جب سیاح مری جانا چھوڑ دیں گے 

جب سیاح مری جانا چھوڑ دیں گے 
جب سیاح مری جانا چھوڑ دیں گے 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں سیاحت اور بالخصوص مقامی سیاحت کا کوئی والی وارث نہیں ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اسکی بہت بڑی مثال ملکہ کوہسار مری میں سیاحوں کے ساتھ ہونے والا مسلسل برا سلوک ہے جو کچھ برسوں سے جاری ہے اور ارباب اختیار اس پر مسلسل خاموش رہے ہیں۔

مری کے جاری بایئکاٹ نے بھی ان کو کچھ جنبش نہیں دی اور انکے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ سیاحوں کے ساتھ ہوٹل والوں اور انکے ایجنٹ جو کچھ کرتے رہیں ہیں ،لفظ ناروا سے اسکی صحیح وضاحت نہیں ہوتی۔ سیاحوں کو ہاتھوں ،ٹھڈوں یہاں تک کہ ڈنڈوں سے بھی پیٹا جاچکا ہے اور انکی بیویوں اور بیٹیوں کے سامنے انکو انتہائی غلیظ گالیاں دی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پیٹا گیا ہے اور باہر بھی نہیں نکلنے دیا گیا۔اس واقعہ کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ سیاحوں کو دکھایاجانے والا ہوٹل پسند کیوں نہیں آیااور اگر نہیں بھی پسند آیا تو انکو دکھانے کا کمیشن ادا کیا جائے۔ ان واقعات کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش میں ہیں اور بہت تکلیف دہ ہیں۔ 

ملکہ کوہسار اپنی قدرتی خوبصورتی، مختلف جگہوں سے کم فاصلے اور بہترین ایکسپریس وے کی وجہ سے قلیل مدتی سیاحت کیلئے بہت پسندیدہ ہے۔ اسی لیے جب بھی کوئی تہوار ہو یا اتوار کے ساتھ ایک دو چھٹیاں مل جائیں تو لوگ فوراً مری کا رخ کرتے ہیں۔مال روڈ مری کی بنیادی کشش ہے۔ کھانے پینے اور شاپنگ کے زیادہ تر مراکز بھی مال روڈ پر ہی ہیں۔ اسی وجہ سے ہر سیاح مال روڈ کے ارد گرد ہی رہنا پسند کرتا ہے۔جو ہوٹل بس اڈے والی سڑک پر ہیں وہاں سے مال روڈ تک آنے کیلئے سیڑھیوں کا طویل تھکا دینے والا راستہ ہے۔ 

جب سیاح کثیر تعداد میں مری پہنچتے ہیں تو ہوٹل کم پڑ جاتے ہیں۔ مری میں رہائشی سہولیات بہت کم ہیں اور طلب و رسد کے فارمولے کے تحت چار ہزار والا کمرہ دس ہزار پر جا پہنچتا ہے۔ 

ہوٹلوں کی مہنگائی کی یہ خبریں ہر موقع پر میڈیا سے نشر ہوتی ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ ارباب اختیار تک نہیں پہنچتیں اور اگر پہنچتی بھی ہیں تو ہنسی مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں پاتیں۔ اسی لیے آج تک اسکا کوئی مداوا نہیں ہو سکا۔یہ استحصال صرف ہوٹلوں کی حد تک ہی نہیں ہے بلکہ کھانے پینے اور پارکنگ کی معاملات میں بھی ہیں۔ اگر مری کے انتظامی حالات درست نہ کئے گئے تو شرفاء مری جانا چھوڑ دیں گے ۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ