اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام انشائیہ کے موضوع پر مذاکرہ کا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام انشائیہ کے موضوع پر مذاکرہ کا انعقاد

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام اردو ادب شاعری میں انشائیہ کے موضوع پر مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا جب کہ آخر میں عید ملن مشاعرہ بھی کیا گیا اس موقع پر کینیڈا میں مقیم معروف شاعر ی رحمن خاور نے صدارت کی، دیگر مقررین میں ڈاکٹر نثار احمد نثار تھے اس موقع پر سرور جاوید نے کہا کہ انشائیہ اس نصری صنف کا نام ہے جس میں انشائیہ نگار اسلوب کی تازہ کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشیا یا مظاہر کے مخفی مفاہیم کو کچھ اس طور گرفت میں لیتا ہے کہ انسانی شعور اپنے مدار سے ایک قدم باہر آکر ایک نئے مدار کو وجود میں لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ کئی انشائیہ نگار نے اپنے انشائئے میں داخل سے خار ج کا سفر اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے طع کیا اور ایسے موضوعات پر بھی انشائے تخلیق کئے جو روز مرح زندگی کے حوالے سے عام نوعیت کے حامل تھے ڈاکٹر نثار احمد نثار نے کہا کہ اردو ادب میں جب نئے خیالات کی وجہ سے مروجہ اضاف میں ہیت کی تبدیلیاں رونما ہوئی تو انشائیہ جیسی نئی صنف ادب کا بھی آغاز ہوگیا۔ ہر چند کے خیال کی نزاکت زبان کی سلاست اور احساس کی بلاغت اس نے شاعری سے حاصل کی اور ظاہری خدوخال رنگ روپ معنی آفرینی جزعیات نگاری اور بات کو کہانی کے انداز میں کہنے کا ڈھنگ فکشن سے لیا تاہم انشائیہ فکشن اور شاعری سے دور رہا کیوں کے اسکا اصلوب اپنا تھا۔اور اس میں طنز و مزاح کا سایہ خود پر بلکل نہ پڑنے دیا اور اس کی ہیت کی سطح نئی اور اپنی تھی۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ انشائیے کا کام یہ ہے کہ ہو سوچ کے لیئے غذہ مہیا کرے شے میں مضمر مخفی مفہوم کو سامنے لائے معنی آفرین کے عمل کو جنبش دے البتہ اس کے لیئے مکالات کی طرح دلائل وبراہین سے کام نہ لے انشائیہ میں سوچ قطعا پرسنل نوعیت کی ہوتی ہے اور بنیاد ی طور پر معنی آفرینی ہی میں اجاگر ہوتی ہے آج کے نئے دور کا انسان اپنے سے باہر ہی اپنے اند ر بھی ایک زندگی بسر کر ررہا ہے یہ اندر کی زندگی بھی اس کے تحفظ کی ضامن ہے جو اس زندگی کا فلفسہ عطا کرتی ہے۔ اور فکر کے چراغ روشن کرتی ہے۔ اس لیئے فکری زندگی کی توانائی اور بقا کے لیئے انشائیہ آج کے دور کی ضرورت ہے اس موقع پر عید ملن مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں معروف شاعروں نے کلام سنایا ان میں رحمن خاور۔ سرور جاوید۔ پروین حیدر۔ ڈاکٹر نثار احمد نثار۔ نصیر سومرو۔ اصغر خان۔ عارف شیخ عارف۔ دلشاد احمد دہلوی۔ حمیدہ کشش۔ عشرت حبیب ڈاکٹر رحیم ہمراز۔ عاشق شوقی۔ تنویر حسن سخن۔ افضل ہزاروی۔ مہتاب شاہ جی۔ اقبال سہوانی۔ ہدایت سائر۔ شگفتہ شفیق۔ شازیہ طارق۔ ارجمند خواجہ زیب النساء زیبی۔ شہناز رضوی۔ فرح دیبا، فرح کلثوم صدیق راز شامل تھے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر