جیل اور قبر کے باہر

جیل اور قبر کے باہر
جیل اور قبر کے باہر

  

گزشتہ دِنوں پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس میں ضمانت مسترد ہونے پر نیب نے گرفتار کر لیا،کہا یہ جا رہا تھا کہ فیصلہ محفوظ کر لیا گیاہے، چنانچہ زرداری صاحب مسکراتے ہوئے گھر چلے گئے، ان کا خیال تھا فیصلہ کچھ عرصہ بعد سامنے آئے گا، مگر اُسی دِن فیصلہ سنایا گیا۔کسی صاحب نے سابق صدر سے سوال کیا تھا۔ اگر آپ کو جیل بھیج دیا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ جیل تو میرا دوسرا گھر ہے۔ معلوم نہیں وہ کون سی گھڑی تھی جو اُن کی زبان سے نکلا ہوا لفظ پورا ہوا اور اُنہیں جیل کی ہوا کھانی پڑی۔البتہ ایک بات اخلاقی طور پر بہت اچھی ہوئی، جو فریال تالپور کو فوری طور پر گرفتار نہیں کیا گیا۔ وہ جیل کو اپنا دوسرا گھر نہیں سمجھتی تھیں۔ البتہ توبہ توبہ کرتی ہوں گی۔ توبہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے لئے مہربان ہے۔

لاہور میں پارٹی کارکنوں نے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر ٹائر جلا کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد شہر میں کارکن سراپا احتجاج بننے لگے۔فیروز پور روڈ، گڑھی شاہو میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک بند کر دی۔ انہوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جبکہ سکھر میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف پی پی پی جیالوں نے احتجاج کیا،جس سے سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹریفک کی آمدو رفت معطل رہی۔پیپلزپارٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا کہا ہے۔ دوسری طرف پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جیالوں کو صبر سے کام لینے کا کہا ہے اور انہیں پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے، کہا ہم نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی جانبدارانہ عدالتی فیصلوں کے باوجود قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔

آصف علی زرداری اس ملک کے پانچ سال صدر رہے۔ اُن کے دورِ حکومت میں کسی کو سیاسی بنیاد پر جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ صوبوں کو اختیار منتقل کر دیئے گئے تاکہ وہ ترقی کر سکیں اور وفاق اُن کی مدد کرے۔ وہ الگ بات ہے ایک صوبہ ترقی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،جبکہ باقی صوبے محرومی کا شکار رہے۔ جیل بہت کچھ سکھا دیتی ہے، جن لوگوں نے عروج دیکھا ہو۔ اُن کے لئے جیل کسی عذاب سے کم نہیں۔ ایک عام آدمی کے لئے کوئی مشکل نہیں، اُس کی روز مرہ کی زندگی بسر کرنا کسی جیل سے کم نہیں، وہ روز جیتا ہے، روز مرتا ہے۔ کبھی مہنگائی کے ہاتھوں کبھی خود ساختہ ڈاکٹروں کے ہاتھوں البتہ زرداری صاحب کو چند امراض لاحق ہیں، جو اُن کے لئے فائدہ مند ہیں۔ کم از کم تین ڈاکٹروں کی ٹیم کی خدمات حاصل ہوں گی جو انہیں چیک اَپ کرتی رہے گی، کمرہ بھی آرام دہ ہو گا۔جہاں پر انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو گا۔ اگر وہ چاہیں جیل میں تحریر لکھیں پھر اُنہیں کتابی شکل میں شائع کر دیں، تاکہ آنے والی نسلیں پڑھیں اور سبق حاصل کریں، زندگی کو سادہ بسر کریں۔ انسان ساتھ کیا لے جاتا ہے سب کچھ باہر رہ جاتا ہے۔ جیل کے باہر اور قبر کے باہر۔ یہی عنوان بھی کتاب کا رکھا جا سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم