گوادر کا سیاسی منظر نامہ 

گوادر کا سیاسی منظر نامہ 

مکران ڈویژن تین اضلاع گوادر،کیچ اورپنجگور پر مشتمل ہے اور یہ خطہ موجودہ دور میں سی پیک کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں کی نسبت یہاں سیاسی منظر نامہ اس لئے مختلف ہے کہ مکران میں بلوچستان کے دیگر اضلاع کے برعکس قبائلی اور سرداری نظام موجود نہیں ہے بلکہ یہ خطہ سیاسی دانشوروں اور ورکرز کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے سیاسی تناظر میں مکران نہ صرف ایک اہم کردار رہا ہے بلکہ حکومت سازی میں بھی مکران کو فوقیت حاصل ہے۔یہاں قبائلی اور سرداری نظام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر و بیشتر متوسط طبقے کے لوگ منتخب ہوکر پارلمینٹ کے ایوانوں تک پہنچے ہیں۔ اس وقت مکران کی صوبائی نشستوں کی تعداد چھ اور ایک قومی اسمبلی کی نشست ہے۔ جبکہ مکران کی ایک اور قومی اسمبلی کی نشست گوادر کم لسبیلہ جبکہ صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پنجگور آواران بھی ہے۔ حالیہ حلقوں بندی میں مکران کو قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست کی صورت میں آدھا آدھا حصہ ملا ہے۔ 

موجودہ انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کے بعد مکران کے کئی حلقوں میں سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے امیدواروں کا بھی اعلان کیا ہے۔ جہاں اس مرتبہ ماضی کے سیاسی حلیف سیاسی حریف کی شکل میں میدان میں موجود ہیں۔ بلوچستان کا آخری حلقہ صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی 51 گوادر جبکہ قومی اسمبلی کا آخری حلقہ این اے 272 گوادر کم لسبیلہ ہے۔ گوادر کے صوبائی حلقے میں ایک بار پھر گوادر سے مسلسل دو مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے میر حمل کلمتی بھی الیکشن لڑرہے ہیں۔ بی این پی کے امیدوار میر حمل کلمتی کا اصل مقابلہ ،آزاد امیدوار سید مہیم جان اور بی این پی عوامی کے حمید حاجی، اشرف حسین اور باپ کے امیدوار میر یعقوب بزنجو سے ہوگا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آخری موقع پر چند امیدواروں کے دستبردار ہونے کی صورت میں میر حمل کلمتی اور میر یعقوب کے درمیان کانٹے دار مقابلہ کا امکان ہے۔

گوادر کے سیاسی حلقے میں بااثر سیاسی خاندانوں کی ووٹ بیلنس کافی اہمیت رکھتا ہے۔ حلقہ این اے گوادر کم لسبیلہ میں باپ کے صدر جام کمال خان، بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل، سابق اسپیکر اسلم بھوتانی اور سابق تحصیل ناظم اورماڑہ سید مہیم جان کے درمیان اصل معرکہ آرائی ہوگی۔ سیاسی اتحاد کی صورت میں صورتحال میں صرف یہ تبدیلی آسکتی ہے کہ ان میں سے دو امیدوار دستبردار ہوسکتے ہیں۔ کیچ کے اہم حلقے میں اس مرتبہ سابق بیوروکریٹ اور بلوچ دانشور میر جان محمد دشتی ،سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔حالانکہ اس نشست پر کافی امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ تربت سٹی کی نشست پر سابق وزیر سید احسان شاہ اور این پی کے امیدوار مئیر تربت قاضی غلام رسول کے درمیان اہم مقابلہ ہوگا۔ بلیدہ کی نشست پر باپ کے امیدوار سابق صوبائی وزیر ظہور بلیدی کی پوزیشن مضبوط ہے۔ دشت کے حلقہ میں بی این پی کی پوزیشن کوبہتر بتایا جارہا ہے۔ بی این پی اس وقت دشت کی سیٹ پر ٹکٹ کا معاملہ سلجھا نہ سکی ہے۔ کیونکہ لالہ رشید اور میجر جمیل دشتی دونوں میدان میں ہیں۔ میر ساجد اسحاق دشتی کی انٹری بھی ٹف ٹائم ہوگی۔ تمپ ،بالیچہ کی نشست پر بی این پی کے حمل بلوچ،بی این پی عوامی کے میر اصغر رند سمیت کئی اور امیدوار میدان میں موجود ہیں۔

سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکران کی سیاسی صورتحال میں انتخابی اتحاد میں ڈرامائی تبدیلی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پنجگور کے حلقہ میں نیشنل پارٹی کے میر رحمت صالح اور بی این پی عوامی کے میر اسد اللہ کے درمیان مقابلے کی توقع ہے۔ جبکہ پنجگور کم آواران کی نشست پر سابق وزیر اعلٰی بلوچستان میر قدوس بزنجو بھی الیکشن لڑرہے ہیں۔گویا اس بات کا امکان موجود ہے کہ گوادر مکران کا یہ علاقہ قومی اور صوبائی سطح پر اپنا سیاسی اثر چھوڑ کر رہے گا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...