ہے مگر ہم اس خیال سے متفق نہیں ہیں ۔ ہمیں تو بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے انسان بنانے کا بھی دونمبر کام شروع ہوگیا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ دیو قامت لوگوں کے بجائے اب بونے بھی نہیں بالشتیے پیدا ہو رہے ہیں۔قلم اور موسیقی کے شعبے ہی میں دیکھ لیجئے۔ کہاں سے چلے تھے اور کہاں پہنچ گئے ۔ اس دور میں جو لوگ صف اول میں کبھی جگہ نہ پا سکے آج وہ بھی موجودہ لوگوں کے مقابلے میں آسمان پر بیٹھے نظر آئے ہیں۔ واقعی قحط الرجال ہے۔ 

دیکھیے ۔ ذکر تھا میڈم نور جہاں کا اور بات کہاں پہنچ گئی ۔ اگر میڈم پاکستان نہ آتیں تو ممکن ہے وہ زیادہ شہرت اور دولت کماتیں درجنوں صف اول کے موسیقاروں کی طرزیں گاتیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پنجابی فلموں کے لیے اچھے برے ہر قسم کے گانے شب و روز ریکارڈ کرا کے اپنی ملکوتی آواز کو خراب نہ کرلیتیں ۔ انہوں نے بعض اوقات دن میں تین تین اور چار چار گانے بھی ریکارڈ کرائے ہیں۔ ہر قسم کی طرزیں اور ہر قسم کے بول ۔ ہر قسم کے موسیقار اور ہر طرح کے مطالبے اور فرمائشیں ۔ ان کا گلا جو نور سے بھرا ہوا تھا آخر ایک انسان ہی کا گلا تو تھا، لوہے فولاد سے نہیں بنایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پہلے نصف دور کے گانوں اور بعد کے گانوں میں آواز کا فرق صاف نمایاں ہے۔ ایک تو گانے کی بہتات اس پر ہر قسم کی بد پر ہیزیاں۔ راتوں کو دیر سے سونا۔ دن کو دیر سے بیدار ہونا۔ ہر قسم کی مرغن اور چٹ پٹی خوراک کھانا اور کسی قسم کی جسمانی ورزش پر کرنا۔ ان کی بدپرہیزی تو ضرب المثال تھی ۔

سعادت منٹو صاحب نے لکھا تھا کہ گانے والے اپنی آواز کی بہت دیکھ بھال کرتے ہیں۔ کھٹی اشیا اور برف کی طرح ٹھنڈا پانی پینے سے احتراز کرتے ہیں۔ ان کے سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر ہیں مگر نور جہاں کا یہ عالم تھا کہ خوب چٹ پٹی مسالے دار چیزیں مزے لے لے کر کھاتیں۔ اچار اور کھٹی چٹنی کافروانی سے استعمال کرتیں اس پر برف کی طرح یخ پانی پی کر گانا ریکارڈ کرانے چلی جاتی تھیں۔ منٹو صاحب نے یہ بمبئی کے دنوں کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس کے بعدپچاس سال سے بھی زائد عرصے تک وہ اسی معمول پر عمل کرتی رہیں۔ اسے بھی خدا کی دین ہی کہنا چاہیے۔ البتہ ایک بات و ثوق سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر نور جہاں بمبئی سے نہ آتیں وتو لتا منگیشکر کو ایسا عروج نہ ملتا۔ 

میڈم نور جہاں کو ہم نے پہلی بار ان کی شاہ نور اسٹوڈیو والی کوٹھی میں دیکھا تھا۔ یہ انٹرویو کافی دیر تک جاری رہا ۔ اس کے بعد جب ہم فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے تو اکثر کہیں نہ کہیں آمنا سامنا ہوجاتا تھا پھر وہ اعجاز درانی کی بیگم تھیں تو ملاقات ہوگئی ۔ انہوں نے اداکاری چھوڑ دی تھی ۔ صبح شوہر کو گھر گر ہستن بیوی کی طرح رخصت کرتی تھیں۔ سارے دن گھر بیٹھ کر واپسی کا انتظار کرتی تھیں اوران کے بغیر رات کا کھانا نہیں کھاتی تھیں چاہے رات کے بارہ ہی کیوں نہ بج جائیں۔ اعجاز کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانے پکاتی تھیں۔ 

اس سے پہلے ہم ان کی اداکاری کا دور بھی دیکھ چکے تھے۔ کہاں وہ گلیمر کی زندگی اور کہا یہ گھریلو نیک پروین جیسا کردار ۔ نورجہاں نے حتی الامکان اس کردار کو نبھانے کی کوشش کی لیکن بالآخر علیٰحدگی ہوگئی ۔ اس کے اسباب بہت سے ہیں جن کی تفصیل پہلے بھی ہم بیان کر چکے ہیں۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر452 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...