روائتی بجٹ اور کپتان کا غیر روائتی خطاب

روائتی بجٹ اور کپتان کا غیر روائتی خطاب
روائتی بجٹ اور کپتان کا غیر روائتی خطاب

  

آپ نصف صدی پہلے چھپنے والے اخبارات کو دیکھیں اور کل کے اخبارات کے صفحہ اول پر نظر ڈالیں۔ بجٹ کے حوالے سے آپ کو کوئی تبدیلی نظر نہیں آئے گی، وہی ٹیکس بڑھانے،اشیاء مہنگی ہونے، ملازمین کی پنشن اور تنخواہوں میں اضافے اور حکومتی دعوے کہ ”بجٹ انقلابی ہے“ کی سرخیاں ملیں گی……”نہ تم بدلے نہ ہم بدلے“…… کھربوں روپے کے نئے ٹیکس لگانے کے باوجود یہ دعویٰ بھی کیا جائے گا کہ غریبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ احساس پروگرام کے تحت 10لاکھ غریبوں کو راشن فراہم کرنے جیسے اقدامات سے بائیس کروڑ آبادی کے ملک میں ریلیف دینے کا الٰہ دینی نسخہ استعمال کیا گیا ہے۔ راشن دینے کے لفظوں سے جس طرح بھکاری پن کو فروغ دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اسے نیا پاکستان نہیں کہہ سکتے۔ بجٹ کتنا اچھا ہے، کتنا عوام دوست ہے، کتنا انقلابی ہے؟

اس کا اندازہ اس امر سے کیجئے کہ آدھی رات کو وزیراعظم عمران خان کو تقریر سنانی پڑ گئی۔ اس کا بھی وہ حصہ بجٹ کی تلخی کو کم کرنے کی کوشش نظر آیا جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چاہے ان کی جان چلی جائے، وہ ملک لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اب اس جذباتی بیان کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ وزیراعظم کی جان کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ کیا احتساب کے شکنجے میں آنے والے ان کی جان لے لیں گے۔ جان کے درپے تو بھائی لوگ چیئرمین نیب کے ہیں، جنہوں نے گرفتاریوں کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں۔ ان کی جان تو نہیں لی جا سکی، البتہ آڈیو وڈیو سکینڈل کے ذریعے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش ضرور کی گئی۔ نوازشریف کہتے تھے جمہوریت کے لئے میری جان بھی چلی جائے، مجھے کوئی پروا نہیں، اور اب وزیراعظم عمران خان نے ایک نیا بیانیہ متعارف کرایا ہے۔ اب اس ٹائمنگ کا فیصلہ کس نے کیا کہ جس دن بجٹ کی سختیاں عوام کے کس بل نکالیں، اسی دن عمران خان کا یہ بیان بھی ہو کہ ”جان دے دوں گا، لٹیروں سے سمجھوتہ نہیں کروں گا“۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ بجٹ کے بارے میں عوام کے منفی ردعمل کو ایک جذباتی تقریر سے روکا جائے اور دوسرا یہ کہ آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری سے جو ماحول بنا ہے، اس کا کریڈٹ بھی لیا جائے۔

خیر بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہو چکا۔ اپوزیشن نے حسب معمول شور مچایا، بجٹ کی کاپیاں پھاڑیں، احتجاج کیا، لیکن بجٹ تقریر جاری رہی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں یہ دعویٰ کیا کہ اس بجٹ سے تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ بنیاد کیسے رکھ دی گئی ہے؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ پچھلے بجٹوں میں دی گئی مراعات بھی واپس لے لی گئی ہیں۔ کیا اسے تبدیلی کا نام دیا جائے؟ بڑے مگرمچھوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششوں کی نفی کرتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر نزلہ گرایا گیا ہے۔ پہلے قابل ٹیکس آمدنی 12لاکھ سالانہ سے زیادہ تھا، اب اسے چھ لاکھ روپے سالانہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی پچاس ہزار روپے مہینہ کمانے والا بھی ٹیکس نیٹ کے شکنجے میں کسا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گریڈ 17 سے 20تک کے ملازمین کی تنخواہیں 5فیصد بڑھائی گئی ہیں، سلیب کم کرنے سے اب وہ پانچ فیصد اضافے سے حاصل ہونے والی رقم میں پلے سے کچھ ڈال کر جان چھڑائیں گے۔ پچھلے پندرہ بیس برسوں میں ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم دس فیصد اضافہ ضرور کیا جاتا رہا ہے، کیونکہ جس تناسب سے افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے، اسی حساب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائی جائیں تو ان کے لئے شدید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس بار تو بجٹ میں سترہ سکیل والوں کو بھی امیر سمجھ لیا گیا ہے۔ پانچ فیصد اضافہ اور وہ بھی بنیادی تنخواہ میں، ایک بہت بڑا مذاق ہے۔ خیر یہ تو تنخواہ دار طبقے کی بات ہے۔ جو عام آدمی ہے اور محنت مزدوری کرکے اپنا اور خاندان کا پیٹ پالتا ہے، اسے کیا ریلیف دیا گیا ہے؟ کم از کم اجرت سترہ ہزار پانچ سو کرنا ایک احسن اقدام ہے، مگر کیا اس آمدنی میں کوئی خاندان زندگی گزار سکتا ہے،دوسرے یہ بھی ہر کسی کو نہیں ملتی، لوگ کم تنخواہ بھی قبول کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ 11کھرب اور بیس ارب روپے کے مزید ٹیکس اس پر نافذکئے گئے ہیں، کیونکہ گھڑے کی مچھلی وہی ہے۔ حکومت نے موبائل اور انٹرنیٹ سستا کر دیا ہے، جبکہ چینی، گوشت، دودھ غرض کھانے پینے کی اشیاء مہنگی کی ہیں، کیا یہی ہے نیا پاکستان کہ موبائل چلاؤ اور بھوک مٹاؤ۔

بجٹ میں کسی زاویئے سے بھی نظر نہیں آتا کہ اس کا فوکس عام آدمی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بجٹ میں ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ سب کو علم ہے کہ جب وہ اشیاء مہنگی ہوتی ہیں، جن پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے تو باقی اشیاء خود بخود مہنگی ہو جاتی ہیں۔ پٹرول پہلے ہی مہنگا کر دیا گیا تھا، اب باقی اشیاء بھی عوام کی پہنچ سے دور ہونے جا رہی ہیں۔ اب خود وزیراعظم عمران خان یہ کہنے لگے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ پاکستان کو ایک جھٹکے سے خوشحال بنا دوں۔ عوام تو ان کی طرف سے صرف یہی سنتے آئے ہیں کہ وہ آتے ہی نیا پاکستان بنا دیں گے۔ ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہو گا، لوگ ملازمتوں کے لئے بیرون ملک سے آئیں گے۔ دس ماہ سے یہ سارے دعوے پانی کا بلبلہ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اب یہ دعوے بھول کر عمران خان قوم کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ چاہے جان چلی جائے، کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اب یہ بھی عوام کی خواہش تو ضرور ہے کہ ہر بدعنوان سے لوٹی گئی دولت واپس لی جائے، لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ خود بھی یہ سب دیکھنے کے لئے زندہ رہیں۔ حکومت اگر ٹیکس پر ٹیکس لگاتی رہی تو عوام اپنی محدود آمدنی میں کیسے زندہ رہیں گے۔ دنیا بھر میں بجٹ کچھ اس طرح بنایا جاتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا ملتا ہے تو وہ مشکل دور گزار جاتے ہیں، جس کا حکمران تقاضا کررہے ہوتے ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ زور ہی بنیادی اشیاء پر ٹیکس لگانے کی حکمت عملی پر دیا جاتا ہے۔

اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حکومتیں بااثر طبقوں پر ٹیکس لگانے سے کتراتی ہیں اور سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیتی ہیں۔ اس بجٹ میں بھی یہی نظر آ رہا ہے۔ عوام کے استعمال میں آنے والی اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا اور یہ پہلو نظر انداز کر دیا گیا کہ آمدنی تو بڑھی نہیں تو ان بڑھی ہوئی قیمتوں پر عام آدمی روزمرہ اشیاء کیسے خرید سکے گا۔ یہ فیصلہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک طرف آپ لوگوں کو فائیلر بننے کی تلقین کررہے ہیں، دوسری طرف پچاس لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد بھی نان فائیلر کو خریدنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے حکومتی کمزوری کا تاثر ابھرتا ہے۔ صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کی فراہمی کے شعبوں کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ وہی معمول کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ ٹیکس بیس کو بڑھائے بغیرگیارہ کھرب 20ارب کے نئے ٹیکسوں کا نفاذ تو یہی ظاہر کرتا ہے کہ اس بار بھی ”مرے کو مارے شاہ مدار“ والی صورتِ حال ہے۔ وہی عوام جو ہر بار پستے ہیں، اس بار بھی پس گئے۔

وزیراعظم عمران خان نے بار بار اپنی اقتصادی ٹیم بدلی، لیکن اس کے باوجود روائتی بجٹ سے ہٹ کر بجٹ نہیں دے سکی۔ اس بجٹ میں ایسی کوئی صفت نظر نہیں آ رہی، جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ یہ بجٹ طبقاتی امتیاز کو ختم کرے گا اور یہاں امیر و غریب کے درمیان جو وسیع خلیج پیدا ہو چکی ہے، اسے کم کرنے میں کامیاب ہو گا۔ بجٹ میں تو کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی، البتہ رات گئے وزیراعظم عمران خان کے خطاب نے یہ پیغام دیا کہ قربانی دیں، مایوس نہ ہوں، تبدیلی آ رہی ہے اور اس کے لئے مضبوط بنیادیں رکھ دی گئی ہیں۔کیا وزیراعظم عمران خان کے پیغام سے عوام کی تشفی ہو جائے گی، جنہیں مہنگائی نے بے چین کر رکھا ہے۔

مزید : رائے /کالم