ضلع ناظم پشاور کا مون سون سیزن میں نکاسی آب کا تین مہینے خصوصی مہم کا فیصلہ

ضلع ناظم پشاور کا مون سون سیزن میں نکاسی آب کا تین مہینے خصوصی مہم کا فیصلہ

پشاور (سٹی رپورٹر) ضلع ناظم پشاور محمدعاصم خان نے مون سون سیزن میں نکا س آب کا مسئلہ حل کرنے اور صفائی یقینی بنانے کیلئے ڈبلیو ایس ایس پی تین مہینے خصوصی صفائی مہم شرو ع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں نکاس آب کے بڑے نالوں کی صفائی ، خالی پلاٹوں اور پوائنٹ پر پڑے گندگی کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانے، سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کی جائیگی جس کیلئے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ پشاور ڈبلیو ایس ایس پی کو خصوصی فنڈز د ینگے ،ضلع ناظم پشاورمحمدعاصم خان کی زیر صدارت تین مہینے صفائی کی خصوصی مہم کے حوالے سے اجلاس منعقد ہواجس میں ڈبلیو ایس ایس پی کے پلاننگ آفسران خواجہ زاہد حسین ، سعید خان ، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفئیر آفیسر جعفر خان ،ریجنل سپورٹس آفیسر محمد سلیم ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ریا ض خان ، ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر امیر خان ، ڈسٹرکٹ ممبران شمس الباری، لیاقت علی ، وسیم اکرم سمیت دیگر نے شرکت کی اجلاس میں شہر سے سالڈ ویسٹ ، نکاسی آب کے نالوں کی صفائی ، خالی پلاٹوں میں پڑے گندگی کے ڈھیراور سٹرکوں کے کنارے پڑے جگہ جگہ ڈمپنگ کومون سون سیزن شروع ہونے سے قبل تین مہینے کے اندر صاف کرنے اور ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیاگیاہے جس کیلئے اضافی 300 خاکروب ، 40 ڈرائیور ، 4 سپروائزر اور منی گاڑیاں کنٹریکٹ پر لیکر ڈبلیو ایس ایس پی عملہ کے ہمراہ خصوصی مہم چلائے جائیگی ، اور شہر کو یک مشت صاف کیاجائیگا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم محمدعاصم خا ن نے کہاکہ مون سون سیزن سے قبل شہرکی نکاسی آب کے نالوں کو صاف کرنے ، جگہ جگہ خالی پلاٹوں اور سڑکوں کے کنارے پوائنٹ پر پڑے گندگی کے ڈھیر کو خصوصی مہم کے دورا ن اٹھاکر ڈمپنگ گراﺅنڈ میں ٹھکانے لگایاجائیگا ،انہوں نے مون سون سیزن میں نکاسی آب کو یقینی بنانے کیلئے تین مہینے صفائی مہم اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ڈبلیو ایس ایس پی کی مہم کیلئے مالی معاونت کرے گی انہوں نے کہاکہ اس مہم سے صفائی کی صورتحا ل بھی بہتر ہوجائیگی جس سے صحت اورصفائی سمیت دیگر مسائل حل ہوجائینگے ، انہوں نے ڈبلیو ایس ایس پی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ گلی کوچوں ، سڑکوں اورخالی پلاٹوں میں پڑے گندگی کے ڈھیر کو اس مہم کے دوران اٹھاکر موسمی بیماریوں کی روک تھام میں ضلعی انتظامیہ کی ہمہ وقت ساتھ دیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر