ہر چیز مہنگی کرنے والا”عوام دوست بجٹ“

ہر چیز مہنگی کرنے والا”عوام دوست بجٹ“

7036ارب روپے کے نئے وفاقی بجٹ میں 3151 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے، آمدنی کا تخمینہ6716 ارب روپے ہے، جاری اخراجات6192 ارب روپے ہوں گے، تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹیکس ریونیو کا ہدف5555 ارب روپے رکھا گیا ہے، اس ریونیو میں سے 3255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دیئے جائیں گے، بجٹ میں 1120 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں، نئے بجٹ میں کھانے پینے کی بیشتر اشیا مہنگی کر دی گئی ہیں، جن میں چینی، گھی،خوردنی تیل، گوشت، خشک دودھ، پنیر، کریم، منرل واٹر، مشروبات، سیمنٹ، سگریٹ، گاڑیاں، زیورات، فلیورڈ جوسز، سی این جی، سکواشز، چمڑے کی اشیا، قالین، کھیلوں کا سامان، آلاتِ جراحی، سٹیل کی راڈ اور بلٹ شامل ہیں۔ سنگ ِ مر مر کی صنعت، مرغی، مٹن، بیف اور مچھلی کی سیمی پراسیسڈ اور پکی ہوئی اشیا پر 17فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس کی چھوٹ12 لاکھ روپے سالانہ سے کم کر کے6لاکھ روپے سالانہ کر دی گئی ہے،50ہزار روپے ماہوار سے زیادہ تنخواہ پر ٹیکس لگے گا، مزدور کی کم از کم تنخواہ17,500 روپے کر دی گئی ہے، موبائل فون کی درآمد پر3فیصد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، نان فائیلرز پر50لاکھ روپے سے زیادہ کی جائیداد خریدنے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے، ترقیاتی بجٹ1863 ارب روپے کا ہو گا، ان بجٹ تجاویز کا اعلان وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کیا۔

ویسے تو ہر حکومت اپنے بجٹ میں خوبیاں ہی خوبیاں اور ہر حزبِ اختلاف خامیاں ہی خامیاں تلاش کرتی ہے، سو اگر موجودہ حکومت کو یہ بجٹ خوبیوں سے لدا پھندا نظر آتا ہے تو یہ روایت کے عین مطابق ہے اور اگر حزبِ اختلاف اسے آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دے کر مسترد کر رہی ہے اور یہ اعلان کر رہی ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا، تو یہ بھی کوئی ایسا کام نہیں ہے، جس کا اعلان پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہو، البتہ جو کام اس بجٹ میں واقعتا پہلی دفعہ ہو رہا ہے وہ ٹیکس ریونیو کا غیر معمولی طور پر اونچا ہدف ہے، جو جی ڈی پی کے12فیصد کے مساوی مقرر کیا گیا ہے۔ سالِ رواں میں ٹیکس ریونیو کا ہدف4350 ارب روپے رکھا گیا تھا جس پر نظرثانی کر کے 4100 ارب روپے کر دیا گیا،یہ ہدف بھی حاصل نہیں ہوا اور4000ارب روپے سے بھی کم ٹیکس جمع ہوئے ہیں اس میں بھی وہ رقومات شامل ہیں،جو ریفنڈ کی شکل میں ایف بی آر نے ٹیکس جمع کرانے والوں کو واپس کرنی ہیں وہ ابھی تک اس لئے رد کی گئی ہیں تاکہ ٹیکس اعداد و شمار ذرا خوشنما نظر آئیں یہ ڈھائی تین سو ارب کے ریفنڈ منہا کرنے کے بعد نیٹ ٹیکس کولیکشن3700ارب روپے کے لگ بھگ ہی رہتی ہے،

ایسے میں اگر نئے سال کے بجٹ میں ریونیو کا ہدف بڑھایا گیا ہے تواس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کا اصرار تھا کہ اتنا ریونیو کم از کم جمع ہونا چاہئے، چونکہ ابھی تک آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے اس6ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری نہیں دی، جس کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ اس لئے بجٹ میں بہت سے اعداد و شمار وہ رکھے گئے ہیں،جو آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہیں اب یہ اہداف حاصل ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو مالی سال کے اختتام تک ہی پتہ چلے گا، جیسے حالیہ اقتصادی سروے سے پتہ چلا ہے کہ کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ماہرین تو ٹیکس کے اونچے ہدف پرابھی سے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ یہ ہدف حاصل ہونا ممکن نہیں، مثال اس کی یہ دی جاتی ہے کہ اگر 4100 ارب کا نظرثانی شدہ ہدف موجودہ مالی سال میں حاصل نہیں ہو سکا، تو اس میں یک بیک 1500 ارب کے اضافہ کا حصول کس طرح ممکن ہو گا۔

روایت کے مطابق حکومتی وزراء اور ترجمان خوشی خوشی یہ اعلان کر رہے ہیں کہ بجٹ غریب دوست ہے، کوئی ان سے پوچھے کہ جب چینی، خوردنی تیل، گھی، مہنگے ہوں گے تو کون سا غریب ہے جو ان سے متاثر نہیں ہو گا۔ گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کے لئے گیس پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے اس سے گھریلو صارفین تو براہِ راست متاثر ہوں گے،جبکہ کمرشل اور صنعتی صارفین کا اثر بھی بالآخر صارفین پر ہی منتقل ہو گا، کیونکہ گیس کے استعمال سے جو بھی اشیا تیار ہوں گی وہ امیر اور غریب سبھی خریدیں گے اِس لئے وہ بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ سیمنٹ کی بوری25روپے مہنگی ہو گی اس سے بھی ہر طبقہ متاثر ہو گا، غریب تو غریب اچھے خاصے معقول آمدنی والے لوگ بھی اب مکان بنانے کا تصور نہیں کر سکتے، اول تو لاہور جیسے شہر کے پسماندہ علاقوں میں بھی زمین چار پانچ لاکھ روپے مرلے سے کم میں دستیاب نہیں اور اگر کہیں ہے تو عملاً وہ شہر سے میلوں باہر ہے،

لاکھوں روپے تو پلاٹ کی خریداری پر ہی خرچ ہو جاتے ہیں، پھر اس پر تعمیرات کے لئے بھی بھاری رقم درکار ہوتی ہے، تنخواہ دار طبقے کو رواں برس جو ریلیف میسر رہا وہ بھی واپس لے لیا گیا ہے اور اب50ہزار روپے ماہوار آمدنی بھی ٹیکس کی زد میں آئے گی، جبکہ اتنے پیسے کمانے والے تو پہلے ہی بچوں کی فیسیں تک ادا نہیں کر سکتے، گیس اور بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی کے بعد وہ بمشکل کھانے پینے کی اشیا خرید سکتے ہیں،اب وہ بھی دسترس سے باہر ہوجائیں گی، ایسے میں مکان بنانے کا خواب تو دیکھا نہیں جا سکتا۔ البتہ حکومت کی مہربانی ہے کہ وہ 50ہزار کمانے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لے آئی ہے، جبکہ کروڑوں اور اربوں روپے کمانے والے اب بھی اس سے باہر ہیں۔وجہ یہ ہے کہ تنخواہ دار آدمی کی آمدنی سے تو ٹیکس پہلے کٹتا ہے اور تنخواہ بعد میں ملتی ہے، جبکہ کروڑ پتی لوگوں کے پاس بہت سے راستے ہیں اُن پر ہاتھ ڈالنا بھی آسان نہیں، وہ ٹیکس حکام کو بھی موم کرنے کا ہنر جانتے ہیں، کروڑوں کی گاڑیوں میں گھومنے والوں کا کمال یہ ہے کہ اُن کے اپنے نام پر ایک گاڑی بھی نہیں ہوتی،

ایسے میں کون مائی کا لال اُن سے ٹیکس وصول کرے گا، البتہ جو لوگ پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں وہ آسان ہدف ہیں اِس لئے اُن کو مزید نچوڑا جائے گا۔ گویا اُن کی قوتِ خرید دو طرح سے متاثر ہو گی۔ ایک تو ٹیکس کی شکل میں تنخواہ کٹ جائے گی اور دوسرے مہنگی اشیا خریدنا پڑیں گی ایسے میں یہ لوگ تبدیلی کے حق میں دُعائیں ہی کر سکتے ہیں۔

بے روح اور بے وزن دعوؤں کے باوجود بجٹ کو غریب دوست کہنا مشکل ہے،لیکن کہنے والے بلند آہنگ سے یہ راگ بھی الاپ ہی رہے ہیں، جو ٹیکس بھی لگائے گئے ہیں ان کا اثر بالآخر عوام ہی کو منتقل ہو گا،کوئی صنعتکار اپنی جیب سے تو ٹیکس ادا نہیں کرے گا، پھر نئی صنعتوں کا قیام بھی مشکل ہو گا، صنعتوں کو چلانے کے لئے سرمایہ پر سود کی شرح پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہے، ایسے میں اگر صنعتیں نہیں لگیں گی اور موجودہ مالی سال کی طرح صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر ہو گی تو جی ڈی پی کیسے بڑھے گی؟ جی ڈی پی نہیں بڑھے گی تو55ہزار ارب کا ٹیکس کہاں سے جمع ہو گا، ٹیکس تو آمدنی ہی میں سے دیا جاتا ہے،

محض دھمکیاں اور تڑیاں لگا دینے سے خوف و ہراس تو پھیلایا جا سکتا ہے، ٹیکس جمع نہیں کیا جا سکتا، بجٹ کے اثرات آج ہی سے مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور خوراک کی بنیادی ضرورت، یعنی آٹا بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گا، جو بجٹ کے بعد مہنگا ہو گا، پھر اس کے بعد چل سو چل،یہ بہرحال ایسا بجٹ ہے،جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی، غریب مزید غریب ہو گا، تنخواہ دار کی غربت بڑھ جائے گی اور قوتِ خرید کم ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے پانی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ وہ زیر زمین پانی مفت حاصل نہیں کر سکتیں تو انہوں نے اگلے ہی روز فیصلے سے پہلے ہی قیمت بڑھا دی،جو اب مزید بڑھ چکی اور جو بوتل اس وقت 200 میں دستیاب تھی، ڈھائی سو کی ہو چکی ہے،بجٹ کے بعد اب مزید بڑھے گی، ایسے میں کوئی سابق ”عوامی چیف جسٹس“ کو کہاں تلاش کرے گا جو یہ اضافہ واپس کرائے، قہر درویش بر جانِ درویش ہی ہو گا، بجٹ کے بعد مہنگائی کا طوفان بہت کچھ بہا لے جائے گا۔ البتہ عوام دوست بجٹ کے نعرے تواتر سے لگتے رہیں گے، کیونکہ حکومت کے ترجمانوں نے بھی کچھ کرکے دکھانا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ