گھر سے خالی ہاتھ گیا تھا، خالی تھیلا لایا ہوں

گھر سے خالی ہاتھ گیا تھا، خالی تھیلا لایا ہوں
گھر سے خالی ہاتھ گیا تھا، خالی تھیلا لایا ہوں

  

آج کا اخبار سامنے رکھا ہے اور بجٹ کی خبروں اور ان کی تفصیلات کومیں ایک ایسے فرد کی نظر سے پڑھنے کی ناکام کوشش کر رہی ہوں،جو انتہائی محدود وسائل رکھتی یا رکھتا ہو۔ ایک ایسا فرد جو سارا دن گاہکوں کی راہ دیکھتا ہو اور دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ اس کے حوصلے بھی ڈھلتے جا رہے ہوں۔ وہ ہر لمحہ اس سوچ میں گزارے کہ خالی ہاتھ گھر داخل کیسے ہو گا۔وہ بار بار یہ سوچے کہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہو جائے۔ ایسا فرد جو پورا مہینہ پیٹ بھر کر نہ کھائے کہ اس نے بچوں کی فیس ادا کرنی ہے۔ ایسا فرد جو سارا دن رکشا چلانے یا کپڑے سینے میں گزار دے اور اسے یہ علم مار رہا ہو کہ اس کا ایک دن کا محنتانہ اس کے ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی خرچ ہو چکا ہے۔

محترم شاعر علی مطہراشعر کے اشعار ہیں؛

بچے مجھ کو دیکھ رہے ہیں جلتی بجھتی آنکھوں سے

گھر سے خالی ہاتھ گیا تھا، خالی تھیلا لایا ہوں

اک چھوٹے سے سیب کو کتنی قاشوں میں تقسیم کروں

کچھ بچوں کا باپ ہوں اشعر، کچھ بچوں کا تایا ہوں

مگر قارئین! یہ میرا مکر ہے کہ میں ایسے شخص کی آنکھوں سے اس اخبار کو پڑھنے کی کوشش کروں جو تپتی دھوپ میں سڑک پر اپنی کدال کے ہتھے پر سر رکھے چوک میں اکیلا بیٹھا رہ گیا ہے اور اپنی سفید داڑھی میں اپنے آنسوؤں کو جذب کر تا سوچ رہا ہے:

اگر کسی نے خریدا نہ آج بھی مِرا دِن

تو معذرت مرے لیل و نہار، تھک گیا میں

سجاد بلوچ کے اس شعر میں موجود کرب سے ایک لمحہ آنکھیں بھیگ تو سکتی ہیں، گلے میں سانس بھی گھٹ سکتا ہے پر اپنے دفتر یا گھر میں ایئر کنڈیشنر میں بیٹھے یوں تھوڑا بہت پریشان ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ میری اینٹونیٹ نے کہا تھا کہ غریب کو روٹی نہیں مل رہی تو کیک کیوں نہیں کھا لیتا۔ سو مَیں اور آپ شاید پریشانی کی اس لمحاتی سی لہرکے گزرنے کے بعد یہ سوچیں کہ آج کیک نہ کھایا جائے؟بہت بچپن سے یادوں میں یہ منظر محفوظ ہیں۔ چوراہوں میں بھیک مانگتے یا مزدوری کرتے بزرگوں کو دیکھ کر دل ایسے ہی کرب سے بھر آتا ہے، پر اتنے برس میں نہ یہ چہرے کم ہوئے ہیں نہ ان کے حالات ہی بدلے ہیں۔ ویسے بھی غربت کا ایک ہی چہرہ ہے۔ یہ چہرہ دور سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی رنگت ہی الگ ہوتی ہے۔ ہم اسے کالا کہیں، سانولا کہیں، سفید کہیں یا زرد۔کچھ اور بھی ہے شاید اس رنگت میں گھلا ملا، جس کے لئے کوئی مخصوص لفظ نہیں، اسے بھی اعتراف ہی جانیں۔مجھے لگتا ہے کہ یہ بھی ایک دھوکہ ہے جو مَیں اور آپ خود کو دیتے رہتے ہیں ……ہم بہت نرم دِل ہیں۔ہماری آنکھیں لحظہ لحظہ بھیگ جاتی ہیں۔ ہم سے کسی کا دُکھ اور غربت دیکھی نہیں جاتی……جب بھوک اور غربت سے لوگ مرجاتے ہیں،بچوں کی خواہشات پوری نہ کرسکنے پر اپنی زندگی ختم کر دیتے ہیں، ہسپتال بروقت نہ پہنچنے پر جان کی بازی ہار جاتے ہیں …… تو ہم بے خبر رہتے ہیں۔

لیکن اس سے بھی بڑا دُکھ اور صدمہ تو یہ ہے کہ ہمیں اس انداز سے سوچنے اور دُکھ اور کرب کے اس احساس کے باوجود جاہل سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ ہم جو اس نظام کے چھوٹے چھوٹے چوروں کی بجائے بڑے بڑے اژدہوں کی وارداتوں کا ذکر کرتے ہیں تو کبھی غدار کہلائے جاتے ہیں اور کبھی جاہل ہونے کا طعنہ ملتا ہے۔غرض یہ کہ ہمارا احساس بھی ہمیں ڈستا ہے اور ہماری نیتوں پر بھی شک کیا جاتا ہے اور ہمی کوچہ و بازار میں معتوب ٹھہرائے جاتے ہیں،لیکن کیا زہر ہلاہل کو قند کہنا کسی بھی ذاتی مفاد یا خوف اور جبر کے سبب جائز ہے؟

ان طعنہ زنوں کے نام تنویر سپرا کا یہ شعر

میں جاہل میں غیر مہذب میں کافر میں چور

میری محنت کا پھل کھانے والے جینٹلمین

سپرا نے ہی کہا تھا

آج بھی اس کی خوشبو سپرا مل مالک لے جاتا ہے

میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

اس نظام میں کہ جہاں مزدور سے اس کا زرِ محنت سرمایہ دار چھین لیتا ہے اور مزدور کو پسینے کے علاوہ بس اتناحصہ ہی ہاتھ آتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شام کو صبح کرنے کا بندوبست کر سکے،ہم یہ مناظردیکھ دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں اور اب تویہ احساس بھی اپنی تاثیر کھو رہا ہے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں تقسیم اس حد تک بڑھ چکی کہ بھیک دیتے وقت بھی لوگ دیکھتے ہیں کہ آیا یہ میرا ہم مسلک و ہم مشرب ہے یا کسی غیر پارٹی سے متعلق ہے؟ سماجی بے حسی اور نفرت کو نئے پاکستان میں جو عروج ملا ہے اس کی مثال ہمارے یہاں پہلے نہیں ملتی۔

ایسے میں نیا بجٹ اور اس کا شور، خیر یہ شور بس شور ہی ہے۔کون سا بجٹ، کون سی اصلاحات، کون سی بہتری،کون سی خوشحالی۔جب سے اس ملک پر تبدیلی کے بادل چھائے ہیں روز بروز بڑھتی مہنگائی اوربتدریج بدحال ہوتی معیشت قوم کا مقدر بنے ہوئے ہیں۔ یہ بجٹ اس بوجھ میں ایک اور بڑا اضافہ ہے اور بس۔روز کوئی نہ کوئی نیا ٹیکس، مہنگائی کاکوئی نہ کوئی نیا جھٹکا، کبھی گیس کے ہزاروں گنا زیادہ بل، کبھی بجلی مہنگی، اور پیٹرول تو خیر سے اسد عمر کی سینتالیس روپے والی پرانی ٹویٹ کے برعکس ایک سو سینتالیس کی طرف گامزن ہے۔ خان صاحب اور ان کے ساتھی بھی کمال لوگ ہیں، مہنگائی کاہر عذاب مسلط کرنے کے فورا بعد میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں اور وہی برسوں پرانی تقریر دہرا کر اپنے ووٹرز کاجوش و جذبہ تازہ کر کے، ممولوں کو شہبازوں سے لڑا کر، انہیں مخالفین کے خلاف گالیاں مزید تیز کرنے کی ترغیب دے کر خود ٹھنڈے ڈرائنگ روموں اور اونچے ہوٹلوں میں جا بیٹھتے ہیں اور ہماری حالت و جہالت پر قہقہے لگاتے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی گئیں، لیکن ان کا کیا بنے گا جو سرکار کے وفادار نہیں ہیں۔ان دیہاڑی داروں اور چھوٹے کاروباری لوگوں کا کیا بنے گا جو دن بھر اپنا دن خریدنے والوں اور گاہکوں کی راہ دیکھتے ہیں کہ شام کو گھر میں خالی ہاتھ نہ جانا پڑے۔سرکاری ملازمین کے لئے، جس سخاوت کا مظاہرہ کیا گیا ذرا اس کا حال بھی دیکھئے، جتنی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے اتنا ہی ٹیکس بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔”کیا خوب سودا نقد ہے،اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے“والا معاملہ بن گیا ہے۔کیا سستا اورکیا مہنگا، اس غریب کا پُرسانِ حال کوئی نہیں اور انھیں ابھی بھی یہی فکر ہے کہ کچھ دشمن ابھی بھی جیل سے باہر ہیں۔ برسوں پرانی رٹی رٹائی تقریر مکرر ارشاد کا شور، بس یہی ہے تبدیلی اوریہ ہے نیا بجٹ۔ مبارک ہو!

مزید : رائے /کالم